حالات بہتر رہے اور سب کچھ طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوا تو آئندہ برس پاکستان بھارت ..
تازہ ترین : 1

حالات بہتر رہے اور سب کچھ طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوا تو آئندہ برس پاکستان بھارت سے سیریز کی میزبانی کریگا‘ نجم سیٹھی،پاک بھارت کرکٹ کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے،تمام ممالک تحریری رضا مندی پر پاکستان سے کھیلنے کیلئے تیار ہیں، آئی سی سی نے وعدہ کیا ہے محمد عامر کی پابندی میں نرمی پر غور کیا جائیگا ،بورڈ رواں ماہ کے دوران ہی کوچز اور انتظامیہ کی تقرری کیلئے کوشاں ہے ،بگ تھری کی حمایت کا انحصار پاکستان کیلئے اچھے شیڈول پر ہو گا، بگ تھری کی حمایت فیوچر ٹور پروگرام سے مشروط ہے‘ چیئرمین پی سی بی ۔ تفصیلی خبر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17اپریل۔2014ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ اگر حالات بہتر رہے اور سب کچھ طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہوا تو آئندہ برس پاکستان بھارت سے سیریز کی میزبانی کرے گا،پاک بھارت کرکٹ کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تمام ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک آئندہ آٹھ سالوں کیلئے تحریری رضا مندی پر پاکستان سے کھیلنے کیلئے تیار ہیں، آئی سی سی نے وعدہ کیا ہے کہ محمد عامر کی پابندی میں نرمی پر غور کیا جائیگا اور اگر جون میں عامر کے حق میں فیصلہ ہوا تو وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل سکیں گے او رانکی سزا بھی مزید کم ہو جائیگی،بورڈ رواں ماہ کے دوران ہی کوچز اور انتظامیہ کی تقرری کیلئے کوشاں ہے تا کہ تمام تر توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز کی جا سکے۔

غیر ملکی اخبار کو انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بھارت سمیت آئی سی سی کے تمام مستقل رکن ممالک پاکستان سے باہمی سیریز کھیلنے پر رضا مند ہیں، چند قانونی نکات طے ہوجانے کے بعد متعلقہ کرکٹ بورڈز کی جانب سے جلد ہی تحریری یقین دہانیاں بھی حاصل کرلی جائیں گی۔ آئندہ 8 برسوں کے دوران پی سی بی کو ان مقابلوں سے 30 ارب روپے کی آمدنی ہوگی، اس حوالے سے آئندہ ماہ تک پاکستان کے کرکٹ میچز کے نشریاتی حقوق کی فروخت کا معاہدہ بھی طے پاجائے گا۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کو رواں برس دونوں ممالک کے درمیان کم از کم 3 ٹی ٹونٹیمیچوں کی سیریز کا کہا ہے اس سلسلے میں پی سی بی کو بی سی سی آئی کی جانب سے باضابطہ جواب کا انتظار ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان آئندہ برس مکمل سیریز ہوگی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا اور یہ سیریز متحدہ عرب امارات سمیت کہیں بھی ہوسکتی ہے ۔بی سی سی آئی نے آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت پر تاحال کسی بھی قسم کی یقین دہانی نہیں کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت کرکٹ کی بحالی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اس لئے انہیں امید ہے کہ بھارت میں بر سر اقتدار آنے والی آئندہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں لیکن مقامی ڈھانچے میں خامیوں کی وجہ سے یہ نکھر کر سامنے نہیں آرہے، اس سلسلے میں ہم اصلاحات لارہے ہیں جو جلد ہی نافذ ہوجائیں گی، ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں تبدیلی لائی جارہی ہے اس سلسلے میں ابھی چند ناموں پر غور کیا جارہا ہے جس کا اعلان آئندہ چند روز میں کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بگ تھری کے حق میں ووٹ دینے یا نہ دینے پر کسی قسم کا دبا ؤنہیں تھا۔بگ تھری کی حمایت کا انحصار پاکستان کے لئے اچھے شیڈول پر ہو گا، بگ تھری کی حمایت فیوچر ٹور زپروگرام سے مشروط ہے۔ ہم عالمی کرکٹ میں تنہائی کا شکار ہوگئے تھے اوراسی وجہ سے ہم نے بگ تھری منصوبے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ہمیں تمام رکن ممالک بشمول بھارت سے تحریری یقین دہانیاں مل گئی ہیں جس سے ہمیں اربوں روپے کا فائدہ بھی ہوگا جس سے ہمارے بورڈ کے معاملے چلانے میں آسانی ہو گی ۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بڑی ٹیموں کے ساتھ کرکٹ سیریز کے نشریاتی حقوق پر آئندہ ماہ کام شروع ہو گا جس کے نتائج جون میں حاصل کر لیے جائیں گے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ بڑی ٹیموں کے ساتھ دو طرفہ سیزیز کے معاملے پر کچھ معمولی باتیں طے ہونی والی رہ گئی ہے جس کے بعد معاہدوں کو تحریری شکل دی جائے گی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/04/2014 - 20:55:37

اپنی رائے کا اظہار کریں