پاناما کیس میں مسلم لیگ ن اخلاقی طور پر کمزورہوئی ہے، مسئلے کو سیاسی طور پر حل ..
تازہ ترین : 1

پاناما کیس میں مسلم لیگ ن اخلاقی طور پر کمزورہوئی ہے، مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے، وزیراعظم اور عمران خان پارلیمنٹ کو عزت دیں، نئے صوبے بننے سے پاکستان مضبوط ہوگا

سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کا ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاء سے خطاب

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 دسمبر2016ء)سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ پاناما کیس میں مسلم لیگ ن اخلاقی طور پر کمزورہوئی ہے، جبکہ مسئلے کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے۔ نئے صوبے بننے سے پاکستان مضبوط ہوگا، بھارت اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں نئے صوبے بنائے جارہے ہیں جس سے ان ممالک میں ترقی ہوئی ہے۔ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاء سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاویدہاشمی نے کہا کہ وزیراعظم اور عمران خان پارلیمنٹ کو عزت دیں، پارلیمنٹ میں جائیں اور بلوچستان کے مسائل کو حل کیا جائے ورنہ تحریکیں چلیں گئیں تو کہا جائے گا کہ انڈیا کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس میں مسلم لیگ ن اخلاقی طور پر کمزور ہوئی ہے،اس مسئلے کو سیاسی طور پرحل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بد قسمتی سے سیاسی جماعتیں ہی نہیں ہیں۔اداروں کو اختیارات دیے جائیں۔ صوبے بنا کر مسائل کو حل کیا جائے۔صوبے کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے،دنیا میں جہاں بھی صوبے بنے وہاں ترقی ہوئی ہے۔دوران تقریر مخدوم جاوید ہاشمی نے ملک میں آمریت کو تنقید کا نشانا بنایا تو ایک سنئیر وکیل شمس القمر خٹک کھڑے ہوگئے اور جاوید ہاشمی کوسخت تنقید کا نشانا بنایا۔

القمر خٹک کا کہنا تھا کہ آمریت سے ہماری جان چھوٹ جائے گی لیکن آپ سے اور گیلانی سے کب چھوٹے گی۔ وکیل کے تنقید کے بعد جاویدہاشمی تقریر چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئے، تاہم بار عہدیدار اور سنئیر وکلاء نے بیچ بچاؤکرکے معاملے کو رفع دفع کرادیا۔بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا اپوزیشن کا حق تھا، انہوں نے درست انداز میں اپوزیشن کرنے کا حق ادا کیا ہے، جاوید ہاشمی کا کہنا تھا اسپیکر غیر جانبدار ہوتا ہے ہر ایک کو بات کرنے کی اجازت دینی چاہیے،تحریک انصاف کا ایوان میں احتجاج ان کا حق تھا لیکن اسپیکر نے اپوزیشن کی آواز دبا کر اپنے قد کو عوام میں کم کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عوام کی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے،پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے بیٹھے ہیں،حکومتی ارکان کو اپوزیشن کی بات کا بھی پاس رکھنا چاہیے،ان کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے،وزیر اعظم نے عوام کی عدالت پارلیمنٹ میں جواب دیا تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/12/2016 - 18:16:00

اپنی رائے کا اظہار کریں