چین کا پاکستان کیلئے 32ارب ڈالر کا تاریخی سرمایہ کاری پیکیج وزیراعظم کی قیادت پر ..
تازہ ترین : 1

چین کا پاکستان کیلئے 32ارب ڈالر کا تاریخی سرمایہ کاری پیکیج وزیراعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہے‘ شہبازشریف ،سرمایہ کاری پیکیج پر پوری طرح عملدرآمد سے توانائی بحران پر قابو پا نے میں مدد ملے گی ، ملک میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا،توانائی بحران نے قومی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ،مسئلے پر قابو پا نے کیلئے توانائی کے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام کر رہے ہیں،توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے صنعتکاروں،تاجروں،سرمایہ کاروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے، نجی شعبہ توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے،ہر ممکن سہولتیں دینگے،پنجاب میں کیپٹو پاور کے فروغ کی گنجائش موجود ہے،گنے کے پھوگ ، بائیو ماس، بائیو گیس اوردیگر متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے،صنعتکاران مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں‘ وزیراعلی پنجاب کاکیپٹو پاور کے فروغ کے حوالے سے کانفرنس سے خطاب ،حکومتی اقدامات کی بدولت ا س سال 1800میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی ،لوڈشیڈنگ میں ریلیف ملے گا‘ وفاقی سیکرٹری پانی و توانائی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مارچ۔2014ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے کہا ہے کہ چین کی قیادت نے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے پاکستان کے لئے جس 32ارب ڈالر کے تاریخی اور بڑے سرمایہ کاری پیکیج کا اعلان کیا ہے اس پر پوری طرح عملدرآمد کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی،سرمایہ کاری پیکیج کے تحت ملک بھر میں توانائی، انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جائیں گے، اقتصادی پیکیج کو بروئے کار لاکر نہ صرف توانائی کی کمی کے مسئلے پرقابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ملک میں ترقی وخوشحالی کے ایک نئے دورکاآغاز ہوگا، توانائی کے بحران نے صنعت، زراعت، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے علاوہ قومی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، توانائی کی کمی کے پیش نظر شرح نمو میں بھی اضافہ نہیں کیا جا سکتا، اسی لئے حکومت توانائی کے بحران پر جلد ازجلد قابو پانے کے لئے دن رات کوشاں ہے، توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے صنعتکاروں،تاجروں،سرمایہ کاروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے، نجی شعبہ توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے حکومت انہیں ہر ممکن سہولتیں فراہم کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں کیپٹوپاورکے فروغ کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔صوبائی وزیر معدنیات چودھری شیر علی، وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی سیف الله چٹھہ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، صنعتکاروں،سرمایہ کاروں اور معروف بزنس کمپنیز کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔

محکمہ توانائی پنجاب اورانٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (ورلڈ بینک گروپ ) کے اشتراک سے منعقد ہونے والی 2 روزہ کانفرنس میں کیپٹو پاور کے فروغ اور توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے تجاویز و سفارشات مرتب کی گئیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کیپٹو پاور کے فروغ کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد اچھی کاوش ہے اور اس کانفرنس میں پیش کی جانے والی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ صنعتی،تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے توانائی کی اشد ضرورت ہے اورتوانائی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھا یاجا رہاہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں کوئلے ،سولر، ہائیڈل ، بائیو ماس، بائیو گیس ،گنے کے پھوگ اور دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی بڑی گنجائش موجود ہے اور حکومت اس جانب تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

صنعتکار ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے آگے آئیں ،حکومت تمام ضروری سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں 6مقامات پر کول پاور پلانٹس لگانے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ ساہیوال میں حکومت پنجاب اپنے وسائل سے کوئلے سے 1320میگا واٹ کے دو پاور پلانٹس لگا رہی ہے ۔ ہمیں اپنی صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی فوری ضرورت ہے اس لئے ابتدائی طو ر پر درآمدی کوئلے سے بجلی کے منصوبے لگائے جا رہے ہیں اور کوئلے کی نقل وحمل کے لئے وزارت ریلوے سے بات ہوئی ہے ۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی کی سربراہی میں کوئلے کی نقل و حمل کے حوالے سے اعلیٰ سطح کمیٹی کام کررہی ہے اور اس کمیٹی میں وفاقی اداروں کے نمائندے اور سٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ کوئلے کی مانینگ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ توانائی کے منصوبے لگانے کے لئے مقامی کوئلے کو بھی بھرپورطریقے سے ا ستعمال میں لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین نے بھارت میں کوئلے سے بجلی کے حصول کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ چین ہمارا دوست ملک ہے او رہم بھی اس کی ٹیکنالوجی سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے۔ چین کی طرف سے 32ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے پیکیج سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لئے انتھک محنت ، مکمل ہوم ورک اور پروفیشنل اپروچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ۔ اگر ہم اس پیکیج سے استفادہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو یقینا تاریخ کا دھارا بدلے گا اور پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب حکومت نے بہاولپور میں قائد اعظم سولر پا رک کے منصوبے کا آغاز کر کے سولر پاور میں لیڈ لی ہے۔ پنجاب حکومت قائد اعظم سولر پارک میں 100میگا واٹ کا سولر پاور پلانٹ لگا رہی ہے جس سے اس سال کے آ خر تک بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی۔ کانفرنس کے شرکاء کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ حکومت توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کیلئے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

اس لئے نجی شعبہ آگے آئے اور توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرے۔کالا باغ ڈیم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ کالا باغ ڈیم کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا تاہم اس منصوبے کو اسی وقت تعمیر کیا جا سکتاہے جب چاروں صوبے اس پر متفق ہوں کیونکہ قومی وحدت و یکجہتی سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں۔وفاقی سیکرٹری پانی و توانائی سیف الله چٹھہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت کے ا قدامات پر روشنی ڈالی ۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 8ماہ کے دوران وفاقی حکومت نے گردشی قرضہ ادا کیا ،پاور پالیسی کی منظوری دی،تربیلا فور کا سنگ بنیاد رکھا ،ہائیڈل اور کوئلے سے توانائی کے حصول کے بڑے منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت ا س سال 1800میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی جس سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ریلیف ملے گا۔انہوں نے بتایاکہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں وفاقی حکومت بجلی بحران پر قابوپانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی جہانزیب خان نے پنجاب کے توانائی کے منصوبوں جبکہ قائد اعظم سولر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نجم شاہ نے قائد اعظم سولر پارک کے منصوبے پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔

وقت اشاعت : 19/03/2014 - 21:03:46

اپنی رائے کا اظہار کریں