اسلام و ملک دشمن قوتیں آرمی آپریشن کے ذریعے حالات کو ”نوریٹرن“پوائنٹ پر لے جانے ..
تازہ ترین : 1

اسلام و ملک دشمن قوتیں آرمی آپریشن کے ذریعے حالات کو ”نوریٹرن“پوائنٹ پر لے جانے کی کوشش کررہی ہیں ‘ سید منور حسن ،امید ہے حکومت کی طرف سے مذاکرات کو ترجیح د ی جائیگی ،حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریگی جو ملک وقوم کو انارکی کی دلدل میں دھکیل دے ،بعض جماعتیں جماعت اسلامی پر طالبان کی نمائندگی کرنے کے الزام لگا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے گھناؤنے ایجنڈے کو پورا کرسکیں ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25 فروری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کی تھی اور مذاکرات کو مسئلے کا حل قرار دیا تھا ،جماعت اسلامی ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے آج نہیں ، 1971ء سے کسی بھی جگہ فوجی آپریشن کی مخالفت کرتی آرہی ہے لیکن اسلام و ملک دشمن قوتیں آرمی آپریشن کے ذریعے حالات کو ”نوریٹرن“پوائنٹ پر لے جانے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ جس طرح1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں ایک بار پھر اپنے انہی مکروہ عزائم کو پورا کرسکیں ۔

بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن ہے لیکن حالات سدھرنے کے بجائے مسلسل خرابی کی طرف جارہے ہیں ،امریکہ اور بھارت کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستانی افواج کو ایسی دلدل میں دھکیل دیا جائے ، جہاں سے یہ نکلنے نہ پائے،ملک انتشار اور انارکی کا شکار ہوگا،جس کی آڑ میں امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو عالمی کنٹرول میں لینے کا کھیل کھیلے گا اور پھر یہی مذاکرات کی مخالفت کرنے والے جوہری اثاثوں کو بلا ضرورت قرار دیکر بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی باتیں کررہے ہونگے ،فوج اور حکومت کی پیٹھ ٹھونکنے والوں کا ماضی گواہ ہے کہ وہ کتنے محب وطن ہیں ،ملک پر جب بھی کوئی آفت پڑی یا ملکی سلامتی کے تحفظ کا مسئلہ پیش آیا جماعت اسلامی نے ہی فوج کے شانہ بشانہ قربانیاں پیش کیں،جس کی سزائیں ہم بنگلہ دیش میں آج بھی بھگت رہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منتظم اعلیٰ حافظ محمود بشیر کی قیادت میں ملنے والے جمعیت طلبہ عربیہ کے ذمہ داران کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سید منورحسن نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے مذاکرات کو ترجیح د ی جائے گی اور حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو ملک وقوم کو انارکی کی دلدل میں دھکیل دے اور دہشت گردی سے پیچھا چھڑانا ممکن نہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیت لینے کی ضرورت نہیں ہے ، جماعت اسلامی کی مذاکرات کے ذریعے امن کی خواہش کو بعض جماعتیں منفی رنگ دے کر جماعت اسلامی پر طالبان کی نمائندگی کرنے کے الزام لگا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے گھناؤنے ایجنڈے کو پورا کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور امت کی امیدوں کا مرکز و محور سمجھتے ہیں ،ملکی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے جماعت اسلامی کی قربانیوں کی پوری قوم معترف ہے ۔سید منورحسن نے کہا کہ ہم ملک میں قیام امن کے اسی طرح خواہاں ہیں جس طرح دیگر قومی جماعتیں امن چاہتی ہیں ۔

وقت اشاعت : 25/02/2014 - 20:36:37

اپنی رائے کا اظہار کریں