وزیر اعلی شہباز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس،کول پاورپلانٹس ..
تازہ ترین : 1

وزیر اعلی شہباز شریف اور سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس،کول پاورپلانٹس کے کوئلے کی نقل و حمل کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا،پنجاب میں 2017 ء تک دو کول پاور پلانٹس جبکہ دیگر چار 2018 ء تک مکمل ہو جائیں گے، وزیر اعلی محمد شہباز شریف،کول پاورپلانٹس سے 7820 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی ، صنعتی ترقی کے لئے پاور پلانٹس کو سستے ترین توانائی ذرائع پر منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے،اجلاس میں وزیر ریلوے سعد رفیق ، وزیر پلاننگ و ڈویلپمنٹ احسن اقبال ، وزیر پورٹ وشپنگ کامران مائیکل ، اعلی وفاقی و صوبائی حکام موجود تھے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2014ء)وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف اوروفاقی وزیر خزانہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار نے پنجاب میں مجوزہ پاورپلانٹس کے لئے امپورٹڈ کوئلے کی نقل و حمل کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی -وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے اجلاس کے دوران کہا کہ کول پاورپلانٹس کی وجہ سے ماحولیاتی اثرات کا تجزیہ بھی جلد ازجلد مکمل کیا جانا چاہیے - عالمی سطح پر 650 میگا واٹ کول پاور پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر تصور کیا جاتا ہے -انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت پنجاب 2017ء تک دو پاور پلانٹس کو مکمل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ دیگر چار بھی 2018ء تک مکمل ہو جائیں گے اورچھ میں سے ہر سائٹ پر دو پاور پلانٹس کے ذریعے 7820 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی جس کے ذریعے گرمیوں کے دوران بجلی کی طلب اور رسد کا فرق با آسانی پورا کیا جا سکے گا-وزیر اعلی نے کہا کہ ملک کی صنعتی ترقی کے لئے پاور پلانٹس کو سستے ترین توانائی ذرائع پر منتقل کرنا وقت کی ضرورت ہے-وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے پنجاب میں قائم ہونے والے چھ کول پاورپلانٹس کو کوئلے کی فراہمی کے لئے روٹ میپ کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے -انہوں نے بتایا کہ لاہور تک ڈبل ٹریک کی تنصیب کا کام پہلے ہی جاری ہے - انہوں نے مزید بتایا کہ 2018 ء میں کول پاور پلانٹس آپریشنل ہونے کے بعد سالانہ 35 ملین ٹن کوئلے کی نقل وحمل کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے زیادہ بڑے پاور انجن اور بڑی بوگیوں کی خریداری درپیش ہو گی جبکہ وزارت پورٹ و شپنگ کی طرف سے بتایا گیا کہ پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ پر کوئلے کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے انتظامات کئے جا رہے ہیں - اجلاس کوبتایا گیا کہ دونوں پورٹس پر استعداد کار بڑھانے کے لئے نجی شعبے کی خدمات مستعار لی جا سکتی ہیں -وفاقی سیکرٹری پانی وبجلی نے بتایا کہ کول پاور پلانٹس کے لئے مجوزہ مقامات پر ٹرانسمیشن لائن کا انفراسٹرکچر اور توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تا ہم ضرورت پڑنے اضافی ٹرانسمیشن لائنز بھی قائم کی جاسکیں گی- وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ تینوں وزارتیں الگ الگ فزیبلٹی رپورٹ بنانے کی بجائے وزارت خزانہ کے ذیلی ادارے انفراسٹرکچر پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فسلیٹی کے اشتراک سے مربوط فزیبلٹی پلان تیار کریں تا کہ کوئلے کی اضافی نقل و حمل کے لئے انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے- انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے جو بھی ممکن ہو کوئلے کی نقل و حمل کے انتظامات کئے جائیں- وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ کول پاور پلانٹس کے لئے مقامات کا انتخاب دو رویہ ریلوے ٹریک ، ٹرانسمیشن لائنز اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی دستیابی کو مد نظر رکھ کر کیا جائے - وفاقی وزیرپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال ، وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ کامران مائیکل ، وفاقی سیکرٹری خزانہ وقار مسعود ، پانی و بجلی کے وفاقی سیکرٹری سیف اللہ چٹھہ اور دیگر وفاقی و صوبائی حکام بھی موجود تھے-

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/03/2014 - 21:09:16

اپنی رائے کا اظہار کریں