قومیں عمارتوں ، میٹرو اور موٹرویز کی تعمیر کی بجائے علم و تحقیق پر سرمایہ کاری ..
تازہ ترین : 1

قومیں عمارتوں ، میٹرو اور موٹرویز کی تعمیر کی بجائے علم و تحقیق پر سرمایہ کاری سے ترقی کرتی ہیں ، نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی ،مرکز میں بر سر اقتدار آنے پر کرپٹ سیاستدانوں کا سخت احتساب کرینگے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ایڈوانسز ان کینسر اینڈ ہماٹالوجی کی دو روزہ قومی کانفرنس سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔30 جنوری۔2016ء ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں عمارتوں ، میٹرو اور موٹرویز کی تعمیر کی بجائے افراد اور علم و تحقیق پر سرمایہ کاری سے ترقی کرتی ہیں ۔ اگر ہم نے 21ویں صدی کے چیلنجزکا مقابلہ کرنا ہے تو اس کے لیے ایک واضح وژن کے ساتھ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔

مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے کے بعد ہم کرپٹ سیاستدانوں کا لوٹاہوا سرمایہ وطن واپس لا کر اسے تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کریں گے ۔ وہ ہفتہ کو خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں ایڈوانسز ان کینسر اینڈ ہماٹالوجی کی دو روزہ قومی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے علاوہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین ، کے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اﷲ ، آئی بی ایم ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جواد احمد ، پشاور اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلرز، فیکلٹی ، کانفرنس کے شرکاء اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعدادبھی موجود تھی ۔

عمران خان نے کہا کہ انہیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور نے مختصر عرصے میں صحت کے مختلف شعبوں میں ماہرین کی ایک تربیت یافتہ ٹیم تیار کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عمارتیں ، اورنج ٹرین اور میٹرو بنانا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے اصل کام انسانوں پر سرمایہ کاری ہے ۔ جرمنی اور جاپان کا انفراسٹرکچر دوسری جنگ عظیم میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھالیکن جب انھوں نے افراد پر سرمایہ کاری کی تو ہ دس پندرہ سالوں کے اندر اندر نہ صرف پہلے سے بہتر انفراسٹرکچر بنانے میں کامیاب ہو گئے بلکہ ان کا شمار معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہونے لگا ۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر انھوں نے پشاور میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا جس میں قوم نے دل کھول کر عطیات دئیے اور الحمد اﷲ اس منصوبے کو بر وقت مکمل کر کے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا ۔ عمران خان نے کہا کہ کے ایم یو کاکینسر کی تشخیص اور علاج پر اس دورزوہ کانفرنس کا انعقاد ایک مستحق اقدام ہے ۔

ہمیں بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے سد باب او ر تشخیص پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اس ضمن میں کے ایم یوجو کام کر رہی ہے وہ لائق تحسین ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ان کی خصوصی ہدایات پر زیادہ تر توجہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات اور سرمایہ کاری پرمرکوز کر رکھی ہے اور انشاء اﷲ ان اصلاحات کے نتائج اور اثرات چھ ماہ کے اندر اندر پوری قوم اپنی آنکھوں سے دیکھے گی ۔

انھوں نے کہا کہ کے ایم یور کی تمام مالی اور تکنیکی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پوراکیاجائے گا اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت ہر ممکن فراخدلانہ تعاون فراہم کرے گی ۔ تقریب سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے خطاب کرتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہااور توقع ظاہر کی جاری دوروزہ کانفرنس کی سفارشات کو عوامی مفاد اور کینسر کی روک تھام کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔

قبل ازیں وائس چانسلر کے یم یو ڈاکٹر حفیظ اﷲ نے شرکاء کے سامنے کے ایم یو کی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ تقریب کے آخر میں عمران خان ، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور جہانگیر ترین نے کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین کو اعزازی شیلڈ ز دینے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف نرسنگ اینڈ پیرامیڈکل سائنسز کا سنگ بنیاد رکھا اور یونیورسٹی کے سبزہ زار میں پودالگا کر بلین سونامی ٹری مہم کا افتتاح کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 30/01/2016 - 21:31:21

اپنی رائے کا اظہار کریں