عمران خان اپنی حکومت کی تقلید میں کاریڈور کے ایشو پر واضح موقف اپنائیں ‘ میاں ..
تازہ ترین : 1

عمران خان اپنی حکومت کی تقلید میں کاریڈور کے ایشو پر واضح موقف اپنائیں ‘ میاں افتخار حسین

کاریڈور پر سب سے مؤثر اور پہلی آواز اے این پی ہی نے اُٹھائی تھی ، مغربی روٹ کیلئے سب کا ساتھ چلنا وقت کی ضرورت ہے

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 جنوری۔2016ء)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ وزیرستان اپریشن کے بعد ملک میں جو عارضی امن قائم ہوا ہے اس کے لیے دیگر کے علاوہ وزیرستان کے عوام نے بڑی قیمت چکاتے ہوئے بے مثال قربانیاں دی ہیں تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کی واپسی اور بحالی کیلئے وہ کوششیں نظر نہیں آ رہی ہیں جو کہ ہونی چاہئیں تھیں اور جن کے عوام کے ساتھ وعدے کیے گئے تھے۔

وفاقی ، صوبائی حکومتیں لاتعلقی پر مبنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ اگر یہ رویہ تبدیل نہیں کیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام شدت پسندوں کے ساتھ بلا امتیاز کارروائیاں تیز نہیں کی گئیں تو قبائلی عوام کا احساس محرومی منفی رجحانات میں تبدیل ہو جائیگا اور عارضی امن کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ڈاگ اسماعیل خان نوشہرہ میں منتخب بلدیاتی نمائندوں ملک یحییٰ خان ، شبیر خان اور بعض دیگر کی اے این پی میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور دیگر ریاستی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ پنجاب اور دیگر علاقوں تک نہیں پھیلایا اور متاثرین وزیرستان کی مکمل بحالی، تعمیر نو اور فوری واپسی کو یقینی نہیں بنایا تو عارضی امن کا مستقبل سوالیہ نشان بن جائیگا اور شدت پسندوں کو پھر سے متحد ہونے کا موقع مل جائیگا۔

اُنہوں نے کہا المیہ یہ ہے کہ اے پی ایس واقعے کے بعد جن اداروں اور پالیسیوں کے وعدے کیے گئے تھے ان پر پوری طرح عمل نہیں ہوا۔ کاریڈور کے ایشو پر بات کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی ہی نے ابتداء سے مختلف فورمز پر مغربی روٹ کی تعمیر کا ایشو اُٹھا کر واضح انداز میں موقف اپنایا کہ مغربی روٹ کی تعمیر پر کسی قسم کی سودے بازی یا مصلحت برداشت نہیں کی جائیگی اور اب بھی ایک متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا یہ بات خوش آئند ہے کہ صوبائی حکومت سمیت دیگر سیاسی قوتیں اس معاملے پر متحد ہو گئی ہیں۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور بلوچستان کو اعتماد لیکر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلائے تاکہ چھوٹے صوبوں کے مفادات کا حکومتوں کی سطح پر تحفظ کیا جائے اور اس منصوبے سے استفادہ کیا جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت کے موقف کو سراہتے ہیں تاہم پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کو اس اہم ترین ایشو پر واضح سٹینڈ لیکر اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اگر اُنہوں نے پنجاب کے اپنے ووٹ بینک کیلئے مصلحت سے کام لیا تو اس سے بہت سے سوالات سر اُٹھائیں گے اور صوبائی حکومت کا موقف وہ اثر نہیں ڈالے گا جس کی صوبے کے عوام اور اجتماعی مفادات کو ضرورت ہے۔اُنہوں نے بلدیاتی نظام سے متعلق حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی بدنیتی ، غیر جانبداری اور منفی رویے کے باعث اس نظام کی ناکامی پر تلی ہوئی ہے۔

وسائل اور اختیارات کی منتقلی میں مسلسل تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔ منتخب نمائندے وسائل اور دفاتر سے محروم ہیں اور اس کا نتیجہ ہے کہ ان کا اپنا وضع کردہ نظام ناکامی سے دوچار ہونے لگا ہے۔ پبی میں تجاوزات کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ حکومت اس کی آڑ میں عام لوگوں کو زیادتی کا نشانہ بننے اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو نوازنے نہیں دینگے۔ اس لیے حکومت میرٹ سے کام لیکر کسی قسم کی مہم جوئی سے گریز کرے۔ قبل ازیں شمولیتی اجتماع سے سابق صوبائی وزیر اقبال حسین خٹک اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/01/2016 - 21:43:54

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں