چوہدری سرور نے محکمہ صحت کی ناکامیوں پر ’حقائق نامہ “جاری کر دیا
تازہ ترین : 1

چوہدری سرور نے محکمہ صحت کی ناکامیوں پر ’حقائق نامہ “جاری کر دیا

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔ یکم جنوری۔2015ء) تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور نے ”وزیراعظم قومی صحت پروگرام “کو ”سیاسی شعبدہ بازی “قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت میں حکومتی ناکاموں پر ”حقائق نامہ “جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال1لاکھ40ہزار کینسر کے مر یض سامنے آرہے ہیں‘پنجاب کے 23ٹیچنگ ہسپتالوں میں سے صرف4ہسپتالوں میں کینسر کے انتہائی ناقص یونٹ موجود ہیں اور درجنوں آسامیاں خالی ہیں ‘ پاکستان میں صحت کی عدم سہو لتوں کی وجہ سے روزانہ 1188 اور سالانہ 2لاکھ31ہزار 4سو ”مر جاتے ہیں ‘ پنجاب میں دوران زچگی 1لاکھ میں سے115سے زائد خواتین ہر سال بر وقت سہو لتوں کی فر اہمی نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتیں ہیں‘پنجاب میں 4کروڑ32لاکھ غر یب افراد کو صحت کی بنیادی سہو لتیں میسر نہیں ‘ پاکستان میں 20فیصد مر دخواتین دماغی بیماریوں اور 15فیصد شوگر کے مر یض ہیں انکے علاج کیلئے بڑی ہسپتالوں میں سہو لتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ‘ہسپتالوں میں کڈنی کے مر یضوں کیلئے 80فیصد ہسپتالوں میں مشین خراب ہیں ‘پنجاب میں کینسر کے مر یضوں کیلئے سر کاری ہسپتالوں سے ”دور بین “ڈاکٹرز تلاش کرنے پڑتے ہیں ‘ ایشاء کے سب سے بڑے سر کاری میو ہسپتال میں ایم آئی ار مشین ہی موجود نہیں ‘سر کاری ہسپتالوں میں 100میں سے صرف10مر یضوں کو مفت اودایات مل رہی ہے ‘پنجاب میں پنجاب کے2450بنیادی مراکز صحت میں سے 50فیصد سے زائد میں ڈاکٹر زکی کمی اور فری ادوایات نہ ہونے کے برابر ہیں‘حکو مت ”نئے نئے پروگراموں “ کی بجائے پہلے سے موجود سر کاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی فراہم یقینی بنائے ۔

جمعہ کے روز تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور نے (ن) لیگ کی وفاقی حکو مت کے ”وزیراعظم قومی صحت پروگرام “کو ”سیاسی شعبدہ بازی “پر مبنی قراردیتے ہوئے اسکو مسترد کر دیاہے اور محکمہ صحت میں حکومت ناکامیوں پر ”حقائق نامہ “جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکستان میں صحت کی عدم سہو لتوں کی وجہ سے سالانہ 2لاکھ31ہزار 4سو بچے پیدائش کے دوران ہی مر جاتے ہیں اور انکی تعدادمیں ہر سال بدتر ین اضافہ ہو تاجارہا ہے ‘پاکستان میں ہر1ہزار میں سے1ے2افراد ”بہرے پن “کا شکار ہو رہے ہیں اورپنجاب میں ایسے مر یضوں کے علاج کیلئے کوالیفائی ڈاکٹرز کی تعداد1درجن سے بھی کم ہے ‘پنجاب میں دوران زچگی 1لاکھ میں سے115سے زائد خواتین ہر سال بر وقت سہو لتوں کی فر اہمی نہ ہونے کی وجہ سے جاں بحق ہو جاتیں ہیں تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور نے اپنے حقائق نامہ میں مزید کہا ہے کہ پاکستان میں20کروڑ کی آبادی کیلئے گردوں کے متعلقہ امر اض(نیفرالوجی) کیلئے 100کے قریب باضابط ڈاکٹر ز موجود ہیں جبکہ امر یکہ میں 300ملین افراد کیلئے5ہزار سے زائد ڈاکٹر ز موجود ہیں اور پاکستان میں گردوں کے علاج کیلئے ہسپتالوں میں قائم ”ڈائیلاسز سنٹر “میں واٹر ٹر یٹمنٹ پلانٹ ہی موجود نہیں اورمنسٹری آف نیشنل ہیلتھ سروز کے اپنے ریکارڈ کے مطابق میں پاکستان میں1لاکھ40ہزار کینسر کے نئے مر یض سامنے آرہے ہیں ۔

حقائق نامہ میں کہا ہے کہ مزید کہا ہے کہ پنجاب کے30سے زائد ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں کینسر کے امر اض کے علاج کیلئے بنیادی سہو لتیں ”زیر و“ہیں لاہور جیسے شہر میں خناق سے متاثرہ بچے روزانہ مر رہے ہیں ‘ پنجاب میں ہر 1700مر یضوں کیلئے صرف1ڈاکٹر دستیاب ہے جس کی وجہ سے صوبے میں صحت کا شعبہ تیزی سے تنزلی کا شکار ہے‘ پنجاب میں ٹی بی کے مر یضوں کی تعدادمیں ہر سال 2لاکھ سے زاء کا اضافہ ہو رہا ہے ‘70لاکھ سے زائد پنجاب میں ہپائٹس ”بی “اور “سی “کے مریض ہیں ‘پنجاب کے2450بنیادی مراکز صحت میں سے 50فیصد سے زائد میں ڈاکٹر زکی کمی اور فری ادوایات نہ ہونے کے برابر ہیں ‘پنجاب کارڈلوجی انسٹویٹ میں ہارٹ کے مر یضوں کو انجیوگرافی کیلئے6سے7ماہ اور بائی پاس آپر یشن کیلئے کم ازکم 1سال کا وقت دیا جا تا ہے ‘ایشاء کے سب سے بڑے سر کاری میو ہسپتال میں ایم آئی ار مشین ہی موجود نہیں ‘سر کاری ہسپتالوں میں 100میں سے صرف10مر یضوں کو مفت اودایات مل رہی ہے ۔

تحر یک انصاف پنجاب کے آرگنائزر چوہدری محمدسرور نے اپنے حقائق نامہ میں مزید کہا ہے کہ ”وزیراعظم قومی صحت پروگرام صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت نئے نئے پروگرام شروع کر نے بجائے پنجاب میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جائے‘سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادوایات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ‘ سر کاری ہسپتالوں میں کینسر ‘کڈنی سمیت دیگر مر یضوں کو بنیادی سہو لتوں کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کیے جائے پنجاب کے2450بنیادی مراکز صحت میں ڈاکٹرز اور نرسز کی آسامیوں کو پر کیا جائے۔

وقت اشاعت : 01/01/2016 - 15:54:50

اس خبر پر آپ کی رائے‎