قوم کو اپنے عسکری اور سیاسی اداروں پر مکمل اعتماد ہے،معاملہ یہ ہے دہشتگرد کون ..
تازہ ترین : 1
قوم کو اپنے عسکری اور سیاسی اداروں پر مکمل اعتماد ہے،معاملہ یہ ہے دہشتگرد ..

قوم کو اپنے عسکری اور سیاسی اداروں پر مکمل اعتماد ہے،معاملہ یہ ہے دہشتگرد کون اور طالبان کون ہیں ‘ سید منور حسن ،کراچی کے آپریشن کو سات ماہ کا عرصہ گزر چکاہے لیکن اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے ، اسے ریویو کرنے کی ضرورت ہے، دہشتگردوں کے خلاف جو بھی کاروائی کی جائے گی ، پوری قوم اس کی حمایت کریگی ‘ امیر جماعت اسلامی کا کسان کنونشن سے خطاب /میڈیا سے گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26 فروری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سیدمنورحسن نے کہاہے کہ عسکری قیادت کی طرف سے کچھ طالبان گروپوں کو ”را “اور” سی آئی اے“ کی سرپرستی حاصل ہونے کا انکشاف کیا گیاہے ، اس سے قبل بلوچستان کے حوالے سے بھی بھارتی و امریکی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں جس کی طرف جماعت اسلامی نے بھی بارہا توجہ دلائی ہے ، حکومت کی طرف سے ان گروپوں کیخلاف کاروائی کرنے اور دیگر طالبان گروپوں سے مذاکرات کرنے کی پالیسی قومی امنگوں کی عکاس ہے ، ملک و قوم کے لیے یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے، فیصلہ کن معاملہ یہ ہے کہ دہشتگرد کون ہے اور طالبان کون ہیں ، قوم کو اپنے عسکری اور سیاسی اداروں پر مکمل اعتماد ہے ، دہشتگردوں کے خلاف جو بھی کاروائی کی جائے گی ، پوری قوم اس کی حمایت کرے گی ، بے اختیار کمیٹیاں اچھے بیانات تو دے سکتی ہیں مگر مسائل حل کرنے میں بھر پور کردار ادا نہیں کر سکتیں ،دونوں کمیٹیاں اپنا اجلاس بلا کر حکومت اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کی کوشش کریں، کراچی کے آپریشن کو سات ماہ کا عرصہ گزر چکاہے لیکن اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے ، اسے ریویو کرنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری تین روزہ کسان کنونشن کے دوسرے روز خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان محمد انور نیازی ،قیصر شریف اور فرحان شوکت بھی موجود تھے ۔سیدمنورحسن نے کہاکہ الطاف حسین کا بیان سراسرجمہوریت کی نفی ہے جس نے آئین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔

ایم کیو ایم حکومت میں تو نہیں لیکن پارلیمنٹ میں تو موجود ہے۔ الطاف حسین کو اپنا بیان واپس لیناچاہیے اور ملک میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع دیناچاہیے۔ فوج ایک منظم ادارہ ہے امید ہے وہ الطاف حسین کے ان بیانات پر کان نہیں دھرے گی اور اس کے تباہ کن اور خطرناک نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا سختی سے نوٹس لے گی ۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر شمالی علاقوں میں ائر سٹرائیک کو بند کر دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس آپریشن سے دہشتگردوں سے زیادہ عوام کا نقصان ہورہاہے۔

سیدمنورحسن نے کہاکہ شمالی علاقوں میں ہونے والی ایئر سٹرائیکس کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں جن کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کومرکزی حکومت سے مل کر بحالی کیمپ لگانے چاہئیں اورمہاجرین کی پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ایک بڑی مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بے گھر ہونے والے قبائلیوں کے لیے رفاہی اداروں اور تنظیموں کو بھی آگے بڑھ کر حکومت کا ہاتھ بٹاناچاہئے ۔

انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کی طرف سے الخدمت فاؤنڈیشن پہلے ہی میدان عمل میں ہے اور مہاجرین کی مناسب دیکھ بھال کے لیے انتظامات کر رہی ہے ۔انہو ں نے الخدمت کے کارکنوں کو ہدایت کی کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کی دل و جان سے خدمت کریں اور ان کی رہائش و خوراک کا بندوبست کریں ۔سیدمنورحسن نے کہاکہ مئی 2013 ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کی بازگشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے ۔

الیکشن کمیشن اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات پر اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب دیں اور عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی کو ختم کریں ۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کا انتخابی عمل پر اعتماد مجروح ہوچکاہے اگر عوام کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو وہ کسی دوسرے راستے پر چل نکلیں گے اور پھر کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکے گی ۔دفاع پاکستان آرڈی نینس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں سیدمنورحسن نے کہاکہ یہ مسودہ سیاسی پارٹیوں کو ارسال کیا گیا تھا اور رائے طلب کی گئی تھی ہم نے اس پر اپنی رائے کا تحریری اظہار کر تے ہوئے کہاتھاکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

وقت اشاعت : 27/02/2014 - 20:34:01

اپنی رائے کا اظہار کریں