لاہور پولیس کا کارنامہ، 9 ماہ کے بچے پرقاتلانہ حملے کا مقدمہ بنادیا
تازہ ترین : 1
لاہور پولیس کا کارنامہ، 9 ماہ کے بچے پرقاتلانہ حملے کا مقدمہ بنادیا

لاہور پولیس کا کارنامہ، 9 ماہ کے بچے پرقاتلانہ حملے کا مقدمہ بنادیا

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 3اپریل 2014ء)لاہورپولیس کاایک اورکارنامہ،صرف9ماہ کے بچے پر پولیس پرقاتلانہ حملے کامقدمہ درج کرلیا۔ملزم اپنے دادا کی گودمیں بیٹھ کر عدالت میں پیش ہواتو اس کا ہتھیار فیڈر بھی اس کے پاس تھا۔عدالت نے ضمانت تو منظور کر لی مگر جب ضمانت نامے پر انگوٹھے لگانے کاوقت آیا تو معصوم رونے لگ گیا۔

لاہورکارہائشی9ماہ کاموسیٰ خان،جس نے ابھی چلنا بھی نہیں سیکھا۔مسلم ٹاوٴن پولیس نے اس کے خلاف پتھراوٴ اور ساتھیوں سے مل کر پولیس کو قتل کرنے کی کوشش کا مقدمہ درج کرلیا ۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے یکم فروری کوسوئی گیس عملے کے ساتھ ریڈ کیا توبچے نے حملہ کر دیا۔ آج ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی کی عدالت میں بچے کی پیشی تھی۔ معصوم اپنے دادا یسیٰن کی گود میں عدالت میں پیشی پرآیا تو اس کا ہتھیاردودھ سے لوڈڈ فیڈر اس کے منہ میں تھا۔

ہر کوئی ملزم کو دیکھ کر ششدراور اس کاجرم سن کر حیران رہ گیا۔ڈیوٹی مجسٹریٹ نے بچے کی ضمانت تو منظورکر لی۔مگر ضمانت نامے پر انگوٹھے لگانے کا وقت آیا تو عدالت"انصاف اندھا ہوتاہے "کے مصداق خاموش اور ملزم ،جس کا انگوٹھا پکڑ کر پہلے سیاہی میں ڈبویا گیااور پھر کاغذ پر ثبت کیا گیا۔یہ سب برداشت نہ کر تے ہوئے رونے لگا۔دادانے لاچارگی کے عالم میں فیڈر دوبارہ اس کے منہ میں دے دیا۔

خبرمیڈیا پر چلی تو اعلیٰ پولیس حکام اور حکومت کو بھی ہوش آیا۔مقدمہ درج کرنے والا تھانیدارکاشف کو معطل کردیا گیا۔ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار نے ایس پی اقبال ٹاوٴن سے24گھنٹوں میں رپورٹ بھی مانگ لی۔صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھونے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نوٹس لے لیا۔

وقت اشاعت : 03/04/2014 - 15:06:04

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • Junaid Naveed Says : 03/04/2014 - 21:43:24

    I feel very bad and guilty on the behaviour of that kind from our police firce, shame on them they are not .human beings

    Reply to this comment
  • شاہ محمود خان مہمند کی رائے : 03/04/2014 - 19:25:39

    پولیس والوں نے صحیح کیا۔ یہ دہشت گرد تھا۔ اگر یقین نہیں اتا تو فاٹا کے لوگوں سے پوچھے۔ شائد شاہد اللہ شاہد نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہوگی کیونکہ اسی دن سیز فائر کا ڈیڈ لائن بھی ختم ہوا تھا۔ اس بات سے ہم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پولیس کی کارگردگی کیسی ہے۔؟فاٹا کے نوجوانوں کا ڈر دیکھ کر اآپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہاں اگر ایک طرف لوگ آرمی سے خوفزدہ ہے تو دوسری طرف طالبان کے خوف سے اُن کی نیندیں حرام ہیں۔ ایسی قوم کی تقدیر ہی ایسی ہے۔ یہاں بے گناہ لوگوں کا قتل عام اور ایسی نو ماہ کے بچوں پر مققدمہ درج کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

    اس رائے کا جواب دیں
  • سید توصیف حیدر کی رائے : 03/04/2014 - 15:18:03

    جج صاھب کو ملزم کو دیکھ کر ہوش نہین آیا - فضول فرسودہ نظام -

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں