لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر اور 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے ..
تازہ ترین : 1

لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر اور 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے انقلابی اعلانات ،وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے خواتین کیلئے ایک اور جامع اصلاحاتی پیکیج کا اعلان کر دیا ، متعدد قوانین میں ترامیم ،چائلڈ میرج ، جہیز، شادی بیاہ کی تقریبات، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ اور نکاح نامہ میں ترامیم سے خواتین کو زیادہ حقوق ملیں گے،صوبائی کمیشن کا قیام، گھریلو ملازموں کے بارے میں جامع پالیسی بچوں کی پیدائش پر رجسٹریشن فیس ختم کرنا بھی پیکیج میں شامل، خواتین کے تعلیمی اداروں میں صرف خاتون ٹھیکیدار ہی کنٹین چلا سکے گی،ملک و قوم کی ترقی کے لئے خواتین کو عملی میدان میں آنا ہوگا ، محنت مزدوری کیلئے گھر سے نکلنے والی خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کو عبرت کا نشان بنا دیں گے،ایسے عناصر سے مجرموں جیسا سلوک ہوگا،وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا عالمی یوم خواتین کے موقع پرایوان اقبال میں تقریب اور پنجاب اسمبلی کے ا جلاس سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8مارچ۔2014ء) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جامع اور دور رس اصلاحات پر مبنی ایک اور پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت قوانین میں موجود ہر وہ اقدام ختم کیا جا رہا ہے جو صوبہ پنجاب میں خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل ہے،وزیراعلیٰ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ پنجاب حکومت 8ارب روپے کی لاگت سے مزید 2لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبا و طالبات میں تقسیم کرے گی۔

وہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پرہفتہ کے روز ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران حقوق خواتین کے حوالے سے مختلف قوانین میں ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چائلڈ میرج ایکٹ ، جہیز اور دلہن کو دیئے جانے والے تحائف کے بارے میں ایکٹ، شادی بیاہ کی تقریبات کے بارے میں ایکٹ، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ، موجودہ نکاح نامہ، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ اور ٹھوس اثاثہ جات کی تقسیم کے بارے میں قوانین میں ترامیم کر رہی ہے۔

اس کے علاہ پنجاب میں خواتین کے حوالے سے صوبائی کمیشن قائم کیا گیا ہے،جس کے لئے چیئر پرسن کو بھی تعینات کر دیا گیاہے -، گھریلو ملازموں کے بارے میں جامع پالیسی لائی جا رہی ہے، بچوں کی پیدائش پر رجسٹریشن فیس ختم کی جا رہی ہے، جس سے بچیوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہو گی، خواتین کے تعلیمی اداروں میں صرف خاتون ٹھیکیدار ہی کنٹینیں چلا سکیں گی، ٹریڈ یونین میں عہدیداروں کے طور پر خواتین کی شمولیت لازمی ہو گی، خواتین کے لئے ویٹرنری ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا جائے گا، کارکنوں کی بیویوں کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ کا انتظام ہو گا، سکولوں کے نصاب میں مردوں اورخواتین کے درمیان مساوات پر مبنی اسباق شامل کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کو معاشی طور پر توانا بنائے بغیرمعاشرے میں انہیں مطلوبہ مقام نہیں دلایا جا سکتا۔ ہم نے اپنے پیکج میں ایسے پروگرام شامل کئے ہیں جو اس مقصد کے لئے براہ راست خواتین کے مددگار ثابت ہوں گے۔ ہم نے آنے والے دنوں میں خواتین کے لئے روزگار اور چھوٹے درجے پر تجارت کے مختلف النوع مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خواتین کی ترقی اور ان کی بہبود پر کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے،سال رواں 2014 میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ اور پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور پنجاب سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خواتین کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

اسی طرح تمام سرکاری کارپوریشنوں اور اداروں اور کمپنیوں کے بورڈوں میں خواتین کا کم از کم 33 فیصد حصہ لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی اس کی معاشی سکیورٹی سے عبارت ہے اور اگر ہم واقعی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنانا پڑے گا۔ خواتین کے ساتھ صدیوں پر پھیلے ہوئے امتیازی سلوک اور ناانصافی کی تلافی کرنے کیلئے ہمیں ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

ہم خواتین کے حوالے سے ایسی پالیسی اصلاحات لے کر آئے ہیں جس کے پیچھے قانون کی طاقت موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ محنت مزدوری کے لئے جو خواتین گھر سے نکلنے کا دلیرانہ فیصلہ کر کے معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں انہیں ہراساں کرنے والے افراد کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔کام والی جگہ پر کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنا ایک جرم ہے او رایسے افراد سے مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب ا سمبلی کے ا یوان میں آج خواتین کے عا لمی دن کے موقع پر متفقہ طو رپر خواتین کی مناسب نمائندگی پنجاب 2014 کا قانون منظور کیا گیا ہے جس پر میں اپوزیشن اور تمام معزز ایوان کا شکریہ ادا کرتا ہوں یہ قانون خواتین کے حقوق کے لئے بہت بڑا اقدام ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ترکی اور چین کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں نے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کر کے پائیدار ترقی کی ہے اور آج دونوں ملک معاشی طو رپر خوشحال ہیں۔

ترکی اورچین میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں اور دونوں ممالک نے شبانہ روز محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔میں آج ہی ترکی سے واپس آیا ہوں اور ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے اپنے دورہ لاہور کے دوران ملنے والے والہانہ محبت پر پاکستان خصوصاً لاہور کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل صدر مملکت ہمراہ ہم چین گئے اور چین کی حکومت نے پاکستان کے مسائل کا بھر پور ادراک کرتے ہوئے 7سال کے لئے 32ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج کا ا علان کیاہے۔

چینی قیادت خود اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، سمند ر سے گہری ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبو ط ہے۔ اگر ہم شبانہ روز محنت کریں اور 32ارب ڈالر کا 80فیصد بھی استعمال میں لے آئے تو اس ملک سے اندھیرے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ خواتین کی مناسب نمائندگی کا قانون خوشحال ، صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کی جانب سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔

ہم نے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ میں 50ہزار طلبا و طالبات کو وظائف دےئے ہیں جس میں 25ہزار طالبات ہیں اسی طرح 2بر س کے دوران لیپ ٹاپ سکیم سے استفادہ کرنے والوں میں 60فیصد طالبات شامل ہیں۔4ارب کے چھوٹے قرضے 50فیصد خواتین کو دئیے گئے ہیں اورآج وہ باعزت طریقے سے روزگار کما رہی ہیں ۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قرضہ سکیم میں 50ارب روپے خواتین کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سابق دور حکومت میں صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حوالے کیا گیا تاہم میں آج لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔یہ ہماری اپنی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین آبادی کا 52فیصد ہیں انہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی میدان میں آنا چاہیے۔میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنی والی طالبات کو دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے کام کرنا چاہیے -اگر قوم کا سرمایہ بیٹیوں کی تعلیم کے لئے صرف ہوتا ہے تو ہماری بیٹیوں کا فرض ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی میدان میں آئیں- اس ضمن میں ہمیں کلچر تبدیل کرنا ہوگا-انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی وخوشحالی کے لئے اٹھایا جانے والا ہمارا ہر قدم آگے کی طرف جائے گا- خواتین کی عزت و توقیر میں ا ضافہ کیا جائے گا تا کہ ملک باوقار اور طاقتور ہو - انہوں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی میں منظور کئے گئے قانون کے تحت پنجاب حکومت نے تمام سرکاری اداروں ، خود محتار بورڈ ز اور ڈویلپمنٹ اور ریسرچ سینٹر ز میں خواتین کی نمائندگی کو لازمی قرار دے دیاہے۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون سے 25ہزار خواتین کو نمائند گی کا حق حاصل ہوگیاہے ۔ اب یہ 25ہزار خواتین 25لاکھ خواتین کے حقوق کے لئے بھر پور آواز اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو خواتین کو بھر پور کردار ادا کرناہوگا۔میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھنا ان مریضوں کے ساتھ نا انصافی ہے جو ہسپتالوں میں علاج کے لئے منتظر ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اسی ماہ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے جبکہ چین نے ملتان روڈ پر اورنج لائن کے لئے 2ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ ہمارا پروگرام یہاں پر ریل چلانے کا ہے۔انہوں نے کہاکہ خواتین عملی میدان میں بھر پو ر شرکت کریں پنجاب حکومت ان پر ان کی آبادی کے تناسب یعنی 52فیصد سے زائد وسائل ان کے قدموں میں نچھاور کرے گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا فرض اداکررہی ہے اب خواتین کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/03/2014 - 21:58:01

اپنی رائے کا اظہار کریں