لاہور، جوہر ٹائون میں 8 افراد کے قتل کا معمہ حل، بھائی قاتل نکلا
تازہ ترین : 1

لاہور، جوہر ٹائون میں 8 افراد کے قتل کا معمہ حل، بھائی قاتل نکلا

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18فروری۔2014ء)لاہور کے علاقے جوہر ٹائون میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد کے قتل کا معمہ حل ہو گیا۔ کینسر کے مریض بھائی نے تمام اہلخانہ کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اپنے خاندان کے تمام افراد کو قتل کرنے والا مجرم نذیر کینسر کا مریض تھا۔ نذیر نے تمام افراد کو بے ہوش کر کے ہتھوڑے مار مار کر قتل کیا اور نشہ آور گولیاں کھا کر خود کشی کر لی۔

جائے وقوعہ سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق کینسر کے مریض نذیر کی لاش گھر کی اوپر والی منزل سے ملی جس کے قریب ہی سے آلہ قتل اور خواب آور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ اہل خانہ کے ہمراہ قتل ہونے والے تینوں بھائی 10 سال سے جوہر ٹائون میں رہائش پذیر تھے۔ مقتولین کا ایک بھائی ڈی ایچ اے لاہور، دو جہانیاں اور ایک امریکہ میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہے۔

قتل ہونے والوں میں پروفیسر زاہد نجی یونیورسٹی میں پاکستان سٹڈیز پڑھاتے تھے۔ ان کی اہلیہ نسیم اور بیٹی آمنہ زاہد تھی جو گرائونڈ فلور پر رہتے تھے۔ دوسرا بھائی شاہد پیشے کے اعتبار سے کنٹریکٹر تھا۔ اس کی اہلیہ فرزانہ شاہد اور بیٹا آفاق شاہد بیٹی عریبہ شاہد گھر کی بالائی منزل پر رہتے تھے۔ تیسرا بھائی نذیر کینسر کے مرض میں مبتلا اور غیر شادی شدہ تھا۔

پولیس کو موصول ہونے والی نامعلوم کال سے قتل کی ہولناک واردات کا پردہ چاک ہوا۔ واضع رہے کہ لاہور کے علاقے جوہر ٹائون میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد کو گھر کے اندر کُند آلہ سے وار کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعہ کی تفتیش کیلئے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں دو ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی تھیں۔ درندگی کا نشانہ بننے والوں میں تین سگے بھائی، دو خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق واردات کئی گھنٹے پہلے ہوئی۔ لرزہ خیز واردات کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے مقتولین کے پڑوسیوں کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے۔ سی سی پی او لاہور چودھری شفیق گجر کے مطابق ہر لاش کے ساتھ سفید رنگ کا کیمیکل بھی پایا گیا۔ سی سی پی او کا کہنا ہے کہ اندازہ ہے کہ قتل رات گئے یا علی الصبح کئے گئے ہیں۔ مقتولین بھائیوں میں ایک پروفیسر، دوسرا کنٹریکٹر اور تیسرا کینسر کا مریض تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے فوری رپورٹ طلب کی تھی۔

وقت اشاعت : 18/02/2014 - 23:34:36

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں