کوئی خفیہ ہاتھ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ..
تازہ ترین : 1

کوئی خفیہ ہاتھ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی سبوتاژ کر دیتاہے ‘ سید منور حسن ،حکومت مہمند ایجنسی کے واقعہ اور طالبان کے اس الزام کہ” ان کے ساتھیوں کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں “کی تحقیقات کرائے ‘ امیر جماعت اسلامی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 فروری ۔2014ء)امیر جماعت اسلامی سیدمنورحسن نے کہاہے کہ کوئی نہ کوئی خفیہ ہاتھ ایسا ہے جو حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی سبوتاژ کر دیتاہے ، حکومت مہمند ایجنسی کے واقعہ اور طالبان کے اس الزام کہ” ان کے ساتھیوں کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں “کی تحقیقات کرائے ۔

یکطرفہ طور پر کسی ایک کی بات نہیں مانی جاسکتی ۔ اپنے بیان میں سیدمنورحسن نے مہمند ایجنسی میں ایف سی کے 23 اہلکاروں کے قتل پر رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں کئی ایسی قوتیں سرگرم ہیں جو مذاکراتی عمل کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھناچاہتیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ فوج اور طالبان کو آپس میں لڑا یا جائے اور اس کے نتیجے میں ملک بھر میں خونریزی کا بازار گرم ہو ۔

خدانخواستہ فوجی آپریشن کیا گیا تو اس کے ہولناک نتائج نکلیں گے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم خود یہ بات کہہ رہے ہیں کہ جب بھی مذاکرات کسی اہم موڑ پر پہنچتے ہیں کسی نادیدہ قوت کی طرف سے ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جس سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ سیدمنورحسن نے کہاکہ طالبان کی شورٰی کا اجلاس گزشتہ روز جاری تھا اور انہوں نے کسی حتمی نتیجے پر پہنچ کر اپنے فیصلے سے آگاہ کرناتھا بلکہ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی بھی بات کی گئی تھی لیکن ایف سی کے اہلکاروں کے قتل کا یہ افسوسناک واقعہ پیش آگیا ۔

سیدمنورحسن نے کہاکہ دونوں فریقوں کو صبر اور حکمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور آپس میں مل بیٹھ کر معاملات کو آگے بڑھاناچاہیے ۔ حکومت کمیٹی کوطے شدہ شیڈول کے مطابق طالبان کی کمیٹی سے ملاقات کر لینی چاہیے تھی اور اس واقعہ کے بارے میں بھی اجلاس میں بات کرلی جاتی تو بہتر تھا۔ اس موقع پر جو ڈیڈلاک پیدا ہوگیاہے اس سے قوم کے اندر مایوسی پیدا ہو ئی ہے ۔ سیدمنور حسن نے امید ظاہر کی کہ کل وزیراعظم نے کمیٹی کا جو اجلاس بلایاہے ، اس میں مثبت فیصلہ کیا جائے گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/02/2014 - 20:27:34

اپنی رائے کا اظہار کریں