کرپشن داعش سے بھی بڑا خطرہ ،داعش ٹینک اور توپوں کا نہیں‘سکیورٹی اداروں کی انٹیلی ..
تازہ ترین : 1

کرپشن داعش سے بھی بڑا خطرہ ،داعش ٹینک اور توپوں کا نہیں‘سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس کارکردگی کا معاملہ ہے ‘ پانی وبجلی کے محکمے میں 10کھرب74ارب کی کرپشن ہوئی،صرف 5ارب کی ریکوری سے ثابت ہوگیا‘نیب کا ادارہ بھی ناکام ثابت ہورہا ہے ،حکومتیں اعلانات اور وعدے تو کرتی ہیں لیکن عام آدمی کی زندگی کوئی انقلاب اور تبدیلی نہیں آئی

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی میڈیا میں بات چیت

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کرپشن داعش سے بھی بڑا خطرہ ہے ،،داعش ٹینک اور توپوں کی جنگ کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے نبرد آزما ہونے کا انحصار سکیورٹی اداروں کی انٹیلی جنس کارکردگی پر ہے ،،پانی وبجلی کے محکمے میں 10کھرب74ارب کی کرپشن پر صرف 5ارب کی ریکوری کی جا سکی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب کا ادارہ بھی کرپشن کو پکڑنے اور ریکوری کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے ،حکومتیں اعلانات اور وعدے تو کرتی ہیں لیکن عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب یا تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی ڈگری ہولڈر بیروزگار، کسان کو خون پسینہ بہانے کے باوجود کچھ نہیں ملتا اور مزدور کی آمدنی اتنی ہے جس سے مہینہ بھی نہیں گزرتا ۔

وہ جمعہ کومنصورہ میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے قبل میڈیاسے گفتگو کر رہے تھے۔۔سراج الحق نے کہا کہ شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل اور خاص طو رپر عام آدمی جو مشکل سے دوچار ہے اس کے لئے آواز بلند کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی انصاف نہ ہونے کی وجہ سے آج معاشرے میں ڈپریشن اور غصہ ہے ، ہم منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ غریب آدمی کی آواز کو اٹھائیں ۔

بجلی کا بل اتنا آتا ہے کہ اسے دیکھ کر میرا بلڈ پریشر بھی بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں کرپشن عروج پر ہے ، ایک ذمہ دار آدمی اعتراف کررہا ہے کہ ملک میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے ۔ صرف وزارت پانی وبجلی میں 10کھرب 74ارب روپے کی کرپشن ہوئی اور پورے عرصے میں نیب 5ارب کی ریکوری کر سکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب بھی کرپشن کو پکڑنے اور ریکوری کرنے میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔

انہوں نے داعش کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ داعش سے بھی بڑا خطرہ کرپشن ہے ۔ داعش سے نمٹنا سکیورٹی اداروں کارکردگی پر منحصر ہے ، یہ ٹینک اور توپوں کی جنگ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معلومات اکٹھی کرنے اور انٹیلی جنس کی بنیاد کامعاملہ ہے ۔ جس ملک کے ادارے اورعوام بیدار ،منظم اور بہتر ہیں وہاں امن ہے جہاں لوگ اور حکومتیں سو رہے ہیں وہاں بد امنی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2016 - 19:29:08

اس خبر پر آپ کی رائے‎