نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ ہے ،کبھی اپنے دفاعی اداروں کو کسی کے مفاد میں پہلے استعمال ..
تازہ ترین : 1
نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ ہے ،کبھی اپنے دفاعی اداروں کو کسی کے مفاد میں ..

نواز شریف کا ٹریک ریکارڈ ہے ،کبھی اپنے دفاعی اداروں کو کسی کے مفاد میں پہلے استعمال کیا نہ آئندہ ایسا کرینگے‘ پرویز رشید، پاکستان دنیا کے معاملات میں مداخلت کرے گا اور نہ کسی کو اپنے معاملات میں داخلت کرنے دیگا، ہم اسے جرم سمجھتے ہیں، کوئی ادارہ بھارت سے اچھے تعلقات کی بحالی کا مخالف نہیں ،بھارت سے تجارت سے پاکستان کو ایک ارب آبادی کی بڑی منڈی دستیاب ہو گی، حکومت اور طالبان میں جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے ،توانائی بحران،معیشت اوردہشتگردی پر کسی کوبھی سیاست نہیں کرنی چاہیے ، مالی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ رکا پڑا ہے ،منصوبے کو مکمل کرنا چاہتے ہیں او رکریں گے ،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا میٹ دی پریس پروگرام میں اظہار خیال

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22مارچ۔2014ء)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ نواز شریف تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنے ہیں اور انکا ٹریک ریکارڈ ہے کہ انہوں نے کبھی پہلے اپنے دفاعی اداروں کو کسی کے مفاد میں استعمال کیا اور یقین دلاتے ہیں نہ آئندہ ایسا کریں گے ، پاکستان دنیا کے معاملات میں مداخلت کرے گا اور نہ کسی کو اپنے معاملات میں داخلت کرنے دے گا جس طرح ہم کسی کی اپنے معاملات میں مداخلت کو جرم سمجھتے ہیں بالکل اسی طرح دوسروں کے معاملات میں مداخلت بھی جرم ہے ، کوئی بھی ادارہ پاکستان کے بھارت سے اچھے تعلقات کی بحالی کا مخالف نہیں ،بھارت کی اشیاء دبئی کے راستے بھی پاکستان آرہی ہیں اگر جو چیز واہگہ کے راستے دو روپے میں مل سکتی ہے وہ ہم دبئی کے راستے 200میں لا کر کیوں عوام کو دے رہے ہیں ، بھارت سے تجارت سے پاکستان کو ایک ارب آبادی کی بڑی منڈی دستیاب ہو گی ،حکومت اور طالبان میں جنگ بندی میں توسیع ہو سکتی ہے ،توانائی بحران،معیشت اوردہشتگردی پر کسی کوبھی سیاست نہیں کرنی چاہیے ، مالی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ رکا پڑا ہے لیکن ہم اس منصوبے کو مکمل کرنا چاہتے ہیں او رکریں گے ،

وزیراعظم محمد نواز شریف کی مثبت پالیسیوں کی بدولت لڑکھڑا کرگرنے والی معیشت آج اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی ہے ،موجودہ حکومت کی کاوشوں کی بدولت آج گیس کی وجہ سے نہ تو کسی کا چولہا بجھ رہا ہے اور نہ ہی صنعتوں کا پہیہ جام ہورہاہے،جنگوں کی بجائے اقتصادی حکمت عملی اختیارکرنے کی بدولت یورپی یونین نے ہمیں جی ایس ٹی پلس کا درجہ ، چین نے 32ارب ڈالر کی یقین دہانی کے علاوہ دیگر ممالک بھی معاونت کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور پریس کلب میں ”میٹ دی پریس “ پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری،پی ایف یوجے کے صدر افضل بٹ،میڈیاایڈووکیسی سنٹر کے صدر سکندر حمید لودھی اور دیگر بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ موجودہ حکومت کو جب اقتدار ملاتو بڑے بڑے بحران بھی ورثہ میں ملے،20,20گھنٹے بجلی نہ ہوتی تھی جبکہ سردیوں میں گیس کی وجہ سے گھروں کے چولہے بجھ جاتے تھے اور فیکٹریاں بند ہوجاتی تھیں۔

موجودہ حکومت کی 8ماہ کی شبانہ روز کاوشوں کی بدولت نہ تو کسی کا چولہا بند ہوا اور نہ ہی فیکٹریاں بند ہونے سے ملازمین نے مظاہرے کئے۔ وزیر اعظم نے 16,16 گھنٹے اجلاس کئے جن کی بدولت توانائی کے بحران پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے‘ اب جب آئندہ انتخابات میں جائینگے تو قوم کو ایسا پاکستان دیکر جائیں گے جو پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو گا جس میں نہ صرف ضرورت کے مطابق بجلی ملے گی بلکہ بجلی وافر پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام بھی ہو رہا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے فرنس آئل کے مقابلے میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے ہیں تاکہ جلدی اور سستی بجلی پیدا کی جاسکے۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو معیشت لڑکھڑا کر گر چکی تھی جس کی نبض ڈوب چکی تھی اور تجہیز و تکفین کا وقت آ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت اب معیشت میں نہ صرف خود سانس لینا شروع کر دیا بلکہ ایک صحت مند شخص کی طرح چلنا شروع کر دیا ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں انوسٹمنٹ بڑھنے کی وجہ سے 30 لاکھ پوائنٹس کراس کریگی‘ ڈالر کو 125 پر پہنچانے کی پیشین گوئیاں کرنیوالے آج دیکھ لیں کہ موجودہ حکومت نے اپنے اخراجات کو کم کرکے روپے کی قدر میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کا ویژن تھا کہ خطے میں محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کرنے کی بجائے تعاون کی پالیسی اختیار کرینگے تاکہ پاکستان کا شمار مسائل حل کرنیوالے ممالک میں ہو اور اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کئے جس کی بدولت یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا سٹیٹس دیا جبکہ چین نے 32 ارب ڈالر کی انوسٹمنٹ کی نوید سنائی۔

وزیر اعظم کی شروع دن سے پالیسی تھی کہ پاکستان کو جنگوں سے باہر نکال کر امن کے قریب لیجایا جائے اور اقتصادی حکمت عملی کو اختیار کیا جائے جس پر اعتماد کرتے ہوئے دوست ممالک خزانوں کے منہ کھول رہے ہوں اس وزیر اعظم پر متضاد الزامات لگائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا بری بات نہیں تاہم سیاسی جماعتوں سمیت ہم سب کو توانائی بحران‘ معیشت اور دہشت گردی پر سیاست نہیں کرنا چاہئے اور تنقید کرنے سے پہلے اس شخص کا ٹریک ریکارڈ ضرور دیکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ کبھی سرحدوں سے باہر مداخلت کی اور نہ کریگا بلکہ اس پر اکسانے کو بھی جرم سمجھتا ہے جو لوگ ملکی ترقی پر خوش نہیں ہیں اور پاکستان کو پرامن ملک نہیں دیکھنا چاہتے وہ اس طرح کے الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے‘ دونوں مذاکراتی ٹیمیں آپس میں مل رہی ہیں‘ ہمیں دونوں کو وقت دینا چاہئے اور اچھی امید رکھنی چاہئے۔

وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے قوم کو پالیسی دی تھی جس میں ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی پالیسی بھی شامل تھی اور انتخابات کے موقع پر عوام نے ووٹ کے ذریعے اسکی تائید کی‘ ہم پوری دنیا سے تجارت کرنا چاہ رہے ہیں تو ہمسایہ ممالک سے تجارت کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے جو چیز ہمیں دبئی کے راستے 200 روپے میں ملے اور وہی چیز واہگہ کے راستے 2 روپے کی ملے تو ہمیں اپنا فائدہ سوچناہو گا۔

ہمسایہ ملک سے تجارت کرنے میں انہیں 18 کروڑ جبکہ ہمیں ایک ارب افراد کیلئے سرمایہ کاری کی اپرچونیٹی کے مواقع ملیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کرنیوالے کی نیتوں میں خلوص ہوتا تو وہ گیس فراہم کرکے جاتے۔ 2008ء میں معاہدہ کرتے اور 2013ء میں اس کا کریڈٹ لیتے جبکہ انتخابی مقصد کیلئے صرف تختی لگائی گئی اور اس کیلئے فنانشل پلان نہ رکھا گیا اور یہ معاہدہ اس وقت کیا جب انتخابی عمل شروع ہو چکا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کی تربیت کے معاہدے کی اہمیت کو بہت زیادہ سمجھتا ہوں ۔ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس پلرکی مضبوطی اسکی توانائی تو سب سے زیادہ ضرورت کی حامل ہے کیونکہ اگر یہ مضبوط نہیں ہے وہ چھت کو کتنی دیر سنبھال کر رکھے گا ۔ ریاست کا وجود صحافت کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے اگر کسی ملک کی صحافت مضبوط ہے اور مثبت ہے وہ تو ریاست بھی مضبوط ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ذمہ داری کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ آپ حکومتوں پر تنقید نہ کریں میں اپنی گفتگو میں ریاست کے تحفظ کی بات کر رہا ہوں ۔ حکومتی آتیں جاتی رہتی ہیں آج مسلم لیگ ن کی حکومت ہے تو کل کسی اور کی حکومت ہوگی ۔حکومتوں سے غلطیاں ہوتی ہیں غلطیوں کی نشاندہی کرنا صحافت کے فرائض میں شامل ہے لیکن ریاست کے وجود کو بر قرار رکھنا چاہیے پاکستان کو قائم رہنا ہے اسکے مفاد کے تحفظ کو بر قرار رکھنا ہم سب کے فرائض میں شامل ہوتا ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 22/03/2014 - 19:50:08

اپنی رائے کا اظہار کریں