حکومتی یقین دہانی کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پنجاب اسمبلی کے سامنے دیا جانیوالا ..
تازہ ترین : 1

حکومتی یقین دہانی کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پنجاب اسمبلی کے سامنے دیا جانیوالا دھرنا 32گھنٹے بعد ختم کر دیا ،مستقل کرنے کا مسودہ پانچ مارچ کو اسمبلی سے پاس کر الیا جائیگا،30اپریل تک تمام مراحل مکمل ہو جائینگے ‘ حکومتی وفد کے ایل ایچ ڈبلیو سے مذاکرات،دھرنے میں شریک چھ خواتین کی طبیعت بگڑ گئی ،اپوزیشن لیڈر محمود الرشید اور دیگر نے بھی دھرنے میں شرکت کر کے اظہار یکجہتی کیا ،سلمان رفیق ،خواجہ عمران نذیر اور دیگر نے مذاکرات میں حصہ لیا ،مال روڈ عام ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ،شہریوں نے بھی سکھ کا سانس لیا،تحریک انصاف کے رہنما پنجاب کی فکر چھوڑیں ،عمران خان سے پوچھیں خیبر پی کے کب لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کر رہے ہیں ‘ خواجہ عمران نذیر ۔ اپ ڈیٹ

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18 فروری ۔2014ء)پنجاب حکومت کی طرف سے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی اور تنخواہوں کی مد میں 35کروڑ جاری ہونے کے بعد صوبہ بھر سے آئی ہوئی لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سپرز وائرزنے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے دیا جانے والا دھرنا 32گھنٹے بعد ختم کر دیا ،دو روز سے بند مال روڈ کو عام ٹریفک کیلئے کھولے جانے کے بعد شہریوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ،دھرنے میں شریک چھ خواتین کی طبیعت بگڑ گئی جسکے باعث انہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچا دیا گیا ،اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور دیگر نے بھی دھرنے میں شرکت کر کے اظہار یکجہتی کیا ۔

تفصیلات کے مطابق سوموار کی رات حکومت سے مذاکرات کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز کے دو گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد ایک گروپ نے دھرنا ختم کر دیا تھا جبکہ دوسرے گروپ نے مسلسل دوسرے روز بھی دھرنا جاری رکھا اور منگل کی صبح بھوک ہڑتال کا ھی اعلان کر دیا اور موقف اپنایا کہ حکومت تحریر ی نوٹیفکیشن جاری کرے ۔دوسری طرف حکومت پنجاب نے منگل کے روز برج فنانسنگ کے تحت35کروڑروپے جاری کردئیے ہیں۔

ترجمان محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تنخواہوں کیلئے برج فنانسنگ کے تحت 35 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دئیے ہیں جس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز کو جنوری کے مہینے کی تنخواہوں کی ادائیگی ایک ہفتے کے اندر کر دی جائے گی۔ دھرنے میں شریک چھ مظاہرین کی طبیعت بگڑ گئی جسکے باعث انہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔

علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید اور دیگر نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے دھرنے میں شرکت کی اورخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں حکومت انہیں فوری تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پانچ مارچ کو اجلاس بلا کر بل کی منظوری کی یقین دہانی کراتی ہے تو وہ لیڈی ہیلتھ ورکرز سے دھرنا ختم کرنے کی استدعا کریں گے ۔

احتجاجی دھرنے کی وجہ سے پولیس نے منگل کے روز بھی مال روڈ کو آنے والی تمام شاہراہوں کو بیرئیرز لگا کر عام ٹریفک کے لئے بند رکھا جسکے باعث ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ رہنے کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہی ۔شام کے وقت وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت خواجہ سلمان رفیق ، پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت خواجہ عمران نذیر ، سیکرٹری صحت ،مال روڈ اور ہال روڈ کے تاجروں کے نمائندہ وفودلیڈی ہیلتھ ورکرز سے مذاکرات کے لئے پہنچے اور حکومت کی طرف سے مطالبات کی یقین دہانی کرائی جس پر لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج ختم کر دیا۔

ہیلتھ ورکرز کی نمائندہ خواتین کا کہنا تھاکہ حکومت نے مستقل کرنے کی سوموار کی رات ہی یقین دہانی کرادی تھی اور انکے مطابق پانچ مارچ کو اجلاس میں انہیں مستقل کرنے کا بل منظور کر الیا جائے گا ہم نے اپنی تنخواہوں کے لئے منگل کے روز دھرنا دیا اور حکومت نے اسے بھی مان لیا ہے جسکے بعد ہم دھرنا او ربھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ اس موقع پر خواجہ عمران نذیر نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرف سے دھرنا ختم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے یقین دہانی کر ادی ہے کہ پانچ مارچ کو لیڈی ہیلتھ کو مستقل کرنے کے حوالے سے مسودہ قانون پاس کر الیا جائے گا جبکہ تیس اپریل تک تمام مراحل کومکمل کر لیا جائے گا ۔

دھرنے میں شرکت کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما پنجاب کی فکر چھوڑیں اور اپنی پارٹی کے چیئرمین عمران خان سے پوچھیں وہ خیبر پختوانخواہ میں کب لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کر رہے ہیں ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 18/02/2014 - 19:35:47

اپنی رائے کا اظہار کریں