(ن) لیگ نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں اور بلدیاتی اداروں میں نمائندگی بھی چھین ..
تازہ ترین : 1
(ن) لیگ نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں اور بلدیاتی اداروں میں نمائندگی ..

(ن) لیگ نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں اور بلدیاتی اداروں میں نمائندگی بھی چھین لی‘ چودھری پرویزالٰہی ،گھریلو خاتون آج سب سے زیادہ متاثر ہے، ہم نے جو کہا کر دکھایا، عالمی اداروں نے بھی خواتین کیلئے ہمارے کامیاب منصوبوں کی تعریف کی ،انہیں اپنے وعدوں کا بھی احساس نہیں، اسمبلی میں پیش کردہ بل میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا ذکر نہیں، ان کے دھرنے میں ساتھ دینگے‘ خواتین کنونشن سے خطاب ،مہنگائی کے باعث مائیں خود اپنے جگر گوشتے قتل کر رہی ہیں، پرویزالٰہی دور کی قیمتیں اور سہولتیں واپس دی جائیں‘متفقہ قراردادیں

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8مارچ۔2014ء) مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ (ن)لیگ نے خواتین سے ہماری دی گئی سہولتیں اور بلدیاتی اداروں میں نمائندگی بھی چھین لی ہے، دن بدن بڑھتی مہنگائی، لاقانونیت وغیرہ سے آج گھریلو خاتون سب سے زیادہ متاثر ہے، ہم نے خواتین کی یونیورسٹیاں، تربیتی مراکز اور فلاحی ادارے بنائے، تعلیم دشمنوں نے ہمارے منصوبے روک دئیے، ہم نے ہر شعبہ میں جو کہا کر دکھایا، عالمی اداروں نے بھی خواتین کیلئے ہمارے شاندار اور کامیاب منصوبوں کی تعریف کی۔

وہ ہفتہ کے روز یہاں مسلم لیگ ہاؤس میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب کے زیر اہتمام عظیم الشان اور پرجوش خواتین کنونشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، باسمہ ریاض، بشریٰ رحمن، مسز فرخ خان، خدیجہ فاروقی، رضیہ انجم، ماجدہ زیدی، کنول نسیم، سیمل کامران، زبیدہ احسان، عابدہ رانا، رضیہ سلطانہ، تبسم ناز، تبسم زیدی، رخسانہ بیگم، نگہت رانا، روبینہ ناز، فہمیدہ یعقوب، ثوبیہ فضیلت، شکیلہ حیدری، صفیہ بیگم، سکینہ بشیر سمیت مختلف مسلم لیگی عہدیداروں نے شرکت کی۔

اس موقع پر مسلم لیگ ہاؤس کے کھچا کھچ بھرے وسیع و عریض ہال کے اندر اور باہر بھی بڑی تعداد میں خواتین کھڑی تھیں جو وقتاً فوقتاً چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کے حق میں زبردست نعرہ بازی کرتی رہیں۔ کنونشن میں متفقہ قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ مہنگائی کے باعث مائیں خود اپنے جگر گوشے قتل کر رہی ہیں، چودھری پرویزالٰہی دور کی قیمتیں اور سہولتیں واپس دی جائیں۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ملکی ترقی خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں، ہم نے ہر شعبہ میں ان کی نمائندگی اور زیادہ سے زیادہ سہولتیں و مراعات دینے کیلئے موٴثر اور ٹھوس اقدامات کیے، اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی، ویمن ڈویلپمنٹ منسٹری قائم کی، میری کابینہ میں 5 خواتین وزراء تھیں آج پنجاب میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں جبکہ بڑے بڑے دعوے کرنے والی ن لیگ نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نشستیں بھی 33 سے 22 فیصد کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کو اپنے وعدوں کا بھی کوئی پاس نہیں، ہم نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھرتی کیا اور ان کے حقوق بھی دئیے، ان کے دھرنے پر موجودہ حکومت نے ان کے مطالبات مان لیے لیکن اسمبلی میں پیش کردہ بل میں ان کا کوئی ذکر نہیں، آئندہ ان کے دھرنے میں مسلم لیگی خواتین بھی شریک ہوں گی۔ چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ ہم نے خواتین کے تحفظ اور تربیت کیلئے 608 ملین روپے کی لاگت سے پروگرام شروع کیا، 26 شیلٹر ہومز، غیر رسمی تعلیم کے ایک ہزار ادارے، کرائسس سنٹر بنائے، بلاسود قرضے دئیے، جنوبی پنجاب کی ساڑھے گیارہ لاکھ بچیوں کو 200 روپے ماہانہ وظیفہ دیا، جیل ریفارمز پروگرام شروع کیا جس میں پہلی بار خواتین اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ رہ سکتی تھیں اور وہاں ان کو ہنر سکھائے جاتے تھے تاکہ جب وہ باہر آئیں تو اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکیں، راولپنڈی میں خواتین یونیورسٹی بنائی، لاہور کے دو کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا، ملتان میں یونیورسٹی کا منصوبہ ن لیگ کی حکومت نے بند کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے پہلی بار دگنی تنخواہ پر 35 ہزار خواتین ٹیچرز بھرتی کیں، نرسوں کو گریڈ 17 میں بھرتی کیا، آج لیڈی ہیلتھ ورکرز، نرسیں، ٹیچرز، لیڈی ڈاکٹر، سڑکوں پر رل رہی ہیں، قوم کی مائیں، بیٹیاں سراپا احتجاج ہیں مگر ن لیگ کی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا اثر سب سے پہلے خواتین پر پڑتا ہے گھر کا نظام چلانا مشکل ہو جاتا ہے ہماے دور میں ہر چیز سستی تھی آج ہر چیز کی قیمت آسمان پر ہے، پنجاب میں 6 سال سے ن لیگ کی حکومت ہے یہ بتائیں انہوں نے خواتین کیلئے کیا کیا، صرف خواتین کے عالمی دن پر تقریریں کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، انہوں نے سابق صدر شعبہ خواتین شاہانہ فاروقی کی خدمات کو سراہا اور کامیاب کنونشن کیلئے خواتین رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کیا۔

کنونشن سے مختلف خواتین رہنماؤں نے خطاب کیا اور متفقہ قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ ہمارے دور کی دیگر سہولتوں کے علاوہ مفت تعلیم، بلاسود قرضوں کی فراہمی، چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے، بلدیاتی اداروں میں خواتین کی 33 فیصد نشستیں بحال کی جائیں۔

وقت اشاعت : 08/03/2014 - 18:48:24

اپنی رائے کا اظہار کریں