کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کے لیے نیک نامی نہیں ،محتاط رہنا ہوگا‘ ..
تازہ ترین : 1
کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کے لیے نیک نامی نہیں ،محتاط ..

کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کے لیے نیک نامی نہیں ،محتاط رہنا ہوگا‘ رانا ثنا اللہ،حامد میر سمیت ہر پاکستانی پاک فوج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے،کچھ عناصر فوج کو میڈیا اور حکومت سے الجھانا چاہتے ہیں ، وزیر بلدیات پنجاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27اپریل۔2014ء)صوبائی وزیر قانون و بلدیات رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے فوج کے لیے نیک نامی نہیں ان چیزوں سے محتاط رہنا ہوگا،حامد میر سمیت ہر پاکستانی پاک فوج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے،کچھ عناصر فوج کو میڈیا اور حکومت سے الجھانا چاہتے ہیں جو فوج یا حکومت کے خیرخواہ نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک کالعدم تنظیم کے فوج کے حق میں مظاہرے اور ایک مشکوک شخص کی جانب سے فوج کا طرف دار بن جانا فوج کے ساتھ ہمدردی نہیں۔ جہاں تک بعض نام نہاد لوگ جو فوج کے طرفدار بنے ہوئے ہیں اور وہ ایک صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جو کہ فوج کو الجھانا چاہتے ہیں ۔میڈیا کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ فوج کے یا اس قوم کے یا اس ملک کے خیرخواہ نہیں اور یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک کالعدم تنظیم فوج کے حق میں مظاہرہ کرے اور اسے پوری دنیا میں دیکھا جائے اور اسی طرح سے ایک ایسا شخص جس کا اپنا کردار انتہائی مشکوک ہے اور جو عوام میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ فوج کا طرفدار بن کر احتجاج کرے تو یہ ساری چیزیں فوج کے ساتھ ہمدردی نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

ہمیں ان باتوں سے محتاط رہنا چاہیے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عامر میر نے جذبات میں بات کی جس کا آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل عاصم باجوہ نے مناسب جواب دے دیا تھا۔ ایک ایسا شخص جس کا بھائی موت و حیات کی کشمکش میں ہو تو کیا اسے رونے کا حق بھی نہیں دیا جانا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عامر میر نے جذبات میں جو بات کی ہے وہ بات بالکل ان کی جگہ پر کوئی اور ہوتا تو شاید اس کے بھی جذبات یہ ہوتے اور آئی ایس پی آر کی طرف سے جو جنرل عاصم باجوہ نے بات کی تھی انھوں نے بہت مناسب بات کی تھی کہ عامر میر نے ایک جذباتی کیفیت میں بات کی ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔

اور ہم اس مقدمے کی تحقیقات میں حصہ لیں گے اور کوشش کریں گے کہ اس حملے کے ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے ان کو سامنے لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور جیو کی بندش سے کسی ادارے کو فائدہ نہیں ہوگا۔ جنگ اور جیو کی بندش کوئی آپشن نہیں ہے اور اس سے حالات اور بگڑیں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کسی بھی ادارے کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر ہوں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 27/04/2014 - 16:11:49

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • محمد طاہر منظور کی رائے : 28/04/2014 - 11:58:58

    اگر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ انٹرویوز حامد میر کے ساتھ ن لیگ کے رہنماوں کے ہی ہیں جن میں موصوف رانا صاحب اور خواجگان (اآصف اورسعد رفیق) شامل ہیں اور حکومت غدار جنگ گروپ کے ساتھ ملی ہوئی ہے

    اس رائے کا جواب دیں
  • habibi کی رائے : 28/04/2014 - 07:34:08

    اسلام عليكم ورحمة الله وبركاته وبعد پاکستان کی سلامتی سب ذیادہ عزیز ہے اور اس وجہ سے جیو نیوز پرپابندی لگنی چاہیے

    اس رائے کا جواب دیں
  • اشفاق احمد کی رائے : 27/04/2014 - 20:33:45

    رانا ساب کیا میٹھی گولی دی ہے آپ نے عامر میر کے بیان پہ جیو نے ایک باوقار ادارہ (اور وہ ادارہ جس نے ہنود و یہود کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں) اور اس کے سربراہ پہ جو کیچڑ اچھالا یہ غداری کے زمرے میں آتا ہے اس کی سزا ان غداروں کو ملنی چاہیئے

    اس رائے کا جواب دیں
  • نجیب اللہ کی رائے : 27/04/2014 - 17:52:57

    جیو بند ہونا چاہیے.اس نے پاک فوج اور دفاعی ادارے پر غلط الزام لگایا ہے.

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں