پاکستان کو پانی سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا ،حکومت صاف پانی کی فراہمی کیلئے ..
تازہ ترین : 1

پاکستان کو پانی سے متعلق سنگین مسائل کا سامنا ،حکومت صاف پانی کی فراہمی کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے‘ گورنر پنجاب،پانی کے مسائل سے صرف دور افتارہ علاقے ہی نہیں ملک کے بڑے شہر بھی سنگین مسئلہ سے دوچار ہیں‘ چوہدری محمد سرور کا خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27مارچ۔2014ء)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ ملک کو معاشی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قوم کو صحتمند ماحول فراہم کریں اور یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے وسائل کو کرپشن سے پاک کرکے مفاد عامہ پر خرچ کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں ہیومین رائٹس گروپ آف پاکستان کے زیر اہتمام پانی کے عالمی دن کے موضو ع پر منعقدہ سیمینار میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار سے ڈنمارک کے سفیر جازفرمولر ،نمائندہ یو این ڈی پی ٹیمو پکالا ،ِ سیکرٹری جنرل ہیومین رائٹس گروپ آف پاکستان چوہدری افتخار حسین کے علاوہ دیگر اہم شخصیات اور ماہرین نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے عالمی تناظر میں پانی کی اہمیت اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے متعلق تفصیلاً گفتگو کی۔ گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھی پانی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے اور موجودہ حکومت لوگوں کو صاف پانی مہیا کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔

چوہدری سرور نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے مسائل سے دور افتارہ علاقے متاثر نہیں بلکہ ملک کے بڑے شہر بھی اس سنگین مسئلہ سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلط پانی کے استعمال سے 80 فی صد بچے ڈائریا ، جلدی و جگر اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ہمیں اپنے وسائل کو حفظان صحت کے منصوبے پر لگانا ہوگا ۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو جہاں دیگر شعبوں میں چیلنج کا سامنا ہے وہاں آلودہ پانی سے بے شمار مسائل پیدا ہورہے ہیں اور حکومت اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے پرائیویٹ شعبے کی ہر سطح پر سر پرستی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اسپتالوں اور دیگر پبلک مقامات پر صاف پانی کے فلٹر پلانٹ ترجیح بنیادوں پر لگائے جارہے ہیں ۔دیگر مقررین نے صاف پانی کی دستیابی اور آلودہ پانی کے استعمال سے نجات کے لیے یہ مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے گورنر کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 27/03/2014 - 21:05:38

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں