انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور محکمے کے اندر احتساب کیلئے قائم سیل انتہائی فعال ..
تازہ ترین : 1

انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور محکمے کے اندر احتساب کیلئے قائم سیل انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں‘ ڈائریکٹر ایف آئی اے

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8اپریل 2014ء)ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور محکمے کے اندر احتساب کیلئے دو سیل قائم کئے گئے ہیں جن کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ،لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک بھجوا کر انکی جمع پونجی لوٹنے والوں اور ان کا ساتھ دینے والے محکمے کے ملازمین سے کوئی رعایت نہیں برتی جائیگی اور آٹھ ملازمین کے خلاف مقدمے کا اندراج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

ان خیالات کااظہار انہوں اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ ڈائریکٹر ایف نے بتایا کہ شہریوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ممالک بھجوانے والے مانانوالہ میں الصادق ٹورز پر چھاپہ مار کر 14پاسپورٹ اور دو ملزما ن کو گرفتار کر لیا گیا جنہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے پاس کسی طرح کی کوئی قانونی دستاویز یا لائسنس نہیں تھا کہ وہ لوگوں کو باہر بھجوا سکیں او ربعد میں یہی لوگ بیرون ممالک کی جیلوں میں قید یا ڈی پورٹ کر دئیے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عوام سے التماس ہے کہ وہ صرف ان ٹریولز ایجنسیز سے بیرون ممالک جانے کی دستاویزات اور ٹکٹس تیار کرائیں جو حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور اس میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں ۔ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے امیگریشن ویجی لینس سیل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اورسفارتخانوں اور ائیر پورٹس کے عملے سے ملکر ایسے گروہوں کو پکڑا جارہا ہے جبکہ محکمے کے اندر احتساب کے لئے بھی انٹرنل اکاؤنٹبیلٹی سیل تشکیل دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جو اہلکار کریمنل سر گرمیوں میں ملوث ہوں گے انہیں نہ صرف محکمے سے نکالیں گے بلکہ انکے خلاف مقدمات بھی درج کرائینگے اور غفلت اور کوتاہی کے مرتکب افسران اور ملازمین کے خلاف محکمہ کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف محکموں سے ڈیپوٹیشن پر آنیوالے تمام افسران اور اہلکاروں کو انکے محکموں میں واپس بھجوا دیا گیا ہے اب اگر کوئی آنا چاہے گا تو اسے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا ہونگے ۔

وقت اشاعت : 08/04/2014 - 16:24:52

اپنی رائے کا اظہار کریں