لاہور ،حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی ..
تازہ ترین : 1

لاہور ،حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے ، جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرے کے دوران میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر نگرانی کمیشن سے حملے کی تحقیقات کرائی جائیں،مطالبہ، پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائینگے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20اپریل۔2014ء)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف صحافتی تنظیموں ،سول سوسائٹی اورسیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرے کے دوران میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا ۔سینئر صحافی حامد میر پرحملے کے خلاف لاہور پریس کلب کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پی ایف یوجے، پی یوجے اور صحافیوں کی مختلف تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری،سیکرٹری محمد شہبازمیاں،افضل بٹ،آئی اے رحمان،شہریارخان، وسیم فاروق، اقبال چوہدری، امتیازعالم،خاورنعیم ہاشمی، افضال طالب، شفیق اعوان،انجم رشید،آصف چوہدری،رانامحمد عظیم،بیداربخت بٹ، قمرالزمان بھٹی،رضوان خالد،امجد عثمانی،خالد فاروقی،بخت گیر چوہدری، عاصمہ جہانگیر،عابد حسن منٹو،جگنومحسن ،شفقت محمود،حناجیلانی،اعجازچوہدری ا ور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حامد میر پر حملہ پوری صحافی برادری پر حملہ ہے اوریہ ثابت ہوگیاہے کہ ملک میں کوئی بھی صحافی محفوظ نہیں،حامد میر ملک کے چندنامور اور ہردلعزیز صحافیوں میں سے ایک ہیں اور اگر ملک کے اتنے بڑے شخص کے ساتھ یہ دلدوز واقعہ پیش آسکتا ہے تو ملک میں اب کوئی صحافی محفوظ نہیں رہا ۔

مقررین کا کہناتھا کہ دہشت گردعناصر کے اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے صحافی بالکل گھبرانے والے نہیں ہیں،ملک میں دہشت گردی ہو یا ڈکٹیٹرشپ وہ ہرحال میں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور کسی بھی صورت میں حق بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ حکومت سندھ قانون نافذ کرنے میں ایک بارپھرناکام ہوچکی ہے اورپورے ملک میں یہ ہی صورتحال درپیش ہے ۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملزموں کوفوری گرفتارکرے ورنہ خیبر سے کراچی تک ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ احتجاجی ریلی سے قبل لاہور پریس کلب کے نثارعثمانی آڈیٹوریم میں مذمتی اجلاس منعقد ہوا جس میں صحافتی تنظیموں کے علاوہ،سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کثیر تعدا میں شرکت کی ۔مذمتی اجلاس کی کارروائی کا آغازسیکرٹری محمد شہبازمیاں نے حامدمیرکی جلد صحتیابی کے لئے دعاکے ساتھ کروایا اورکہاکہ حامد میر پرحملہ دراصل آزادی صحافت پر حملہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے مذمتی قراردا د پیش کی جسے ہاؤس نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قراردادمیں کہاگیاکہ لاہورپریس کلب ، لاہور کی صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل یہ اجلاس جیو نیوز کے اینکر اور سینئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ان پر حملہ پوری صحافی برادری پر حملہ سمجھتا ہے اور دہشت گردوں پر یہ واضع کرتا ہے کہ اس قسم کی بزدلانہ کاروائی سے آزادی اظہار رائے اور حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

یہ اجلاس یہ بھی واضع کرتا ہے کہ اس قسم کی بزدلانہ کاروائیوں سے ہما را عزم اور مضبوط ہو گا اور ہم کسی طور پر بھی آزادی صحافت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر نگرانی کمیشن سے فوری طور کروائے اور مجرموں کو بے نقاب کر کے ان کو قرار واقعی سزا دے۔یہ اجلاس حامد میر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مکمل صحتیابی کے لئے دعا گو ہے۔

علاوہ ازیں جامعہ نعیمیہ کے طالبعلموں نے بھی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا او رملزموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔ جمعیت اہلحدیث کے کارکنوں نے بتی چوک میں مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائروں کو آگ لگا کر میٹرو بس کے روٹ کو بند کر دیا ۔ مظاہروں کے شرکاء حکومت سے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے۔پی ایف یو جے کی کال پر ملک بھر کے پریس کلبوں میں کل (پیر )سیاہ پرچم لہرائے جائینگے اور احتجاجی مظاہرے کئے جائینگے۔

وقت اشاعت : 20/04/2014 - 21:05:50

اپنی رائے کا اظہار کریں