حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مزید کام کرنا ہے یا اسے ختم کرنا ہے یہ وزیر اعظم کی صوابدید ..
تازہ ترین : 1

حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مزید کام کرنا ہے یا اسے ختم کرنا ہے یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے ‘ عرفان صدیقی ،طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان خوش آئند ہے لیکن وقت بتائے گا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا نہیں ،وزیر اعظم مذاکرات کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں ،وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل اسکے لئے ہوم ورک اسکا ثبوت ہے ‘ کوار ڈی نیٹر حکومتی مذاکراتی کمیٹی ۔ تفصیلی خبر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2مارچ۔2014ء)وزیراعظم کے خصوصی مشیر اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے کوار ڈی نیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیاں مثبت نتائج پر متفق ہیں ، طالبان کی طرف سے غیر مشروط طور پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکومتی کمیٹی نے مزید کام کرنا ہے یا اسے ختم کرنا ہے یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے ،انتخابات کے نتائج کے بعد وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل نواز شریف کا طالبان سے مذاکرات کیلئے ہوم ورک شروع کردینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے کس قدر سنجیدہ ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کی طرف سے سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی کی رہائشگاہ پر اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات پنجاب مومن علی آغا ،ضیاء شاہد ،عارف نظامی ، ایاز خان ، حسن نثار ،ارشاد احمد عارف،مولانا طاہر اشرفی ،رحمت علی رازی ،اوریا مقبول جان،سجاد بخاری،سجاد میر،مقصود بٹ ،نجم ولی خان، نوید چوہدری ، علی اکبر ،سلمان غنی ، قدرت اللہ چوہدری،نوید الٰہی،پی جے میر، امتیاز عالم سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف خونریزی روکنے کیلئے ہمیشہ سے مذاکرات کے خواہشمند رہے ہیں اور اسکا ذکر انکے انتخابی جلسوں اورمنشور میں بھی دکھائی دیتا ہے ۔ نواز شریف کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے نتائج کے بعد وزارت عظمیٰ کا حلف نہیں اٹھایا تھالیکن انہوں نے طالبان سے مذاکرات کے لئے ہوم ورک شروع کر دیا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے متعددلوگوں سے بات کی ۔

نوازشریف کو تجویز دی گئی کہ ان معاملات میں افغانستان میں پاکستان کے سفیر سے بھی رہنمائی لی جا سکتی اور بے پناہ مصروفیات کے باعث اسکی پہلی میٹنگ اسلام آباد کے ائیر پورٹ پر منعقد ہوئی جس میں اس کا ورکنگ پیپر تیار کرنے بارے بات کی گئی ۔عرفان صدیقی نے کہا کہ جب اس طرح کے آثار نمایاں ہوئے کہ حکومت دہشتگردی کے حوالے سے کچھ نہیں کر رہی اس کے بعد ان مذاکرات کو پس پردہ رکھنے کی بجائے عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہی مل سکے ۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے سامنے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے دائرہ کار میں مذاکرات سمیت پانچ بڑے نکات رکھے گئے تھے جس میں انہوں نے ایک کی بھی مخالفت نہیں کی ۔انہوں نے پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کیا او رنہ ہی اپنا کوئی آئین نافذ کرنے کی کوئی بات کہی۔ اسکے بعد یہ بھی شامل تھاکہ مذاکرات کا محدود ٹائم فریم ہونا چاہیے اور اس پر بھی انہوں نے اتفاق کیا ، مذاکرات کی کامیابی کے لئے پر تشدد کارروائیاں روکنے کی بات کی گئی اور اس نقطے پر بھی ان کا اتفاق تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو ہر طرح کی سہولیات پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائے اور ہمارے نکات کے جواب میں طالبان کی شوریٰ نے اپنا ڈرافٹ بھیجا جس میں ہمارے نکات کو تسلیم کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ لیکن سترہ روز میں 40کارروائیواں میں 150افراد کا لقمہ اجل بن جانا اور 23ایف سی اہلکاروں کی شہادت کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے اور اسکے بعد ہم نے حکومت سے کہا کہ اب مذاکرات بے سود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ لیکن وقت بتائے گا کہ طالبان اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا نہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 02/03/2014 - 16:27:50

اپنی رائے کا اظہار کریں