حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو برادر اسلامی ممالک سے غیر سودی قرضے لیکر ملک ..

حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو برادر اسلامی ممالک سے غیر سودی قرضے لیکر ملک میں انڈسٹری اورصنعت کو فروغ دے ‘ منور حسن ،مہنگائی ،بے روز گاری، غربت اور بدامنی معاشی ابتری کی پیدا وار ہیں ،حکومت کوان بیماریوں پر قابو پانے میں کوئی دلچسپی نہیں‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17مارچ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے معیشت میں بہتری نہیں آ سکتی ،جس دن عوام کو بنیادی ضروریات زندگی آٹا گھی چینی اور دالیں سستے داموں ملنے لگیں گی لوگ خود بخود مان جائیں گے کہ ملک ترقی کررہا ہے اور معیشت بہتر ہورہی ہے ،مہنگائی ،بے روز گاری، غربت اور بدامنی معاشی ابتری کی پیدا وار ہیں ،حکومت کوان بیماریوں پر قابو پانے میں کوئی دلچسپی نہیں ،جب تک سودی معیشت اور صیہونی مالیاتی اداروں کے قرضوں سے چھٹکارا نہیں ملتا معاشی انقلاب نہیں آسکتا ،وزیر اعظم قومی معیشت کودرست پٹڑی پر ڈالنا چاہتے ہیں تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے جان چھڑائیں ،کرپشن کا خاتمہ کریں اور خود انحصاری کا رستہ اپنائیں ،ریونیو کی کمی اور اضافے ، ڈالر کے سستا یا مہنگا ہونے اور ملکی زرمبادلہ میں اربوں ڈالر کے اضافے سے عام آدمی کے مسائل میں کمی نہیں آتی ،حکمران لوگوں کو واقعی کچھ دینا چاہتے ہیں تو مہنگائی میں کمی کریں اور بے روزگاری پر قابو پا کر لوگوں کو روز گار کی سہولتیں دیں تاکہ لاکھوں بے روز گارکوئی کام کاج کریں اور قومی معیشت کی گاڑی کا پہیہ روانی سے چل سکے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق ممبر اور جماعت اسلامی کی معاشی قائمہ کمیٹی کے سیکریٹری سرفراز احمد خان سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سید منورحسن نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو برادر اسلامی ممالک سے غیر سودی قرضے لیکر ملک میں انڈسٹری اورصنعت کو فروغ دے ، معاشی طو ر پر ملک اس وقت اپنے پاؤں پر کھڑاہوگا جب ہمیں ادھار پکڑ کر ریونیو اورزرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ نہیں کرنا پڑے گا بلکہ ملکی معیشت کی گروتھ بڑھ جائے گی اور عام آدمی کو روز گار اور تعلیم وصحت کی بنیادی سہولیات دستیاب ہونگی ،انہوں نے کہا معاشی ماہرین مانگے تانگے کے پیسوں سے بننے بگڑنے اور قرض کی بیساکھیوں پر کھڑی معیشت کی صورتحال کوبہتر نہیں بلکہ ابتر گردانتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا قرضہ لینے کے باوجود مہنگائی میں ایک پیسے کی کمی نہیں ہوئی ،غریب آدمی کل بھی بھوک کے ہاتھوں تنگ تھا اور آج بھی اسے کھانے کو نہیں مل رہا ،غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،افراط زر اتنا بڑھ گیا ہے کہ سو روپے کا نوٹ دس کے برابر رہ گیاہے ۔

انہوں نے کہا کہ انہی دنوں حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں سوا دو روپے فی یونٹ اور سوئی سدرن اور سوئی نادرن گیس کمپنیوں نے بالترتیب 24اور47فیصد اضافہ کرنے کی منظوری کیلئے اوگرا کو سمری ارسال کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس معیشت کی بنیاد ہی شرح سود میں کمی بیشی پر ہو اس میں بہتری کیسے آسکتی ،حکمران سودی معیشت کے خاتمے کیلئے تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں کشکول توڑنے کا وعدہ کیا تھا مگر آج انہوں نے چھوٹا کشکول پھینک کر بڑے سائز کا کشکول اٹھا لیا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکمران عام آدمی کی زندگی میں کوئی آسانی پیدا نہیں کرسکے بلکہ موجودہ دورحکومت میں لوگوں کی مشکلات پہلے سے دوچند ہوگئی ہیں ،بار بارآنے والے مہنگائی کے طوفانوں اور افراط زر نے عام آدمی کی قوت خرید کو شدید متاثر کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے تیل اور گیس کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ کیا جس سے تما م اشیائے سرف کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوچکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگرحکمران عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو ضروریات زندگی کی قیمتوں میں کمی لائیں اور عام آدمی کو روزگار کی سہولت دینے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کریں تاکہ لوگوں کی زندگی میں خوشحالی لائی جاسکے ۔

وقت اشاعت : 17/03/2014 - 20:14:31

اپنی رائے کا اظہار کریں