امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کاپنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ ،احاطے ..
تازہ ترین : 1

امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن کاپنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ ،احاطے میں احتجاج

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 18مارچ 2014ء) امن و امان کی خراب صورتحال پر اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کر کے اسمبلی کے احاطے میں احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف مستعفی ہو کر رکن قومی اسمبلی کاالیکشن لڑ کر وزارت خارجہ کا قلمدان اور حمزہ شہباز شریف صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیں ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ اجلاس کے آغاز پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کے بارے میں میڈیا میں آنے والی رپورٹس دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے ۔ ابھی آمنہ کی خود سوزی کی وجہ سے پنجاب میں سوگ کی کیفیت تھی کہ بیس خواتین کے اغواء ،چنیوٹ میں ونی دی گئی عورت سے پانچ دن تک اجتماعی زیادتی کے بعد برہنہ درخت سے باندھ دینے اورشیخوپورہ میں خاتون کے پولیس تشدد سے ہلاکت کے واقعات سامنے آ گئے جبکہ روزانہ کروڑوں روپے کی ڈکیتی کی وارداتیں ہو رہی ہیں ۔

حوا کی بیٹی کی جتنی بے حرمتی موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہی ہے اس سے پنجاب کی گڈ گورننس اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے ثبوت سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہلے تو ایف آئی آر ہی درج نہیں ہوتی اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے تو پولیس خود ہی ملزموں کو بے گناہ قرار دے دیتی ہے ۔ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔ شہباز شریف مرکز کے معاملات سے باہر آ جائیں یہ دس کروڑ عوام کا صوبہ ہے یہاں ظلم بربریت کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس وقت آمنہ کے گھر گئے اور پانچ لاکھ روپے کی امداد دی جب وہ اس دنیا میں نہیں رہی کیا اس سے آمنہ وا پس آ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو سالانہ اربوں روپے دئیے جاتے ہیں لیکن لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔ اس پراپوزیشن نے ایوان کی کارروائی سے پانچ منٹ کا واک آؤٹ کرتے ہوئے اسمبلی احاطے میں احتجاج کیا ۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمود الرشید نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ایوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے کے معاملات دیکھنے کی بجائے کبھی چین اور کبھی ترکی روانہ ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سردار شہاب الدین نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور گورننس نام کی کوئی چیز نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو سالانہ 77ارب روپے کے فنڈز دئیے جاتے ہیں لیکن نتیجہ صفر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی رائے ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف مستعفی ہو جائیں اور رکن قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑ کر وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھا ل لیں جبکہ حمزہ شہباز شریف کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب کرایا جائے اور وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں اور پانچ منٹ کے بعد اپوزیشن واک آؤٹ ختم کر کے ایوان میں واپس آ گئی ۔

قبل ازیں ایوان میں محکمہ زراعت سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے گئے ۔حکومتی رکن اسمبلی محمد انیس قریشی نے کہا کہ فیلڈ اسسٹنٹس اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے پرائیویٹ کام کر رہے ہیں ۔ یہ محکمہ خزانے پربوجھ بن چکا ہے ۔ حکومتی رکن سائرہ افتخار نے بھی اسکی توثیق کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ جس پر صوبائی وزیر زراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے کہا کہ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ محکمے میں کچھ کالی بھیڑیں ہیں لیکن ہم ان کا احتساب کر رہے ہیں ۔

میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ فیلڈ اسٹاف کو ڈی سی او نے کہیں پٹواری اور کہیں اڈوں سے بسیں نکالنے کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک محکمے کی کارکردگی کا سوال ہے تو پنجاب کپاس اور گندم کی پیداوار میں بھارت سے آگے ہے او رپنجاب میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مارکیٹ کمیٹیوں کے کردار کو فعال کرنے اور دیگر معاملات پر نظر ثانی کر رہی ہے ۔

اجلاس کے دوران شیخ علاؤ الدین نے پارلیمانی سیکر ٹری کی طرف سے تحریک التوائے کار کے جوابات دینے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سنجیدہ رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اسمبلی میں صوبائی وزیر کی بجائے جو مرضی جواب دیدیتا ہے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے انہیں سختی سے ٹوکتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری معزز رکن اسمبلی ہیں آپ کو اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے ۔

اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے پر رولنگ زیر التواء ہے اور میں رولنگ دوں گا ۔تحریک التوائے کار کے جواب میں گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیاں ں ہونے کے جواب پر حکومت اور اپوزیشن نے احتجاج کیا اور کہا کہ وہ اسکے ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ ادائیگیاں نہیں ہو رہیں ۔ شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ اگر ادائیگیاں کی جار رہی ہوئیں تو وہ مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں ۔

اس موقع پر اپوزیشن نے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا تو شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ کمیٹیوں نے تو بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمانی لیڈر کو دوبارہ اس کا جائزہ لے کر اس کا جواب دینے کی ہدایت کی ۔شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ اگر اس کا جواب ترامیم کے ساتھ آیا تو پھر آپ ایکشن لیں گی جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ میں اس معاملے کو خود دیکھ رہا ہوں اور اگر ترامیم کے ساتھ جواب آیا تو سخت ایکشن لیا جائے گا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/03/2014 - 16:48:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں