پسکو پشاور سرکل کے ساڑھے چارارب روپوں کے بقایاجات کی ادائیگی کے لئے منقطع شدہ ..
تازہ ترین : 1

پسکو پشاور سرکل کے ساڑھے چارارب روپوں کے بقایاجات کی ادائیگی کے لئے منقطع شدہ صارفین کو آخری نوٹس

پشاورسرکل میں ہی 16 ہزار گھریلو صارفین کی طرف 4 ارب 52 کروڑ روپے واجب الادا ہیں جن کوبجلی کی فراہمی منقطع کردی گئی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 جنوری۔2016ء)پسکو نے اربوں روپوں کے بقایاجات کی وصولی کے لئے اہم اقدامات اٹھانے شروع کردئیے ہیں جن کے تحت بقایاجات کی وصولی کے لئے ناہندہ صارفین کو آخری نوٹسز بھیج دئیے گئے ہیں اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ان کے نام نیب کو دئیے جائیں گے جو کہ واجبات کی وصولی کے لئے سخت کاروائی کرے گی․پسکو نے نادہندہ صارفین کو بقایاجات کی ادائیگی کے لئے کئی بارنوٹسز دئیے لیکن اس کے باوجود نادہندہ صارفین بقایاجات کی ادائیگی میں ناکام رہے ․صرف پشاورسرکل میں ہی 16 ہزار گھریلو صارفین کی طرف 4 ارب 52 کروڑ روپے واجب الادا ہیں جن کوبجلی کی فراہمی منقطع کردی گئی ہے اورآخری کاروائی کے طورپر نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999 کے تحت نوٹسزدے دئیے گئے ہیں کہ یہ صارفین فوری طورپرواجب الادا رقوم فردا فردا جمع کردیں بصورت دیگر ان کے نام نیب کو بھیج دئیے جائیں گے جو کے ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرے گی جو کہ ان کی گرفتاری ,جرمانے کے علاوہ قیدوبند بھی ہوسکتی ہے․واضح رہے کہ ان 16 ہزار نادہندہ صارفین میں سے چند کے نام یہ ہیں․ عبدالستار سکنہ ولی آباد باغبانان اور ولایت شاہ سکنہ پھندوپایاں کے ذمے پسکو کے تقریبا 16 لاکھ روپے, حاجی ملتان ولدملک رمضان زریاب کالونی پشاورکے ذمے تقریبا 14 لاکھ روپے, محمدکریم سکنہ گڑھی فیض اﷲ کے ذمے پسکو کے تقریبا 9 لاکھ روپے,گل محمد گڑھی احمدمیرہ سوری زئی کے ذمے تقریبا 8 ,لاکھ روپے اورمحمدلائق خان ناصرپور پشاورکے ذمے تقریبا 7 لاکھ روپے واجب الادا ہیں․ اربوں روپے کے واجبات صرف پشاورسرکل کے ایسے صارفین ہیں جن کے ذمے پسکو کے ایک لاکھ یا اس سے زائد روپے واجب الادا ہیں ․آنے والے دنوں میں مزید سرکلز کے نادہندہ افراد کے نام اورتعداد اورواجب الادا رقوم کی تفصیل اورنادہندہ افراد کے نام اخبارات کو جاری کئے جائیں گے․ واضح رہے کہ بھاری واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پسکو کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو بہترسہولیات کی فراہمی میں رکاوٹ آرہی ہے اور خسارے میں اضافہ کا بھی سبب بن رہا ہے․

وقت اشاعت : 29/01/2016 - 19:15:34

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں