بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ..
تازہ ترین : 1

بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ،آٹھ سالوں میں 30ارب ملیں گے‘ چیئرمین پی سی بی،اگلے آٹھ برسوں میں آئی سی سی کی ہر رکن ٹیم سے سیریز کھیلنے کے معاہدے کئے ہیں ،بھارت سے ہوم سیریز کیلئے بھی بات ہو گئی ہے،اگلے سال آئی سی سی کا صدر پاکستان نامزد کریگا، عامر کے کیس پر نظر ثانی کیلئے اینٹی کرپشن یونٹ کے قوانین کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کر ادی گئی، راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے ،عامر سہیل جہاں ہیں وہیں اچھے لگتے ہیں ،نیا آئین بنانا ہے ،ریجنل کر کٹ راتوں رات بحال نہیں ہو سکتی ،ہمیں کم ا زکم ایک ٹرم کی توسیع دینا پڑے گی ‘ نجم سیٹھی کی پریس کانفرنس۔ تفصیلی خبر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11اپریل۔2014ء)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ بگ تھری کے معاملے میں بروقت فیصلہ نہ کرنے کیوجہ سے ہونیوالا نقصان پورا کر لیا ہے ،اگلے آٹھ برسوں میں آئی سی سی کی ہر رکن ٹیم سے سیریز کھیلنے کے معاہدے کئے ہیں جس سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو 30ارب روپے کا فائدہ ہوگا، بھارت سے ہوم سیریز کے لئے بھی بات ہو گئی ہے اور جلد حتمی تاریخ کی خوشخبری دیں گے، اگلے سال آئی سی سی کا صدر پاکستان نامزد کرے گا، آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر عامر کے کیس پر نظر ثانی کیلئے اینٹی کرپشن یونٹ کے قوانین کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کرائی او رجون میں اس کا جائزہ لیا جائے گا ، راشد لطیف نے چیف سلیکٹر کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے جبکہ عامر سہیل جہاں ہیں وہیں اچھے لگتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس کے بعد وطن واپسی پر پی سی بی ہیڈ کوارٹرمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد ‘ ذاکر خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔ پی سی بی کے چےئرمین نجم سیٹھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 9جنوری کوبطور چیئرمین پی سی بی بگ تھری کامعاملہ میرے سامنے آیا، بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ ٹورز شیڈول کرلیے، 28فروری کو سنگاپور میں پتا چلا کہ بنگلہ دیش نے بگ تھری کی تجویز قبول کرلی،8فروری تک پاکستان اور سری لنکا بگ تھری کے خلاف تھے، 9ممالک ایک طرف کھڑے ہیں تو ہم اکیلے نہیں کھڑے ہوسکتے تھے۔

کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمینز کے ساتھ مشورہ کیا تھا تو فیصلہ ہوا تھا کہ قانونی پوزیشن بھی دیکھی جائے، انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کیلئے بگ تھری کی حمایت ضروری تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کریں گے۔ دبئی میں تمام بورڈز کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ 8سال کے لئے ٹورز پروگرام بنائے ہیں، تمام بورڈز کے ساتھ آئندہ 8سال کے ٹورز پر تحریری معاہدے کیے ہیں۔

ان معاہدوں کو بائنڈنگ کی شکل دینے کے لئے وکلاء ڈرافٹ تیار کریں گے جسکے بعد معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور اسکے بعد تمام شیڈول جاری کر دیا جائیگا ۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی ہے ، نو ممالک جو پہلے اپنے فیوچر پروگرام طے کر چکے تھے ہمارے اصرار پر پاکستان کے ساتھ کھیلنے کیلئے کئی ممالک نے اپنے کچھ ٹورز کینسل بھی کر دئیے ہیں جو بڑی بات ہے ۔

بھارت سمیت تمام ممالک کے ساتھ ٹورز شیڈول کرلیے، بھارت سے سیریز طے ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدوں میں یہ شق شامل کی جارہی تھی کہ ہوم ٹورز کے مقابلے پاکستان کے میدانوں پرنہیں ہونگے لیکن میں نے یہ شق شامل نہیں کرنے دی اور یہ لکھوا ہے کہ یہ ٹورز دبئی یا کہیں اور ہو نگے جسکا مقصد یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے پر یہ پاکستان میں بھی ہوسکتے ہیں۔

نجم سیٹھی نے بتایا کہ بائنڈنگ معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے بعد میڈیا رائٹس کی بولی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم معاہدہ نہ کرتے تو دو سال میں بورڈ دیوالیہ ہو جاتا اور ہم نے ڈومیسٹک کرکٹ کہاں سے چلانی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کئی سالوں سے ہمارے ساتھ نہیں کھیل رہا لیکن اب اس نے اسکی حامی بھر لی ہے اور یہ ایک مشکل کام تھا ۔ بھارت کو بھی پتہ ہے کہ اگر اس کا چیئرمین ہوتا ہے تو ایشیاء سے پاکستان اسکی مخالفت کرتا ہے تو یہ اسکے لئے بھی اچھی بات نہیں ۔

ہم نے واضح طو رپر کہا ہے کہ اگر ہماری سپورٹ چاہیے تو پاکستان کی بھی ماننا پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ باہمی سیریز سے تقریباً30ارب روپے ملنے ہیں جبکہ آئی سی سی سے ملنے والے فنڈز اس کے علاوہ ہوں گے۔ اس سے پہلے پاکستان کو 0.3فیصد ملتا تھا لیکن اب پاکستان کو آئی سی سی سے 1.3فیصد ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی نے ہماری یہ درخواست بھی مان لی ہے کہ آئندہ سال آئی سی کا صدر پاکستان نامزد کرے گا ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آئی سی سی نے عامر کے کیس پر نظر ثانی کی یقین دہانی کر ادی ہے اور اسکے لئے اسے اینٹی کرپشن یونٹ کے قوانین میں تبدیلی کرنا پڑے گی ۔ اب اسکے لئے پٹیشن تیار کی جائے گی اور اسے جون میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔ پی سی بی محمد عامر کو سپورٹ کرے گا ۔ اگر عامر کی درخواست تسلیم کر لی گئی تو انکی سزا میں مزید ایک سال کی کمی ہو سکتی ہے جسکے بعد وہ ڈومیسٹک اور فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل سکیں گے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کا آئندہ اجلاس پاکستان کرکٹ بورڈ کی میزبانی میں پاکستان میں ہوگا ۔ انہوں نے بھارت کی ماضی میں وعدہ خلافیوں کے حوالے سے کہا کہ بھارت پر واضح کر دیا کہ ہماری سپورٹ چاہیے تو معاہدوں پر عمل کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایک شق ایسی ہوتی ہے جسکے تحت کسی بھی ملک کو اپنے ملک کی وزارت خارجہ کی ہدایت پر عمل کرنا ہوتا ہے اور اگر اسکے علاوہ اگر کوئی ملک خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس پوزیشن میں ہونگے کہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ جب ہماری ڈیمانڈ تھی تو ہمیں ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا لیکن اب بھی ہم نے ان فیصلوں کا نقصان نہیں ہونے دیا اور ریکو رکر لیا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں بورڈ کی موجودہ مینجمنٹ کی کارکردگی سے بالکل مطمئن ہوں ۔انہوں نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں ٹیم کی شکست کے حوالے سے کہا کہ مجھے جو رپورٹ ملی ہے میں اس سے مطمئن ہوں اگر آپ (صحافی )مطمئن نہیں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

انہوں نے اس سوال کہ آپ کی مدت مہینوں میں ہے اور آپ معاہدے آٹھ سالوں کے کر رہے ہیں کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ ہمیں یہ ٹاسک بھی دیا گیا ہے کہ ہم نے نیا آئین بنانا ہے اس کے لئے ہم نے معزز سابق جسٹس صاحبان پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے اگلے مہینے اسکا ڈرافٹ آئے گا جس کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کریں گے ۔ ہم نے ریجنل کر کٹ کوبھی دوبارہ بحال کرنا ہے اور یہ راتوں رات نہیں ہو سکتا اسکے لئے ستمبر سے اگلے چھ ماہ تک سٹرکچر بنے گا اس لئے ہمیں کم ا زکم ایک ٹرم کی توسیع دینا پڑے گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ذاکر خان کو ہدایت کر دی ہے کہ ویمن ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے بیرون ممالک سے فی میل کوچ لانے کیلئے اشتہار دیا جائے ۔ انہوں نے راشد لطیف کے حوالے سے بتایا کہ انکے ساتھ سب کچھ طے ہو چکا تھااو رجب انہیں کنٹریکٹ دستخط کے لئے بھیجا تو انہوں نے اسے واپس بھجوا دیا ہے ۔ میں نے دبئی سے معین خان سے بات کی کہ وہ راشد لطیف سے ملیں اور ملاقات کی تاریخ طے کریں لیکن انہوں نے بتایا کہ راشد لطیف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کرینگے اس لئے میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اب وہ ہمارا حصہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے عامر سہیل کے حوالے سے کہا کہ وہ جہاں پر ہیں وہیں اچھے لگتے ہیں۔ سبحان احمد نے بتایا کہ سری لنکن بورڈ کے ساتھ ڈھاکہ میں میٹنگ ہوئی ہے اور جولائی اگست میں دو ٹیسٹ اور تین ایک روزہ میچوں کی سیریزز بارے بات ہوچکی ہے لیکن جلد ہی اس کا حتمی شیڈول جاری کردیا جائے گا ۔انہوں نے میڈیا رائٹس کی مدت کے حوالے سے کہا کہ آئی سی سی نے اسے آٹھ سال کے لئے میڈیا رائٹس کی اجازت دیدی ہے لیکن ہم اپنے فائدے کو دیکھ کر فیصلہ کرینگے کہ میڈیا رائٹس پانچ سال کے لئے دینے ہیں یا آٹھ سال کیلئے دینے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/04/2014 - 19:23:18

اپنی رائے کا اظہار کریں