فوج اور عدلیہ حساس ادارے ہیں ،تنقید نہیں ہونی چاہیے ‘ خواجہ سعد رفیق،فوج کا پروفیشنل ..
تازہ ترین : 1

فوج اور عدلیہ حساس ادارے ہیں ،تنقید نہیں ہونی چاہیے ‘ خواجہ سعد رفیق،فوج کا پروفیشنل اور آئینی کردار ہر پاکستانی کو دل و جان سے عزیز ہے ،جب غیر آئینی اقدام ہوگا تو قوم اور تاریخ اسکی مذمت کر یگی،سابق حکومت کے دور میں روز کرپشن کی کہانی سامنے آتی تھی ،اس حکومت میں ایک بھی کرپشن کا سکینڈل سامنے نہیں آیا ‘ وفاقی وزیر ریلوے ۔ اپ ڈیٹ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13اپریل۔2014ء)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عدلیہ فیصلے کرتی ہے اور فوج ہمارا تحفظ کرتی ہے اس لئے ان پر تنقید نہیں ہونی چاہیے ، فوج کا پروفیشنل اور آئینی کردار ہر پاکستانی کو دل و جان سے عزیز ہے لیکن جب غیر آئینی اقدام ہوگا تو قوم اور تاریخ اسکی مذمت کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ایم ایس ایف کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد‘ ریاض احمد فتیانہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں نے گزشتہ دنوں جو باتیں کہی تھیں شاید ان سے کسی کو رنج پہنچا ہو لیکن میں نے جو کہا تھا وہ سچ ہے اور اسی لئے میں نے کہا تھاکہ میں اپنی باتوں پر قائم ہوں۔ عدلیہ انصاف کرتی ہے اور ہمیں اسکے فیصلے ماننے پڑتے ہیں جبکہ فوج ہمارا تحفظ کرتی ہے ۔

دونوں حساس ادارے ہیں اور ان پر تنقید نہیں کرنی چاہیے ۔ ۔ فوج کا پروفیشنل آئینی کردار ہر پاکستانی کو دل و جان سے عزیز ہے ۔ سیاچن پر موجود سپاہی کو تنخواہ نہیں لڑاتی بلکہ اس کا جذبہ لڑاتا ہے اور کون سا پاکستانی ہے جو پاک فوج کو سلیوٹ نہیں کرتا لیکن غیر آئینی حرکت جو بیگاڑ کا باعث بنتی ہے قوم او رتاریخ اسکی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے انشا اللہ اس ملک کے مسائل حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے ریلوے کی وزارت سنبھالی تھی تو کہہ دیا تھاکہ ریلوے میں سیاست نہیں چلے گی ۔ میرے آنے کے بعد سیاسی بنیادوں پر ریلوے کا ایک بھی سٹاف نہیں بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سنجیدگی سے پیشرفت کر رہی ہے اور انشا اللہ ہم سر خرو ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے روکنا مشکل تھا تاہم ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ حملے بند کرائے ہیں اور یہ بھی پوچھا جائے ان حملوں کی اجازت کس نے دی تھی ۔

ہم نے امریکہ کو بتایا کہ ڈرون حملوں سے تشدد بڑھتا ہے ۔ طالبان کے نظریات سے اختلاف ہے لیکن بات چیت جاری ہے ۔ سعودی عرب نے اگر ہمیں امداد دی ہے تو اس پر اتنی تنقید کیوں ہو رہی ہے ۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی اگر گزشتہ بارہ برسوں میں پاکستان کو امداد نہیں دی گئی تو ہم کیا کریں ۔ اسلام آباد سے استنبول تک ٹرین چلائی جائے گی ۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی ذات کو متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تحفظ کے لئے قانون سازی کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں روز کرپشن کی کہانی سامنے آتی تھی لیکن اس حکومت میں ایک بھی کرپشن کا سکینڈل سامنے نہیں آیا ۔ سعد رفیق نے کہا کہ جماعتیں توڑنے کو شوق کس کو ہے اور مرضی کی جماعتیں بنانے کا شوق کس کو ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ کہنا تو بہت کچھ چاہتا ہوں مگر میڈیا موجود ہے کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ سردار عتیق احمد نے کہا کہ ہم غیر مشروط طور پر پاکستان کے شہری ہیں ۔

پاکستان کو تجارت کے نام پر قربان نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں پاکستان میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا یہاں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج کا کوئی مقابلہ نہیں ہماری افواج بھارت کی افواج کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/04/2014 - 21:26:33

اپنی رائے کا اظہار کریں