پاکستان کو ملائیت سے بہت بڑا خطرہ ہے ،انتہا پسندی ملک کیلئے روگ بن گئی ،ہم دنیا ..
تازہ ترین : 1
پاکستان کو ملائیت سے بہت بڑا خطرہ ہے ،انتہا پسندی ملک کیلئے روگ بن گئی ..

پاکستان کو ملائیت سے بہت بڑا خطرہ ہے ،انتہا پسندی ملک کیلئے روگ بن گئی ،ہم دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے‘ خواجہ سعد رفیق

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20فروری 2014ء) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان کو ملائیت سے بہت بڑا خطرہ ہے ،انتہا پسندی پاکستان کے لئے روگ بن گئی ہے اور ہم دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے،ہم طالبان سے خوفزدہ نہیں ہیں اُن سے ہار نہیں مانیں گے اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے کی کوشش نہ کرے،پاکستان کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،ہم خود پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اگر تہیہ کرلیں تو طوفانو ں کا رخ مو ڑ سکتے ہیں ،اس ملک کو سیکولر ریاست بنانے والوں کی خواہش قیامت تک پوری نہیں ہو گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ایوان کارکنان میں منعقدہ چھٹی سالانہ سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ صوفیا ئے کرام نے دنیا میں اسلام پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن دہشت گردوں نے ان کے تمام مقصد کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ آج دہشت گرد ہم پر اپنی بنائی ہوئی شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ سر پر پگڑی اور ہاتھ میں بندوق پکڑے ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں ۔

اُن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں وہ بم چلا کر ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم اُن سے خوفزدہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان ہار مانیں گے ۔ ہم جانیں تو دے دیں گے لیکن پاکستان کے مفاد اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر بھاری ذمہ داری عائد کر دی ہے اب ہمیں ایک فیصلہ کرنا ہے اگر ہم ٹھان لیں تو طوفانوں کا رخ موڑ سکتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ملائیت سے بہت بڑا خطرہ ہے ،انتہا پسندی پاکستان کے لئے روگ بن گئی ہے اور ہم دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ آج کچھ نام نہاد اس ریاست کو سیکولر بنانے چاہتے ہیں لیکن ان کی خواہش قیامت تک پوری نہیں ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پائیدار امن کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا دباؤں قبول نہیں کیا جائیگا ، اب نعروں سے بات نہیں چلے گی ، عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ماضی میں جج سیاسی بیان دیتے تھے منصف ریٹائرنگ روم میں بیٹھ کر ٹکر لکھواتے تھے ہم سمجھتے تھے کہ سیاستدان اور وزرا ء ہی پروٹوکول کے شوقین ہوتے ہیں مگر ماضی میں اعلیٰ عدلیہ کے جج پروٹوکول کے شوقین ہوتے تھے۔اب جج نہیں بلکہ ان کے فیصلے بولتے ہیں اور جنرل ریٹائرڈ پرویز کے عدالت میں پیش ہونے میں عسکری قیادت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بلوچ حقوق کے نام پر فساد پھیلانے والوں سے نمٹنے کے لئے بھی تیار رہنا ہو گا ۔رفتہ رفتہ اغیار کی معاشی غلامی سے باہر آنا پڑے گا اور نئے ملکوں سے دوستی کرنا پڑے گی جن کے ساتھ مل کر ہماری ترقی کے نئے مواقع فراہم ہوں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/02/2014 - 17:30:59

اپنی رائے کا اظہار کریں