پنجاب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ ملا ،گورنر پنجاب کا خراج ..
تازہ ترین : 1

پنجاب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ ملا ،گورنر پنجاب کا خراج تحسین،شہباز شریف محنتی اور ویژنری لیڈر ہیں،2010کے بدترین سیلاب میں اگلے محاذ پر جاکر متاثرین کی امداد کی، چودھری سرور، قوم کی بیٹیوں نے ہر شعبہ میں لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے،پنجاب میں اب ’ نقل مکانی ‘تو ہوسکتی ہے نقل نہیں ہوسکتی، شہباز شریف

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24مارچ۔2014ء)وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے 11 ویں سالانہ کانووکیشن کی تقریب میں بارش اور خراب موسم کے باوجود شرکت کی۔ انہوں نے بی ایس، ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والی طالبات کو ڈگری حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دنیا کی ممتاز ترین 500 یونیورسٹیوں کی فہرست میں اپنا نام شامل کرلے تو پنجاب حکومت کے خزانے کھول دیں گے۔

انہوں نے وائس چانسلر سے کہا کہ یہ آپ کے لئے چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ تقریب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے وزیراعلیٰ کی طرف سے تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں زبردست اقدامات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں محنتی اور ویژنری لیڈر قرار دیا۔ گورنر نے کہا کہ پنجاب کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اسے شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ ملا ہے جنہوں نے 2010میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کے دوران اگلے محاذ پر جاکر متاثرین کی امداد کے کاموں کی نگرانی کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا فیصلہ شہبازشریف کا ایک اور کارنامہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ قوم کی بیٹیوں نے میڈیکل، انجنےئرنگ اور دیگر تعلیمی شعبوں میں لڑکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے-انہوں نے لطیف پیرائے میں کہا کہ پنجاب سے بوٹی مافیا کا خاتمہ کردیا ہے، اب یہاں سے’ نقل مکانی ‘تو ہوسکتی ہے لیکن نقل نہیں ہوسکتی۔

وزیراعلیٰ نے قیام پاکستان کے اغراض و مقاصد اور قرارداد پاکستان کی منظوری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مثالی اتحاد اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور یہی قرارداد قیام پاکستان کی بنیاد بنی۔ آج بھی وہی جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر یہ شعر پڑھا:

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس شعر پر کیا :
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 24/03/2014 - 19:35:23

اپنی رائے کا اظہار کریں