2016میں گھریلوتشدد اورمسائل کا شکار 720خواتین نے مختلف سرکاری اداروں میںپناہ لی
تازہ ترین : 1

2016میں گھریلوتشدد اورمسائل کا شکار 720خواتین نے مختلف سرکاری اداروں میںپناہ لی

ملتان۔21 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 دسمبر2016ء)رواں برس کے دوران بھی مختلف خواتین گھریلوتشدداورمسائل کاشکاررہیں جس کے باعث انہیں مختلف سرکاری اداروں میں پناہ لیناپڑی ۔ان میں غیر شادی شدہ خواتین کے علاوہ طلاق یافتہ خواتین اوران کے بچے بھی شامل ہیں ۔یہ خواتین مختلف گھریلوجھگڑوں کے باعث عدالتوں سے رجوع کرنے پرمجبورہوئیں ۔جس کے بعد انہیں ان اداروں میں پناہ دیدی گئی ۔

اس کے علاوہ گھروں سے بھاگے ہوئے ،لاوارث اورگم شدہ بچوں کو بھی پناہ دی گئی ۔2016کے اعدادوشمار کے مطابق اس برس کے دوران سرکاری اداروں میں 720خواتین نے پناہ لی ۔207خواتین کو مختلف نوعیت کے تشدد کے حوالے سے قانونی امداد فراہم کی گئی ۔گمشدہ وفرار43بچوں کو والدین کے حوالے کیاگیا۔نومولودلاوارث 108بچوں کو پناہ دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر کے ذیلی ادارے دارلامان ملتان میں جنوری 2016سے دسمبر تک 720خواتین نے 165بچوں سمیت پناہ لی ۔

جبکہ 683خواتین کورٹ میں جاری مقدمات کی معینہ مدت پوری کرنے کے بعد 152بچوں سمیت ورثاء کے حوالے کی گئیں جبکہ اس وقت 37خواتین اور13بچے رہائش پذیرہیں ۔گھریلوجھگڑوں وتشددکی شکار خواتین کوقانونی تحفظ فراہم کرنے والے ادارے شہیدبے نظیرومن کرائسز سنٹرملتان میں جنوری 2016سے اب تک کل 207کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 189کیسزحل ہوچکے ہیں ،8کیسز کونسلنگ (مصالحتی عمل )میں ہیں جبکہ 10کیسز کورٹ میں تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔

ملازمیت پیشہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کیلئے بنائے جانے والے ڈے کیئر سنٹرمیں سال بھر میں 6بچے داخل ہوئے ۔اسی طرح گمشدہ ،فرار،لاوارث بچوں کو پناہ دینے والے نگہبان سنٹرمیں سال بھر میں 43بچوں کوتحویل میں لیاجن کوقانونی کاروائی کے بعدورثاء کے حوالے کردیاگیا۔جبکہ ادارہ کی کارکردگی کومزید بڑھانے کیلئے چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئر بیورو ملتان میں ضم کرنے کی بھی تجویزڈائریکٹوریٹ آفس لاہور بھجوائی گئی ہے۔نومولو لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کیلئے بنائے جانے والاادارہ گہوارہ سنٹرنے 2008سے لے کر اب تک 108بچوں کوتحویل میں لیا۔کچھ بچے ورثاء اورکچھ بچے بے اولاد جوڑوں کوسونپاگیاجبکہ اس وقت 3بچے ادارے میں مقیم ہیں ۔
وقت اشاعت : 21/12/2016 - 20:53:42

اپنی رائے کا اظہار کریں