جمہوریت ناکام ہوتو آمریت کو دعوت نہیں دی جا تی ،مزید جمہوریت آنی چاہیے کی بات کی ..
تازہ ترین : 1

جمہوریت ناکام ہوتو آمریت کو دعوت نہیں دی جا تی ،مزید جمہوریت آنی چاہیے کی بات کی جاتی ہے ‘ علماء ومشائخ امن کانفرنس، اگر مذاکرات ناکام ہو بھی جائیں تو بار بار مذاکرات ہو نے چاہئیں، جسم کے ٹکڑے تو کرا سکتے ہیں مولاناسمیع الحق کا ساتھ کبھی نہیں چھو ڑٰینگے، سو سال جنگ کرنے کے بعد بھی ہم نے مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے ،مذاکرات مخالف لابی سر گرم عمل ہو چکی ہے ،محتاط رہنا ہوگا،طالبان مذاکراتی کمیٹی کی حفاظت یقینی بنائی جائے ،کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حکومت ہو گی،امریکی لابی کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں،مو لانا سمیع الحق ،منور حسن، لیاقت بلوچ ،پروفیسر محمد ابراہیم ، مولانا یوسف شاہ ،عبد الغفار روپڑی و دیگر کا خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 فروری ۔2014ء)جمعیت علمائے (اس) کے زیر اہتمام ہونیوالی علماء ومشائخ امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہاگر جمہوریت ناکام ہوتو کبھی بھی آمریت کو دعوت نہیں دی جا تی بلکہ کہا جا تا ہے کہ مزید جمہوریت ہونی چاہیے ، اسی طرح اگر مذاکرات ناکام ہو بھی جائیں تو بار بار مذاکرات ہو نے چاہئیں، اپنے جسم کے ٹکڑے تو کرا سکتے ہیں لیکن مولاناسمیع الحق کا ساتھ کبھی نہیں چھو ڑٰیں گے ، سو سال جنگ کرنے کے بعد بھی ہم نے مذاکرات کی میز پر ہی آنا ہے اس لئے قوت اور طاقت کا استعمال مذاکرات کا نعم البدل نہیں ہو سکتا ،طاقت کے استعمال کی آواز اٹھا نے والے عنا صر فوج اور ریا ستی اداروں کو آپس لڑا نا چاہتے ہیں ، امریکی لابی طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل کے خلاف سرگرم عمل ہے اس لیے طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور اس کے تمام اراکین کی حفاظت یقینی بنائی جائے ورنہ کسی بھی نقصان کی ذمہ دار حکومت ہو گی ۔

علماء و مشائخ امن کانفرنس ہفتہ کے روز مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس سے جے یو آئی (س) کے سربراہ مو لانا سمیع الحق ،امیر جماعت اسلامی کے امیر مو لانا منور حسن، جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم ، طالبان مذاکرات کمیٹی کے کوار ڈی نیٹر مولانا سید محمد یو سف شاہ، جمعیت اہلحدیث کے مولانا عبدالغفار روپڑی، اہل سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا اشرف طاہر ، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی ، سنی اتحاد کونسل کے سردار محمد خان لغاری، مولانا شاہ محمد اویس نو رانی ،مولانا ابتسام الٰہی ظہیر کے نمائندہ حافظ محمد علی یزدانی ،مو لانا عبدالقیوم حقانی ، مولانا حامد الحق حقانی، مولاناعبدالرحیم نقشبندی ،اتحاد العلماء کے سربراہ مو لانا عبدالمالک ، مولانا حمید اللہ جان، مولانا جاوید الحسن، حافظ غازی الدین بابر،مولا نا قدرت اللہ عارف ، حافظ حبیب اللہ عارف ،مولانا زاہد الراشدی ، شاہ عبدالعزیز ، مولانا حاجی عبدالمنان انور ، قا ری زوار بہا در ،جاوید الحسن اور دیگر نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں 200سے زائد جید علماء اکرام اور مشائخ عزام نے شرکت کی ۔سمیع الحق نے کہا کہ اللہ کے ہاں مصالحت بہت پسندید ہے اس لئے ہم طالبان اور حکومت کے درمیان اسکی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ کسی ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے ۔ مذاکرات کے پل صراط سے ہمیں بہت احتیاط سے گزرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں تشدد اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ۔

سید منور حسن نے کہا کہ پو را ملک دہشتگردی کی نظر ہو چکا ہے،یہ ملک بھا رت اور امریکہ کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے، ان حالات میں بھی بالآخر مذاکرات کی میز بچھ گئی ہے جس پر حکومت نے بھی مثبت پیشرفت کا اظہا ر کیا ہے جس سے پو ری امریکی لابی کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ عنا صر یہ باتیں پھیلا رہے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر طاقت کا استعمال ہی واحد حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ہے،اگر جمہوریت ناکام ہوتو کبھی بھی آمریت کو دعوت نہیں دی جا تی ، بلکہ کہا جا تا ہے کہ مزید جمہوریت ہونی چاہیے ، اسی طرح اگر مذاکرات ناکام ہو بھی جائیں تو بار بار مذاکرات ہو نے چاہئیں،مذاکرات کابدل کبھی بھی قوت اور طاقت کا استعمال نہیں ہو سکتا،ہم بنگلہ دیش، بلوچستان اور کر اچی میں طاقت کا استعمال کرنے کے نتائج دیکھ چکے ہیں ،طاقت کے استعمال کی آواز اٹھا نے والے عنا صر فوج اور ریا ستی اداروں کو آپس لڑا نا چاہتے ہیں ، ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے تمام تر وسائل بروئے کا رلائے جانے چاہئیں،ہم مولانا سمیع الحق کے مو قف کی ہر طرح تائید کرتے ہیں ۔پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے عمل میں ہم اس وقت پل صراط سے گز ررہے ہیں،پو ری قوم کی دعاؤں کی ضرورت ہے ، اس وقت طالبان اور حکومت آئین پر بحث کی بجائے اس پر عمل کرنا شروع کریں،حکومت کو اس آئین کو طالبان پر نا فذ کرنے کی بجائے پہلے اس کو خو دتسلیم کرنا ہو گا۔

مولانا سید محمد یو سف شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر روز قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے ، طالبان اور حکومت دونوں کو چاہیے کہ معاملہ صلح کی طرف جائے ، انتشا رنہ پھیلے ، دونوں طرف کمیٹیوں میں شامل علماء کرام کوبھی اسی اصول پر عمل پیر اہونا چاہیے کہ ان کی کسی بات سے اس معاملے میں رکا وٹ پیدا نہ ہو۔مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ طالبان نے آج تک یہ نہیں کہا کہ وہ پاکستانی نہیں ،وہ تو اپنے نام کے ساتھ تحریک طالبا ن پاکستان لکھتے ہیں،ٹھیک ہے ان سے غلطیا ں ہوئی ہیں لیکن اب ہمیں ماضی کی تمام غلطیوں کو بھلا کر مستقبل کا سو چنا ہے،امن ہو گا تو شریعت بھی آئے گی ، معیشت بھی بہتر ہو گی ، ہم طالبان او رحکومت دونوں سے ہاتھ جو ڑ کر رحم کی اپیل کرتے ہیں کہ بس اب اس قوم کا اور خون نہ بہا یا جائے ۔

لیا قت بلو چ نے کہا کہ امریکہ اور بھا رت پاکستان کو ایک نا کام ریا ست ثابت کرنا چاہیے ہیں تاکہ اس خطے میں پاکستان کی اہمیت ختم ہو جائے ، اگر مو جو دہ حکومت نے بھی امریکہ کے ساتھ پر ویز مشرف اور آصف علی زرداری والی پا لیسی جا ری رکھی تو نتائج وہی ہونگے جو پہلے آتے رہے ہیں، تمام قومی قیا دت کو ایک صفحے پر متفق ہو نا چاہیے۔ اہل سنت والجماعت پنجاب کے صدر مولانا اشرف طاہر نے کہا کہ ہم مکمل طور پر مو لانا سمیع الحق پر اعتما دکا اظہا رکرتے ہیں اور اس بات کا اعا دہ کر تی ہے کہ پاکستان ہما ری مسجد ہے ، یہ ہما ر اگھر ہے ، ہم اسے تباہ ہوتا ہو ا نہیں دیکھ سکتے ،اس وقت پو ری قوم کو چاہیے کہ مذاکرات کی کامیا بی کیلئے صلوة الحاجات پڑھے۔

مولانا سعید شیر علی شاہ نے کہا کہ طالبان تو پاکستان کے وفا دا ر ساتھی ہیں ،وہ تمام دارالحقانیہ اور جامعہ اشرفیہ کے علماء کے شاگرد رہے ہیں ،اساتذہ حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کو سمجھائیں۔مولانا شاہ اویس نو رانی نے کہا کہ مو لانا سمیع الحق نے طالبان سے مذاکرات میں اس قد راہم کر دار ادا کرکے تما م دینی جماعتوں کا قرض اتا ردیا ہے، ہمیں 13سال سے لگی ہوئی اس آگ کو بجھانا ہے ، ہمیں میدان میں نکل کر لوگوں کو سمجھا نا ہے کہ سو سال جنگ کرنے کے بعد بھی ہم نے مذاکرات کی میز پر آنا ہے،طالبان سے طاقت کا استعمال کی بات کرنیوالے لو گ ریا ست کے اندر ریا ست بنا نا چاہتے ہیں،ایسا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مولانا عبدالقیوم حقانی نے کہا کہ امریکی لابی طالبان اور پاکستان کے مذاکرات کے خلاف سرگرم عمل ہے اس لیے طالبان مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی حفاظت یقینی بنائی جائے ، اگر خدا نخواستہ کچھ ایسا ہو گیا تواس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی ،ہم اپنے جسم کے ٹکڑے تو کرا سکتے ہیں لیکن مولاناسمیع الحق کا ساتھ کبھی نہیں چھو ڑیں گے ۔

وقت اشاعت : 15/02/2014 - 19:27:29

اپنی رائے کا اظہار کریں