برٹش کونسل نے نوجوان نسل میں احساس عدم تحفظ کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ جاری کردی
تازہ ترین : 1

برٹش کونسل نے نوجوان نسل میں احساس عدم تحفظ کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ جاری کردی

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8مئی 2014ء) برٹش کونسل پاکستان نے آج پاکستان کی نوجوان نسل میں عدم تحفظ کے احساس کا تدارک کرنے کے مجوزہ لائحہ عمل کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کردی ۔ اس رپورٹ کی رونمائی کے لیے جمعرات کے روز لاہور میں ایک گلوبل کانفرنس منعقد کی گئی جس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیرتعلیم و امور نوجواناں پنجاب رانا مشہود احمدخاں نے کی۔

کانفرنس میں برطانیہ ،شمالی آئر لینڈ ، میانمار، فلپائن، جنوبی افریقہ ، رپبلک آف کانگو، نائیجیریا، یوگنڈا، بوسنیا ہرزیگووینا، افغانستان ، سری لنکا، برونڈی، اردن، صومالیہ ، عراق اور پاکستان سمیت 14مختلف ممالک سے نوجوان مندوبین کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ کے ایڈوائزر برائے یوتھ افیئرزفیصل سبز واری، سیکرٹری یوتھ افیئرز بلوچستان حافظ عبدالباسط، برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر پیٹراپٹن، امریکی ریسرچ سکالر ڈیوڈسٹیون، لیورپول ہوپ یونیورسٹی شمالی آئر لینڈکے پروفیسر نیل فرگوسن ،برٹش کونسل نیکسٹ جنریشن ٹاسک فورس کے رکن فصیح ذکاء اورڈائریکٹر برٹش کونسل لاہور رچرڈ وائرزنے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وزیرتعلیم و امور نوجواناں پنجاب رانا مشہود احمدخاں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل ہمارا بہت بڑا سرمایہ ہے جس کی مناسب دیکھ بھال کے لیے ہمیں ہر ممکن سہولتیں دینا ہوں گی تاکہ ہمارے نوجوان آگے چل کر پاکستان میں خوش گوار تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جس معاشرے میں انتہاپسندی کے باعث باہمی تصادم اور تشدد کی فضاموجود ہو، اس معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے عام لوگوں کا رویہ بھی تشدد پسندی کی طرف مڑ جاتاہے ۔

اس صورت حال کے نوجوان نسل پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے بچا کر دوبارہ ایک پرامن معاشرے کی طرف لایا جائے اور معاشرے میں ہر سطح پر فکری توازن کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔ انہوں نے اس بات کو وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے لیے باعث فخر قرار دیا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے گزشتہ 6سال کے دوران نہ صرف نوجوانوں کو صحت مند ماحول فراہم کیا ہے بلکہ صوبہ کے عوام کو غیر محفوظ ماحول سے نکال کر عدم تشدد اور صلح جوئی کا عمومی رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ پاکستانی قوم آنے والے دنوں میں پائیدار امن کے ثمرات سے فائدہ اٹھا کر تیزی سے ترقی کرسکے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ ایک عشرے سے ملک میں دہشت گردی اور تشدد کا ماحول موجود ہونے کے باوجود پنجاب کی نوجوان نسل میں پاکستان کے دیگر صوبوں کے نوجوانوں کی طرح بے اطمینانی ، مایوسی اور احساس محرومی جیسے مضر اثرات نظر نہیں آتے۔رانامشہود احمد خاں نے کہا کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل اوران کے والدین کو قائل کیا ہے کہ وہ ڈسپلن اور قانون کی پاسداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔

حکومت پنجاب 2011ء میں یوتھ پالیسی لے کر آئی جس میں نوجوانوں کے مثبت کردار اور سرگرمیوں کی بے پناہ حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے 60 فیصد مارکس حاصل کرنے والے تمام طلباو طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کئے ہیں اور ہمارا یہ عزم ہے کہ اگر پنجاب میں زیر تعلیم ایک کروڑ سے زائد طلبا و طالبات میں سے 100فیصد طلبا و طالبات بھی 60فیصد مارکس حاصل کرلیں تو حکومت سب کو لیپ ٹاپ مفت فراہم کرے گی۔

پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں اوپن میرٹ کی بنیاد پر خواتین کو ہر سطح پر روزگار فراہم کرنے کے علاوہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے 33فیصد اضافی کوٹہ مختص کردیا گیاہے۔ صوبہ کے 21اضلاع میں لینڈریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیاجاچکاہے جبکہ باقی 15اضلاع میں یہ کام رواں سال کے دوران مکمل ہوجائے گا۔ پنجاب یوتھ فیسٹیول کی بے مثال کامیابی اور سٹیزن فیڈ بیک سسٹم کے علاوہ ریسکیو1122 کے توسط سے کسی بھی مشکل صورت حال سے دو چار عوام کو فوری ریلیف مہیا کرنا حکومت پنجاب کے بڑے کارناموں کی حیثیت رکھتاہے۔

انہوں نے اس موقع پر پنجاب یوتھ ہیلپ لائن کا دورانیہ 12گھنٹے روزانہ سے بڑھا کراسے 24گھنٹے کھلا رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ پنجاب میں ہر سال سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 40ہزارنوجوانوں کو فنی تربیت دی جارہی ہے جن میں سے خواتین کی تعداد 14ہزار سے زیادہ ہے۔ وزیر تعلیم و امور نوجواناں پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت جوائنٹ فیملی سسٹم کے ادارے کی مضبوطی اور مہمان نوازی کی عظیم روایات کوبرقرار رکھتے ہوئے نوجوان نسل کو ایک پرامن پاکستان دے گی جو اگلے ایک عشرے میں کم از کم جنوبی کوریا کے برابر ضرور آجائے ۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ کے ایڈوائزر برائے یوتھ افیئرزفیصل سبز واری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تشدد کے جواب میں تشدد اختیار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ہمیں ہر قیمت پر انتہا پسند ی اور تشدد کے خاتمے کی جدوجہد کرنے والوں کا ساتھ دیناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کریہ فیصلہ کرنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان جیسا ملک بنانا ہے یا ملائیشیا جیسے خوشحال اسلامی ملک کی شکل دینا بہتر ہوگا۔

سیکرٹری یوتھ افیئرز بلوچستان حافظ عبدالباسط نے کہا کہ تشدد اور باہمی تصادم ہر قیمت پر بند ہونا چاہیے کیونکہ صوبہ بلوچستان میں بہت سے بڑے ترقیاتی منصوبے اور کئی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر محض اس وجہ سے نامکمل پڑی ہے کہ وہاں بعض ناراض عناصر نے تشدد اور بغاوت کا راستہ اپنارکھا ہے۔ کانفرنس میں لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی کی طالبات نے ” امید سحر“کے عنوان سے نہایت موثر انداز میں مائم پیش کیا۔

وقت اشاعت : 08/05/2014 - 20:50:57

اپنی رائے کا اظہار کریں