مشرف کو عدالتی فیصلوں کے علی الرغم باہر جانے دیا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ..
تازہ ترین : 1

مشرف کو عدالتی فیصلوں کے علی الرغم باہر جانے دیا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی‘ سراج الحق ،امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قانون نہیں ہونا چاہئے، لاقانونیت نے ملک کو اندھا کنواں بنا دیا ہے ،یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے،طالبان کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے ،اس کی کامیابی سے ملک و ملت کا روشن مستقبل وابستہ ہے ‘ امیر جماعت اسلامی کا خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22اپریل۔2014ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ مشرف کو عدالتی فیصلوں کے علی الرغم باہر جانے دیا گیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ،امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قانون نہیں ہونا چاہئے، لاقانونیت نے ملک کو اندھا کنواں بنا دیا ہے ،یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے ،امیر کیلئے تمام قوانین موم کی ناک جبکہ غریب آدمی کی پوری عمر عدالتوں کے چکر لگاتے گزر جاتی ہے اور اسے انصاف نہیں ملتا،ہم ملک میں ایسا نظام چاہتے ہیں جو غریب اور مشرف جیسے اثر و رسوخ کے مالک کو ایک صف میں کھڑا کردے، قوم حامد میر پر قاتلانہ حملے کا جائزہ لینے کیلئے بنائے گئے عدالتی کمیشن کی جلد ازجلدرپورٹ کی منتظر ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ رپورٹ سالوں کی بجائے دنوں میں آئے گی، حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور اس سلسلہ میں گومگو کی پالیسی چھوڑ کر دوٹوک اور واضح موقف اختیار کیا جائے ،کشتی کو بیچ منجدھار کے چھوڑ دینا دانش مندی نہیں ،مذاکرات کی کامیابی سے ملک و ملت کا روشن مستقبل وابستہ ہے ،اگر نواز شریف ملک میں دہشت گردی ،بدامنی اور انتشار کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں مذاکرات کی کشتی کو پار لگانے کیلئے حکمت اور تدبر کے ساتھ ساتھ جرأت کا مظاہرہ کرنا ہوگا،مذاکرات مخالف قوتیں ملک میں انتشار اور انارکی پھیلا کر جنوبی ایشیا میں بھارت کی بالادستی اور خطے میں امریکی مفادات کی تکمیل چاہتی ہیں، مذاکرات کیلئے محفوظ مقام صرف طالبان کی نہیں ،حکومت کی بھی ضرورت ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مجلس عاملہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ فریقین اتفاق کریں تو خیبر پختونخواہ حکومت مذاکرات کیلئے محفوظ مقام اور پرامن ماحول کی ذمہ داری قبول کرتی ہے ۔مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومت کو غریبوں کا خون نچوڑنے اور مرے کو مارنے کی پالیسی ترک کرکے مگرمچھوں سے سرکاری واجبات وصول کرے۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ کرپشن کے ناسور پر قابو پانے کیلئے چین کی طرح پاکستان میں بھی سخت ترین سزائیں دی جائیں ،حکومت فوری طور پر پارلیمنٹ سے احتساب بل پاس کروائے اور نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے دیانت دار اور غیر جانبدار آفیسرز کا تقرر کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھائے اور اقربا پروری اور یاری دوستی نبھانے کے الزامات لگائے جاتے ہیں جس سے شفاف انداز میں کسی بھی کیس کی تفتیش و تحقیق نہیں ہوتی اور مجرم صاف بچ جاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے احتساب کے محکمہ کو خود مختار اور غیر جانبدار نہ بنایا تو کرپشن کا تدارک ہوسکے گا نہ اس پر قابو پایا جاسکے گا ،حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ ہونے والی کرپشن دس ارب روپے سے بڑھ چکی ہے جس پر قابو پا کر ہم ملک میں مہنگائی کو تیس فیصد تک کم کرسکتے ہیں اور تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اپنا سرمایہ بیرونی بنکوں سے نکال کر ملک میں لائیں تاکہ دوسروں کو بھی اپنا سرمایہ قومی سکیموں میں لگانے کی ترغیب ملے ،انہوں نے کہا کہ عوام کو غربت اور مہنگائی کے نرغے سے نکالنے اور تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں بہم پہنچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر موثر اقدامات کرنا ہونگے تاکہ آئندہ مالی سال میں حکومتی پالیسیوں کا فائدہ عوام کو ملنا شروع ہوجائے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/04/2014 - 23:02:12

اپنی رائے کا اظہار کریں