افغان حکومت ،عوام کو چارسدہ میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی کے دہشتگردی کا نشانہ ..

افغان حکومت ،عوام کو چارسدہ میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی کے دہشتگردی کا نشانہ بننے پربہت تشویش ہے، ڈاکٹر اشرف غنی

15سال پہلے کے افغانستان اور آج کے افغانستان میں زمین آسمان کا فرق ہے، جلال آباد میں باچا خان کی برسی پر منعقدہ اجتماع کے موقع پر خصوصی پیغام

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جنوری۔2016ء)افغانستان کے صدر ڈاکٹراشرف غنی نے کہا ہے کہ عظیم پشتون رہنما باچا خان نے پشتونوں میں تعلیم کے فروغ ، منفی رسومات کے خاتمے ، امن کے قیام اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے جدوجہد کرکے خطے کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ رکھے ہیں۔ تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ چارسدہ میں ان کے نام سے منسوب یونیورسٹی کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور کوشش کی جارہی ہے کہ پشتونوں کو علم اور امن سے محروم رکھا جائے تاہم اب حالات بہت بدل گئے ہیں اور دہشتگردی یا انتہا پسندی کے ذریعے خطے کے عوام کو مزید جاہل اور پسماندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے صوبہ ننگرہار کے دارلحکومت جلال آباد میں باچا خان کی 28 ویں برسی کی مناسبت سے ان کے مزار پر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نمائندہ وفد کے دورہ کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے اپنے ایک تحریری پیغام کے دوران کیا جو کہ ننگر ہار کے گورنر سلیم خان کندوزی نے پڑھ کر سنایا۔ اجتماع سے گورنر کے علاوہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات ارباب محمد طاہر خان خلیل ، این وائی او کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ ، ببرک میاں خیل ، اُستاد محمد انور سلطانی اور لال بادشاہ ازمون نے بھی خطاب کیا۔

افغان صدر نے اپنے پیغام میں باچا خان بابا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی سیاست ، انگریزوں سے آزادی اور افغان معاشرے کے اصلاح کی جدوجہد میں باچا خان بابا نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں تاہم وہ کئی دہائیوں تک اپنے نظریات کے ذریعے منظر عام پر چھائے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو ایک عظیم رہبر کی حیثیت حاصل ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ باچا خان بابانے تعلیم کے فروغ اور عدم تشدد کی پرچار کیلئے سکول قائم کیے۔ وہ بری رسومات کے خاتمے کیلئے عوام کے حجروں پر گئے اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ تعلیم ، شعور اور اجتماعی ترقی کے بغیر قوموں کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب حالات بہت بدل گئے ہیں۔ پندرہ سال قبل کے افغانستان اور آج کے افغانستان میں بہت نمایاں فرق ہے۔

اس وقت لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن میں ایک ملین سے زیادہ طالبات بھی شامل ہیں ۔ ہم اپنی سرزمین پر اندھیروں کو پھر سے پھیلنے نہیں دینگے۔اُنہوں نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر کرائے گئے حملے نے افغان عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ جس شخصیت نے خطے میں تعلیم اور امن کے قیام کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں ان کے نام سے منسوب ادارے کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔

افغان صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ امن کے قیام ، رواداری کے فروغ اورپڑوسیوں کیساتھ اچھے تعلقات کیلئے باچا خان کی تعلیمات اور نظریات سے استفادہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ افغانستان اس عظیم ہستی کی تعلیمات کی روشنی میں امن ، ترقی اور استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور ہماری کوشش ہوگی کہ خطے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے۔

برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ارباب طاہر خان خلیل اور سنگین خان ایڈوکیٹ نے افغان حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان بابا اور ولی خان بابا کے پیروکار ان کے مشن اور نظریات کے ذریعے امن کے قیام اور تعلیم کے فروغ کے لیے تمام تر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اُنہوں نے نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے وفد کے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر افغان حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے پشتونوں کو ایک جیسے مسائل اور چیلنجزکا سامنا ہے اور ان سے نمٹنے کیلیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ اپنے مقاصد کی حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔

اُنہوں نے کہا کہ افغان پالیسی کے بارے میں اے این پی کا موقف حقائق پر مبنی اور واضح ہے اور اس مقصد کیلئے اے این پی بہت سی قربانیاں بھی دیتی آئی ہے ۔

وقت اشاعت : 29/01/2016 - 20:51:38

اپنی رائے کا اظہار کریں