اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت عدلیہ اس ملک کے عوام کو جوابدہ ہے ‘ چیف جسٹس ..
تازہ ترین : 1

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت عدلیہ اس ملک کے عوام کو جوابدہ ہے ‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ،مقدمات کے جلد نمٹانے میں بار کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ وکلاء کی معاونت کے بغیر ججز بہترین فیصلے صادر نہیں کر سکتے‘ جسٹس عمر عطاء بندیال

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 فروری ۔2014ء) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت عدلیہ اس ملک کے عوام کو جوابدہ ہے اور ہمیں اس فرض کو پورہ کرنے کیلئے بہترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ فاضل چیف جسٹس ہفتہ کے روز پنجاب بار کونسل میں وکلاء کیلئے سمارٹ کارڈز کے اجراء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اضل چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمات کے جلد نمٹانے میں بار کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ وکلاء کی معاونت کے بغیر ججز بہترین فیصلے صادر نہیں کر سکتے ، اس لئے وکلاء جتنی بہتر معاونت کریں گے ججز اتنے ہی بہتر فیصلے صادر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس طرح دیگر قومی اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں اس طرح وہ بار کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکی بھی مزید مضبوطی کے کوشاں ہیں۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدلیہ نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی جانب سے پرانے مقدمات کو نمٹانے کے ٹارگٹ کو پورا کر لیا ہے اور یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ پنجاب کے 35 اضلاع میں تمام پرانے مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں لیکن صرف لاہور اس دوڑ میں کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف انتظامی معاملات کو بہتر بنانے سے لاہور میں 50 فیصد مقدمات نمٹانے جا سکتے ہیں اور اسی مقصد کیلئے لاہور کی عدلیہ کو دو سیشن کورٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا یہ خالصتاََ مقدمات کو نمٹانے کیلئے انتظامی معاملہ ہے اور اس کا مطلب لاہور کی بار ایسو سی ایشن کو تقسیم کرنا ہر گز نہیں ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے بار ایسو سی ایشنوں کی جانب سے ہڑتال کے کلچر کو ختم کرنے کے اقدام کو بھی سراہا۔ انہوں نے پنجاب بار کونسل کی جانب سے نادرا کے تعاون سے وکلاء کیلئے سمارٹ کارڈ کے اجراء جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے جعلی وکلاء جو کہ بار ایسو سی ایشنوں کے چہرہ پر بدنما دھبا ہیں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

وقت اشاعت : 15/02/2014 - 22:36:28

اپنی رائے کا اظہار کریں