پاکستان تحریک انصاف کا بلوچستان کی سیاسی قیادت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز ..
تازہ ترین : 1

پاکستان تحریک انصاف کا بلوچستان کی سیاسی قیادت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کافیصلہ

وفاقی حکومت جن آٹھ صنعتی زونزکو راہداری منصوبے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ دراصل صنعتی ترقی کیلئے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے اپنے منصوبے ہیں اور ان پر پہلے سے کام جاری ہے،،وزیراعلی خیبرپختونخواپرویزخٹک

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 جنوری۔2016ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے دس جنوری کو بلوچستان کی سیاسی قیادت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ہمراہ شرکت کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور وفاقی حکومت کے پلاننگ کمیشن کے اس دعوے کو یکسر مسترد کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا میں آٹھ صنعتی زون قائم کئے جائیں گے وزیراعلیٰ نے حقیقی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت جن آٹھ صنعتی زونزکو راہداری منصوبے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے وہ دراصل صنعتی ترقی کیلئے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے اپنے منصوبے ہیں اور ان پر پہلے سے کام جاری ہے اور صوبائی حکومت نے ان سپیشل اکنامک زونز کیلئے فنڈز بھی جاری کئے ہیں اُنہوں نے کہاکہ خصوصی صنعتی زون قائم کرنے کے منصوبے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شروع کئے ہیں اور ان زونز کو کامیاب بنانے کے لئے جامع صنعتی پالیسی بھی مرتب کی ہے جس کے تحت صنعتکاری کیلئے پرکشش ترغیبات اور سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ان میں سے ایک خصوصی زون کا افتتاح بھی حال ہی میں اُنہوں نے خود حطار میں کیا ہے وہ جمعہ کے روز حکیم آباد نوشہرہ میں معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور چیف آف حکیم آباد گلریز حکیم خان اور اُنکے پورے خاندان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب اور بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین ، ضلع ناظم نوشہرہ، لیاقت خٹک، رکن صوبائی اسمبلی ادریس خان خٹک، ضلع نائب ناظم اشفاق خان خٹک و دیگر رہنما بھی موجود تھے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے پہلے سے شروع کئے گئے ان منصوبوں کو وفاقی حکومت کس طرح پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ ظاہر کر رہی ہے؟ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ صوبے میں تمام خصوصی اکنامک زون خیبرپختونخوا حکومت کی اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے قائم کئے جارہے ہیں اور ان میں سے بیشتر کیلئے صوبائی حکومت نے اراضی بھی حاصل کرلی ہے وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کے دعوے کو اس لحاظ سے بھی مضحکہ خیزقرار دیا کہ وفاقی حکومت جن منصوبوں کی دعویدار ہے ان میں سے بعض منصوبے ایسے علاقوں میں ہے جوراہداری پر سرے سے واقع ہی نہیں اور ان میں سے ایک منصوبہ چترال میں بھی ہے وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے سے وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ دھوکہ کررہی ہے اور اس منصوبے کے تمام فوائد پنجاب کی جھولی میں ڈالے جارہے ہیں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری پر ہماراموقف بالکل واضح ہے کہ جو سہولیات پنجاب میں سنٹرل کوریڈور کو حاصل ہیں وہی سہولیات خیبر پختونخوا کی مغربی شاہراہ کو بھی دینی پڑیں گی ہم مزید زبانی کلامی باتوں پر یقین نہیں کریں گے ہمیں مسلسل ڈھائی سال تک اندھیرے میں رکھاگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ پہلے مغربی روٹ پر کام شروع ہوگا لیکن بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ مغربی روٹ کے حوالے سے نہ کوئی دستاویزات موجود ہیں اور نہ ہی اس روٹ پر عملی طور پر کوئی کام ہواانہوں نے کہاکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے بھی دوٹوک بات کی کہ ہمیں صرف سڑک نہیں چاہیے بلکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو وہی مراعات اور سہولیات دینا ہوں گی جو پنجاب کو دی گئی ہیں بجلی ۔

آپٹک فائبر، سوئی گیس، ایل این جی سمیت تمام مراعات دینی ہوں گی۔احسن اقبال کی میٹنگ نے ہمارے تحفظات دور نہیں کیے اور ہمیں سارے گول مول جواب دئیے اس میں وہ کوئی بات سامنے نہیں آئی جس کا وزیر اعظم نواز شریف نے وعدہ کیاتھا۔ گزشتہ روز کی آل پارٹی کانفرنس میں یہی متفقہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ اگر مغربی روٹ پر جلد از جلد کام شروع نہیں ہوگا اور جو مراعات اور سہولیات اس روٹ کو نہیں دی جائیں گی تو اپنے حق کے لیے ہمیں متفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا اور ہمیں اپنا حق لیناآتا ہے اور اس کے لیے اور آگے جانے کے لیے تیار ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ راہداری منصوبے پر تمام سیاسی پارٹیاں ایک پیج پر ہیں اورخود مسلم لیگ (ن) کو بھی مغربی روٹ کے حوالے سے وفاقی حکومت کے طرز عمل پر تحفظات ہیں اور مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی قیادت نے جے یو آئی (ف) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی کیے انہوں نے کہ ہم سب صوبے کے حقوق کے ایک نکاتی ایجنڈے پر اسمبلی کے اندر تمام پارٹیاں اور پارلیمانی لیڈر متفق ہیں ہمارا حق بالکل جائز ہے یہ تو وزیر اعظم نے سرعام تسلیم کیا ہے کہ وہ تمام صوبوں کومساوی حق دیں گے اور مغربی روٹ پہلے بننے کااعلان کیاتھا۔

پرویز خٹک نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک کنال کا منصوبہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے اور 1992 کے واٹر ایکارڈ میں فیصلہ ہوا تھا کہ جس صوبے کا اضافی پانی سمندر میں جارہا ہے اُس صوبے کو وفاقی حکومت نے ایک پراجیکٹ دینا تھا باقی تینوں صوبوں کو پراجیکٹ مل چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے صوبے کو اس طرح کاپراجیکٹ نہیں دیا گیا جو ایک بہت بڑ ی سازش ہے کیونکہ ہمارا صوبہ بھی اس کینا ل سے ہمارے صوبے کی بنجر زمین کو آباد کیا جانا تھا جس سے صوبے کے علاوہ پورے ملک کو بھی فائدہ ہوتا اور ملک کو اناج میں خود کفیل کرنے کیلئے یہ پراجیکٹ اپنا اہم کردار ادا کرتا وزیراعلیٰ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اے پی سی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وعدہ کیا تھا کہ اس سال چشمہ رائٹ بنک کینال پر کام شروع ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہواپرویز خٹک نے بجلی اور گیس کے خالص منافع کے حوالے سے بتایا کہ بجلی کے حوالے سے وفاقی وزیر پانی و بجلی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

وہ اس سلسلے میں ہمارے موقف سے متفق ہیں لیکن ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے بجلی منافع کی مد میں 120ارب روپے طویل عرصے سے واجب الادا ہیں اور سالانہ منافع کے حوالے سے بھی ہم کیس جیت چکے ہیں جوچھ ارب سے بڑھ کر 18 ارب 70 کروڑ ہو چکا ہے اورمجھے امید ہے کہ خیبرپختونخوا کو اس ادائیگی کا فیصلہ بہت جلد ہوجائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم صنعتی بستیوں کوسستی بجلی فراہم کریں گے اور بستیوں کے اندر بجلی پیدا کریں انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو مرکزی گرڈ سے بجلی کا پورا کوٹہ نہیں مل رہا اورمرکز یومیہ چھ سو میگا واٹ بجلی خیبرپختونخوا کے کوٹہ سے چوری کررہا ہے یہ سلسلہ 2008 سے جاری ہے ۔ صوبے کاپورا کوٹہ ہمارا آئینی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں پوری قوم کو بتادیا چاہتا ہوں کہ لوڈ شیڈنگ اس وجہ سے ہورہی کہ وفاق ہمارے حق پر ڈاکا ڈال رہا ہے اور بجلی چوری کررہا ہے وزیراعلیٰ نے اس موقع پاکستان تحریک انصاف کے وژن اور صوبائی حکومت کی گزشتہ ڈھائی سال کی کارکردگی اور اصلاحاتی ایجنڈے کے حوالے سے کہاکہ ہماری حکومت نے صحت، تعلیم، پولیس اور دیگرشعبوں میں عوام کی صحیح خدمت کرنے کی غرض سے نمایاں اصلاحات کی ہیں جس کا مقصد غریب آدمی کو محکومیت سے آزاد کرنا ہے تاکہ تھانہ کچہری میں سیاسی شخصیات کی منت سماجت اور رشوت سفارش کا کلچر ختم ہو جائے جبکہ تعلیمی نظام میں بھی کافی بہترئی لائی ہے اور اب اساتذہ کی ترقی کو کارکردگی سے مشروط کیا ہے اُنہوں نے کہاکہ ہسپتالوں میں خود مختار بورڈ بنائے جارہے ہیں انہوں نے کہ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ اس کو گزشتہ حکومتوں میں سیاستدانوں نے ہی تباہ و بربادکیا ہے اور قوم کو انصاف نہیں دلا سکے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/01/2016 - 21:04:32

اپنی رائے کا اظہار کریں