انتہا پسندی کیخلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کیلئے وسیع حکمت عملی کی ..
تازہ ترین : 1

انتہا پسندی کیخلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کیلئے وسیع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے‘ بلاول بھٹو

انتہا پسندی کیخلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کیلئے وسیع حکمت ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف صرف فوجی حل پر نہیں بلکہ اس کے خاتمے کے لیے وسیع حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے،ہمیں مجموعی طور پر ایسی اپروچ کی ضرورت ہے جس میں صرف توجہ دہشتگردی پر نہ ہو بلکہ انتہا پسندی کے خاتمے پر بھی توجہ ہو،ریاست کو چیلنج کرنے والوں اور اس کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے عسکری طور پر نمٹنا چاہیے لیکن دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بھی وسیع حکمت عملی کی ضرورت ہے،میں جانتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کے آئیڈیلز پر قائم ہوں اور ان کے لیے لڑوں گا اور ان کے لیے جان بھی دوں گا،مجھے اپنے سیاسی کریئر کے بارے تشویش نہیں کیونکہ مجھے کوئی جلدی اور کوئی پریشانی نہیں، میں 29 برس کا ہوں اور میں اس عمل میں طویل مدت کے لیے ہوں۔

بی بی سی کو انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی ختم کرنے کے لیے تعلیم،، نصاب، پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ سب کو مساوی معاشی مواقع حاصل ہوں اور یہ ایک جامع پیکج ہے جو پیپلز پارٹی دے سکتی ہے۔اپنی والدہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پرویز مشرف نے میری والدہ کو دھمکی دی تھی اور اس حوالے سے گواہ بھی ہیں جنہیںعدالت میں پیش کیا گیا۔

بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ پرویز مشرف نے کہا کہ وہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں لیکن وہ واپس آ کر عدالت میں الزامات کا سامنا کیوں نہیں کرتی بلاول نے کہا کہ صرف میری والدہ کے قتل کے کیس میں ہی انہیںملزم نہیں ٹھہرایا گیا بلکہ ان پر بلوچستان کے سابق وزیراعلی پر بمباری اور قتل کا الزام ہے، غداری کا الزام بھی ہے لیکن وہ کسی مقدمے میں بھی پیش نہیں ہو رہے۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بینظیر قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ اسی دوران ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان اقوام متحدہ کے پاس تحقیقات کے لیے گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملزمان کے خلاف کیس بہت مضبوط ہے بلکہ آپ کے ادارے کی اپنی تحقیقات میں بھی یہی کہا گیا۔ حقائق یہ ہیں کہ اسی کیس میں ڈی این اے شواہد کو نظر انداز کیا گیا اور یہ بہت سنگین الزام ہے۔

ہماری حکومت ختم ہونے کے بعد مشرف کے خلاف مضبوط کیس کے پراسیکیوٹر کو قتل کر دیا گیا جبکہ کیس کے دوران سات بار جج تبدیل ہوئے۔بلاول نے کہا کہ قانون کے تحت اس مقدمے کا دو ہفتوں میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا لیکن اس کو دس برس لگے اور سچ ہے کہ یہ انصاف کا تمسخر تھا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ اس وقت چند حکومتی ورزا ء نے انٹرویو دینے سے انکار کیا تھا تو اس سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں اس سے انکار نہیں کروں گا۔

حکومتی وزرا ء تھے اور ہم ان انفرادی شخصیات کو پیش کرنے میں ناکام رہے جن کو وہ چاہتے تھے کہ پیش کیا جائے لیکن اس کے ساتھ رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ انفرادی شخصیات تک رسائی حاصل نہ ہونے سے اس رپورٹ تیار کرنے کی اہلیت پر اثر نہیں پڑا ہے۔۔پیپلز پارٹی کو ذاتی جاگیر کے طور پر چلانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے اسے الزام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کسی حد تک تمام سیاسی جماعتوں کا خاندانی سیاست پر انحصار ہے۔

میں اس کی خوبیوں اور نقائص پر بحث نہیں کروں گا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے خاندانی سیاست کا راستہ خود اپنی مرضی سے منتخب نہیں کیا، میرے نانا اور والدہ کو قتل نہ کیا جاتا تو میرے نانا سیاستدان ہوتے اور میری والدہ دفتر خارجہ میں ہوتیں اور میں اب بھی طالب علم ہوتا۔۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں دوسری سیاسی جماعتیں جو خاندانی سیاست پر انحصار کرتی ہیں وہ قتل کی تکلیف سے نہیں گزری ہیں لیکن پھر بھی بھائی، بہنیں اور دیگر شو چلا رہے ہیں۔

پاکستان کا وزیراعظم بننے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب بلاول نے کہا کہ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ انہیںاپنے نظریات اور مقاصد حاصل کرنے ہیں اور یہ وزیراعظم بننے کی خواہش نہیں ہے۔۔پاکستان کی عوام ایسے ترقی پسند ملک کے مستحق ہیں جہاں انہیں بلاتفریق مساوی حقوق حاصل ہوں۔۔جرمنی ٹی وی ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ظاہر ہے کہ میری والدہ بینظیر بھٹو کے قتل نے نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ پاکستان کی اجتماعی سیاست میں بھی ایک بڑا خلا چھوڑا ہے۔

نہ صرف بینظیر کا قتل بلکہ اس وقت پاکستان کی سیاست کا ماحول انتہا پسندی، بے جا طرف داری اور نفرت پر مبنی سیاست سے بھر گیا ہے اور میں نے اس سرگرمی میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔اس سوال پر کہ پیپلز پارٹی کی سابق رہنما ناہید خان نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی کی قیادت کو صرف اقتدار سے غرض ہے اور اس نے اپنے نظریات کو ترک کر دیا ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ان سے اتفاق نہیں کروں گا، وہ ہماری مخالف ہیں اور انہوںنے ہمارے خلاف الیکشن لڑا اور انہیںتنقید کا حق حاصل ہے تاہم پیپلز پارٹی اب ابھی پوری طرح اپنے اسی نصب العین پر قائم ہے اور میں جانتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کے آئیڈیلز پر قائم ہوں اور ان کے لیے لڑوں گا اور ان کے لیے جان بھی دوں گا۔

پیپلز پارٹی میں آصف علی زرداری کے اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوری جماعتوں میں آپ اکٹھے کام کرتے ہیں اور اتفاق رائے سے فیصلے کرتے ہیں۔میں اور میرے والد فیصلے نہیں دیتے بلکہ ہماری سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی ہے جو کہ جماعت کی پالیسی بناتی ہے اور تنقید کرتی ہے اور ہم اس پالیسی کی تعمیل کرتے ہیں۔۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں تک میرے سیاسی کریئر کے بارے میں تشویش کی بات ہے تو مجھے کوئی جلدی نہیں اور کوئی پریشانی نہیں، میں 29 برس کا ہوں اور میں اس عمل میں طویل مدت کے لیے ہوں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 19/04/2018 - 12:51:24

اس خبر پر آپ کی رائے‎