وزیراعلیٰ پنجاب کا تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام کا دائرہ کار پنجاب بھر میں بڑھانے ..
تازہ ترین : 1

وزیراعلیٰ پنجاب کا تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام کا دائرہ کار پنجاب بھر میں بڑھانے اورہر ممکن وسائل فراہم کرنے کا اعلان

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8مئی 2014ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تھیلے سیمیا ایک خطرناک مرض ہے جس کی روک تھام کیلئے جتنی بھی کاوشیں اور وسائل فراہم کئے جائیں کم ہیں۔ تھیلے سیمیا کی روک تھام کیلئے کام کرنے والے دین اور دنیا دونوں کما رہے ہیں،تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام پنجاب کے 18 اضلاع میں کامیابی سے جاری ہے اور اس کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلائیں گے، تھیلے سیمیا کی روک تھام کیلئے موثر آگاہی مہم کی ضرورت ہے، اس مقصد کیلئے معاشرے کو تیار کرنا ہوگا، عوام کی آگاہی کیلئے علمائے کرام موثر کردار ادا کر سکتے ہیں، پنجاب اسمبلی میں 2012 میں تھیلے سیمیا کی روک تھام کے حوالے سے قرارداد منظور ہوئی تھی اور اب اس مقصد کیلئے ماہرین کی مشاورت سے ضروری قانون سازی کی جائے گی، قوم کے نونہالوں کو تھیلے سیمیا سے محفوظ بنانے کیلئے جو کچھ مناسب ہوگا کریں گے اور جتنے وسائل درکار ہوں گے فراہم کئے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے جمعرات کے روز پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں تھیلے سیمیا سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد انتہائی فائدہ مند ہے اور میں منتظمین کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے تقریب میں موجود مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کو ہدایت کی کہ ماہرین کی مشاورت سے تھیلے سیمیا کی روک تھام کے حوالے سے 2 ہفتے کے اندر جامع سفارشات مرتب کرکے پیش کی جائیں جن کی روشنی میں ضروری قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 68 سالوں کے دوران ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کیلئے اربوں روپے کے وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے اپنے گزشتہ 5 سالہ دور حکومت اور اس سال صحت کے شعبہ کی ترقی کیلئے اتنے زیادہ وسائل مہیا کئے ہیں جس کی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ سابق دور آمریت میں پنجاب کے حکمرانوں نے سروسز ہسپتال سے ملحقہ تعمیر ہونے والی عمارت کے لئے بھارت سے کروڑوں روپے کی گرینائٹ ٹائلیں منگوا کر لگوائیں جو اداروں کے کھوکھلا پن کا ثبوت ہے،یہی پیسے غریب عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی پر صرف ہونے چاہئیے تھے جو قیمتی ٹائلوں پر ضائع کر دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کے حوالے سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں سال 2014 کے دوران پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ پولیو ویکسینیشن کے حوالے سے مشیر صحت کی سربراہی میں پوری ٹیم لائق تحسین کاوشیں کر رہی ہے۔اگرچہ پولیو پنجاب کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے لیکن ہمیں ملک کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے اپنی کاوشوں کو مزید تیز کرنا ہوگا اور اس حوالے سے بھرپور محنت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کے منصوبے کی تکمیل کیلئے درکار فنڈز اسی مالی سال فراہم کر دیئے جائیں گے جبکہ امیرالدین میڈیکل کالج کے حوالے سے مشیر صحت اور سیکرٹری صحت دورہ کرکے تفصیلی رپورٹ دیں گے۔وزیراعلیٰ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ صحت مند اور توانا قوم ہی ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنتی ہے۔

پنجاب حکومت ہیلتھ کئیر سسٹم کی بہتری اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے۔ عوام کو معیاری اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے جو کچھ ممکن ہے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ہمارا ایسا برادر اسلامی ملک ہے جس کی حکومت اور عوام نے بدترین سیلاب کے دوران اپنے پاکستانی بھائیوں کی بھرپور مدد کی اور پاکستانیوں کو مصیبت سے نکالنے میں عظیم کام کیا۔

مظفرگڑھ میں ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ترکی کی حکومت اور عوام نے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنایا ہے جس کا افتتاح 21 جون کو کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزائن، طبی آلات، علاج معالجہ کی سہولتوں کے حوالے سے ایسا مثالی ہسپتال کراچی اور لاہور میں بھی نہیں ملے گا۔ اگر ہمارے ادارے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ہسپتال بناتے تو اس کی صورتحال کچھ اور ہی ہوتی، اداروں کے کھوکھلا پن اور بے حسی نے ہمیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

اب اس سوچ سے نکلنا ہوگا۔ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا آج موقع ہے۔ محنت، دیانت اور امانت کو شعار بنا کر ملک و قوم کی تقدیر سنواراورتاریخ کا دھارا موڑ سکتے ہیں۔ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ منزل کے حصول کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یکجان دو قالب ہو کر محنت کرنی ہے اورمنزل حاصل کرنی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام کی پراجیکٹ ڈائریکٹر شمسہ رحمن اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے شاندار کام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ عالمی ادارہ صحت یا کسی اور بین الاقوامی ادارے سے کرایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال 11 مئی کو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تھے اور 11 مئی ایک بار پھر آنے کو ہے اور گزشتہ پانچ برسوں کی طرح اس ایک سال کے دوران بھی کوئی پنجاب حکومت کی کرپشن کا ایک کیس بھی سامنے نہیں لا سکا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب میں تمام ترقیاتی منصوبے شفاف طریقے سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر ایک برس کے دوران ایک دھیلے کی بھی کرپشن کا الزام نہیں لگایا جاسکا۔امیرالدین میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر انجم حبیب بوہرہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک یادگار دن ہے کہ ہمارے مابین پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف موجود ہیں جو غریب عوام کا درد رکھتے ہیں۔ ان کی خداداد صلاحیتوں کی بدولت پنجاب ترقی و خوشحالی کی بلندیوں سے ہمکنار ہوا ہے۔

خطے کے اکثر علاقے ہمارے صوبے کی قسمت پر رشک کرتے ہیں کہ ہمیں ایک سچا اور محنتی لیڈر نصیب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیلے سیمیا موروثی بیماری ہے جو والدین سے نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی روک تھام کیلئے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے میڈیکل تعلیم کے فروغ کے حوالے سے پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔

پنجاب تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام کی پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر شمسہ رحمن نے منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت تھیلے سیمیا سے بچاؤ کیلئے تمام ضروری سہولیات عوام کو بلامعاوضہ ان کے گھر کی دہلیز پر مہیا کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے 18 اضلاع میں تھیلے سیمیا کی روک تھام کا پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور اسے صوبے کے تمام اضلاع تک بڑھانا چاہتے ہیں۔

شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب کو تھیلے سیمیا کے مرض سے پاک کرکے رہیں گے۔ تھیلے سیمیا کی تشخیص کیلئے ڈی این اے لیب بھی قائم کی گئی ہے جہاں عوام کو مفت تشخیصی سہولیات حاصل ہیں۔ چلڈرن ہسپتال کے ڈین پروفیسر مسعود صادق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چلڈرن ہسپتال پاکستان کا بڑا ادارہ ہے جہاں تھیلے سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو مفت علاج معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے پنجاب کے تمام تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کو بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ تھیلے سیمیا مرض کے علاج کیلئے لوگوں کو لاہور آنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑے۔ مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق،پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری صحت ڈاکٹر اعجاز منیر، پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج / پی جی ایم آئی پروفیسر انجم حبیب بوہرہ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) ضیاء الدین بٹ، ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر مسعود صادق، ڈاکٹروں اور ماہرین کی بڑی تعداد سیمینار میں موجود تھی۔ پنجاب تھیلے سیمیا پریوینشن پروگرام کی پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر شمسہ رحمن نے پروگرام کے اہم خدووخال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/05/2014 - 20:50:57

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں