امن کیلئے طالبان سمیت تمام مسلح گروپ اللہ اور رسولﷺ کے واسطے خودکش حملے اوربم ..
تازہ ترین : 1

امن کیلئے طالبان سمیت تمام مسلح گروپ اللہ اور رسولﷺ کے واسطے خودکش حملے اوربم دھماکے بند کر دیں‘ امن کنونشن ،وزیراعظم خود مذاکراتی عمل میں اپنا کرداراداکریں ،مذاکرات کرنیوالوں سے بات چیت، بد امنی پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،ایف سی اہل کاروں کی شہادت پرافغان حکومت سے احتجاج کیساتھ ان کی میتیں بھی واپس منگوائی جائیں‘ طاہر اشرف کی زیر صدارت کنونشن کا اعلامیہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25 فروری ۔2014ء)پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالے ”امن کنونشن “میں علما ء کرام اورمختلف مذاہب کے نمائندوں نے ملک میں امن کے لئے طالبان سمیت تمام مسلح گروپوں سے سے اللہ اور رسولﷺ کے واسطے خودکش حملے اوربم دھماکے روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف خود مذاکراتی عمل میں اپنا کرداراداکریں ،جوگروپ پاکستانی جھنڈے کے سائے تلے مذاکرات چاہتے ہیں ان سے بات چیت کی جائے اورجوملک میں بدامنی چاہتے ہیں ان کیخلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔

پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی صدارت میں علماء کنونشن و امن سیمینار منعقد ہوا ۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیرستان اور قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے حکومت انتظامات کرے اور جلد از جلد نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو واپس ان کے علاقوں میں امن کے عمل کو مکمل کر کے واپس بھیجا جائے۔

پاکستان کے قیام میں تمام مسالک اور تمام مذاہب کے لوگوں کی جدوجہد شامل ہے اور آج جب کہ پاکستان کو امن کی ضرورت ہے تو امن و امان کے قیام کے لیے پاکستان کے تمام شہری ہر قسم کی فرقہ بندی اور تعصب سے بالا تر ہو کر امن و امان کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار ہیں۔اعلامیہ میں چترال کے علاقے میں غیر مسلم پاکستانیوں کو پاکستان چھوڑنے کی دھمکیاں دینے پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چترال اور اس کے مضافات میں رہنے والے غیر مسلموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ۔

اعلامیہ میں 23 ایف سی کے جوانوں کی افغانستان میں شہادت پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایف سی کے جوانوں کی افغانستان کی سر زمین پر شہادت پر افغان حکومت سے نہ صرف بھر پور احتجاج کیا جائے بلکہ قوم کو یہ بھی بتایا جائے کہ 2010ء سے لے کر 2014ء تک ان جوانوں کی رہائی اور بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور افغان حکومت سے شہدا کی لاشیں حوالے کرنے کا سفارتی سطح پر مطالبہ کیا جائے۔

اعلامیہ میں 10 مارچ کو خانیوال ، 19 مارچ کو فیصل آباد ، 5 مارچ کو اسلام آباد اور 15 مارچ کو کراچی میں علماء کنونشن اور امن سیمینارز کا اعلان کیا گیا۔اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایف سی اہل کاروں کی شہادت پرافغان حکومت سے احتجاج کے ساتھ ساتھ ان کی میتیں بھی واپس منگوائی جائیں۔ کنونشن میں مرکزی سنی اتحادکونسل کے سربراہ پیرمحفوظ مشہدی ،سردارشام سنگھ،فادرجیمزچنن،مولانازاہدالقاسمی سمیت 28 دینی مذہبی جماعتوں اورمختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وقت اشاعت : 25/02/2014 - 20:36:37

اپنی رائے کا اظہار کریں