قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وزارت قانون و انسانی حقوق ..
تازہ ترین : 1

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وزارت قانون و انسانی حقوق میں تقرری کی اجازت دیدی ،جوڈیشل افسر کی انتظامی عہدوں پر تقرری عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے ،وزارت کی مشکلات کے پیش نظر اجازت دی جارہی ہے ،سال 2014کو معاشرے میں مذہبی و ثقافتی برداشت کے فروغ کا سال قرار دیتے ہوئے منظوری دیدی گئی ،اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹ اور ماڈل جیل کی تعمیر میں تاخیر کا سخت نوٹس ،دو معزز جج صاحبان پر مشتمل کمیٹی قائم ،انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کا کردار اہم ہے ،ملک میں عدلیہ آزاد اور آئین اور قانون کی بالاستی ہے‘ جسٹس تصدق حسین جیلانی،سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26اپریل۔2014ء)قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وزارت قانون و انسانی حقوق میں تقرری کی اجازت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جوڈیشل افسر کی انتظامی عہدوں پر تقرری عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے تاہم وزارت کی مشکلات کے پیش نظر اجازت دی جارہی ہے ،سال 2014کو معاشرے میں مذہبی و ثقافتی برداشت کے فروغ کا سال قرار دیتے ہوئے اسکی بھی منظوری دیدی گئی ،اجلاس میں اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹ اور ماڈل جیل کی تعمیر میں تاخیر کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی جو ان منصوبوں کی جلد تکمیل کے معاملے کا جائزہ لے گی ۔

جبکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کا کردار اہم ہے ،ملک میں عدلیہ آزاد اور آئین اور قانون کی بالاستی ہے،ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مزید موثر قوانین بنانے چاہئیں۔ہفتہ کے روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں چیف جسٹس آزاد کشمیر ،چیف جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ،پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اوررجسٹرارز نے شرکت کی ۔

اجلاس میں سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے سے متعلق کیے گئے اقدامات پر کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کمیٹی کے نئے اراکین کو خوش آمدید کہا اور گزشتہ دنوں ہونے والی جوڈیشل کانفرنس کی تجاویز پر روشنی ڈالی اور بعد ازاں اسکی منظوری دی گئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہاکہ حال ہی میں پاکستان میں ہونیوالی جوڈیشل کانفرنس میں شریک انٹرنیشنل ڈیلی گیٹس کی تعداد ماضی سے کہیں زیادہ تھی۔

جو ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے عدلیہ کی کوششوں پراعتماد کا مظہر ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ معاشرے میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینے اور شہریوں کو ان کے حقوق کی فراہمی سے ایک مضبوط اور مستحکم معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔عدلیہ ریاست کا چوتھا ستون ہونے کی حیثیت سے انصاف کی بر وقت فراہمی یقینی بنا نے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں برداشت کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

2014کو معاشرے میں مذہبی و ثقافتی برداشت کے فروغ کا سال قرار دیا جانا چاہیے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے نازک مرحلہ سے گزر رہے ہیں ،ہمیں انتہا پسندی،معاشرے میں عدم برداشت سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے ۔معاشرے میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینے اور شہریوں کو ان کے حقوق کی فراہمی سے ایک مضبوط اور مستحکم معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کا کردار اہم ہے اور ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو موثر بنانا ہوگا۔دنیا کے دو سو ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو دیگر ممالک میں آزادی ہو تو ہمیں بھی اپنے ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو موثر بنانا ہوگا، اقلیتوں کو ملک میں اپنی عبادات کے لیے مکمل آزادی ہونی چاہئے جبکہ متبادل مصالحتی نظام کے حوالے سے قوانین پر بھی غور کی جائیگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ سال 2014ء کو معاشرے میں مذہبی و ثقافتی برداشت کے فروغ کا سال قرار دیا جانا چاہیے جس کی نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کی طرف سے منظوری دیدی گئی ۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس موقع پر بتایاکہ عدالتی نظام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی متعارف کروادی گئی ہے اور اب عدالتی ریکارڈ کی آرکائیو اور ڈیجیٹل عدالتی لائبریری بھی تیار کرلی گئی ہے ۔

اعلامیے کے مطابق قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے وزار ت قانون و انسانی حقوق کی جوڈیشل افسران کی ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کی منظوری دیدی اور کہا گیا کہ جوڈیشل افسر کی انتظامی عہدوں پر تقرری عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے تاہم وزارت کی مشکلات کے پیش نظر ہائیکورٹس جوڈیشل افسران کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ وزارت قانون میں ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ عدلیہ کے ساتھ بھی اپنا تعلق قائم رکھیں۔

اعلامیے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے آلٹر نیٹ ڈسپیوٹ ریزولیشن کو ریگولیٹ کرنے کے لئے بنائے گئے قوانین کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس انور ظہیر جمالی کی سر براہی میں ہر ہائیکورٹ کے ایک جج پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس اور اسلام آباد کیلئے ماڈل جیل کی تعمیر میں تاخیر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ان منصوبوں کے تعمیراتی کاموں کا جائزہ ،نگرانی اور بر وقت تکمیل کے لئے سپریم کورٹ اور اسلام آبا د ہائیکورٹ کے دو معزز جج صاحبان پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی۔

اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونیوالی انٹر نیشنل جو ڈیشل کانفرنس کی سفارشات کی بھی منظوری دی اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر کمیٹی کے کردار کو سراہا۔

وقت اشاعت : 26/04/2014 - 23:07:43

اپنی رائے کا اظہار کریں