پنجاب اسمبلی نے پچاس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکر ز اورہیلتھ سپر وائزر کو مستقل کرنے کا ..
تازہ ترین : 1

پنجاب اسمبلی نے پچاس ہزار لیڈی ہیلتھ ورکر ز اورہیلتھ سپر وائزر کو مستقل کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا،اپوزیشن نے حکومت کی طرف سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کے اقدام کی حمایت میں اپنی تمام ترمیم واپس لے لیں،وزیر تعلیم رانا مشہود نے خاتون رکن راحیلہ انور سے متعلق بولے گئے ذو معنی الفاظ پر معافی مانگ لی ،خاتون رکن نے احتجاج ختم کردیا

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20مارچ۔2014ء)پنجاب اسمبلی نے صوبے میں 48ہزار لیڈی ہیلتھ ورکر ز اور1947ہیلتھ سپر وائزر کو مستقل کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا،اپوزیشن نے حکومت کی طرف سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنے کے اقدام کی حمایت میں اپنی تمام ترمیم واپس لے لی ، صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان کی طرف سے خاتون رکن راحیلہ انور سے متعلق بولے گئے ذو معنی الفاظ پر معافی مانگ لی جس پر خاتون رکن نے احتجاج ختم کردیا ۔

جمعرات کے روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے آغاز پر صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان نے وضاحت پیش کی کہ انہوں نے بدھ کے روز وقفہ سوالات کے دوران معزز خاتون رکن کے بارے میں کسی قسم کے غلط الفاظ استعمال نہیں کئے میں نے صرف ان کے بار بار کی نشاندہی پر ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کی بات کی تاہم اگر میرے الفاظ سے معزز رکن کی دل آزاری ہوئی ہے میں اس پر ایوان کے تقدس کی خاطر معذرت کرتا ہوں۔

اپوزیشن لیڈر محمود الرشید نے کہاکہ اچھا ہوتا کہ وزیرتعلیم یہ وضاحت اسپیکر چیمبر میں دیتے کیونکہ یہ طے ہوا تھا کہ اب یہ معاملہ ایوان کے بجائے اسپیکر چیمبر میں زیر بحث آئے گا جس کے بعد اسپیکر کی ہدایت پر اراکین اسمبلی ناراض خاتون رکن راحیلہ انور کو منا کر ایوان میں واپس لے آئیں ۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسودہ قانون تولیدی ، میٹرنل ، نومولود و چائلڈ ہیلتھ اتھارٹی پنجاب 2014ء کی متفقہ طور پرمنظوری دیدی جس کے تحت پنجاب میں سالہا سال سے مستقل کئے جانے کیلئے احتجا ج کرنے والی 48ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز اور 1947ہیلتھ سپر وائز ر کومستقل کرنے کا بل منظور کر لیا گیا ۔

بل کی منظوری کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ہیلتھ سپر وائزرز کی مستقلی اور تعیناتی کے لئے میٹرک تک تعلیم اور کسی ہیلتھ کیئر سے میٹرنٹی اور چائلڈ کیئر کے تجربے کا سرٹیفکیٹ ضروری ہوگا ۔ اتھارٹی میں دو اراکین اسمبلی اور صحت کے حوالے سے کام کرنے والی کسی غیر سرکاری ادارے کی ایک خاتون رکن کو بھی شامل کیا جائے گا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/03/2014 - 22:51:18

اپنی رائے کا اظہار کریں