پاکستان بھارت کو آگے بڑھنے کیلئے اعتماد کی فضاء قائم کرنا ہو گی ،بات تجا رت سے ..
تازہ ترین : 1
پاکستان بھارت کو آگے بڑھنے کیلئے اعتماد کی فضاء قائم کرنا ہو گی ،بات ..

پاکستان بھارت کو آگے بڑھنے کیلئے اعتماد کی فضاء قائم کرنا ہو گی ،بات تجا رت سے آگے سرمایہ کا ری کی طرف بڑھنی چاہیے ‘ خرم دستگیر ،ویزا پالیسی کا مسئلہ حل ہونے سے معاشی تعلقات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ، تجا رت کو سیا سی دباؤ سے آزا دہو نا چاہیے ،وفاقی وزیر تجارت کا ایکسپوسنٹر میں دوسرے انڈیا شو کی افتتاحی تقریب سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14 فروری ۔2014ء)وفاقی وزیر تجارت انجینئرخرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ حکومت تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ تعلقات اور تجارت کو بڑھانے کی خواہاں ہے، بھارت اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کا قیام اور ویزا سمیت تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام میں بہتری آنے کے روشن امکانات ہیں،پاکستان او ربھارت کو آگے بڑھنے کیلئے اعتماد کی فضاء قائم کرنا ہو گی ، اب بات تجا رت سے آگے جانی چاہیے اور ہمیں ایک دوسرے کے ممالک میں سرمایہ کا ری کی طرف بھی بڑھنا چاہیے ،ویزا پالیسی کا سخت ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس کے حل ہونے سے معاشی تعلقات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سنٹرلاہور میں دوسرے انڈیا شو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر فیڈریشن آف انڈیاچیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سینئر نائب صدر ڈاکٹر جوتنا سوری،پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر ٹی سی اے راغاوان،سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدروکرم جیت سنگھ سہانی،بھارت کے منسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جوائنٹ سیکرٹری آروندمہتا،لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری اور ٹریڈڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی سیکرٹری رابعہ جوہری سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیر تجار ت نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی کا فروغ دوطرفہ تجارت بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتاہے لہٰذاادونوں ممالک کو اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے چاہئیں اور دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دورکرنے اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے کے لئے کوششیں تیز کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے بے شک تمام مسائل حل نہیں ہوسکتے لیکن اس سے باہمی روابط کوپروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے،اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملتاہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن قائم ہو تاہم دوستانہ تعلقات اور دوطرفہ تجارت آسان بنانے کیلئے دونوں ممالک کی حکومتوں کو کردار اداکرناچاہئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافت کا تبادلہ بہت اہمیت کا حامل ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام میں بہتر تعلقات پیدا ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ٹریننگ انسٹی ٹیوشنز کا تبادلہ اہم کردار اداکرسکتا ہے جس کی بدولت ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں پر تبادلہ خیال ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان ویزا کے حصول کی رکاوٹ کو دور کرنے سے پاک بھارت تجارتی تعلقات میں بہتر پیش رفت ممکن ہوسکتی ہے۔ ۔وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ سمیت تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات چاہتا ہے ،بھارت کے ساتھ معمول کے تجا رتی تعلقات کا فروغ ہماری خواہش ہے اور اس سے دونوں ممالک کی معیشت ترقی کر سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان تجا رت بہت اہم ہے،اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتاکہ پاک بھا رت تعلقات میں بہت سے مسائل ہیں اور تجارت تمام مسائل کو حل نہیں کر سکتی لیکن اس کے ذریعے دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکتا ہے ،دونوں ممالک کو کھل کر تجا رت کرنی چاہیے،پاک بھا رت تجا رت پر 2سالوں میں چار مرتبہ بات چیت ہو چکی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بہتری کی جانب گامزن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تجارت کے ذریعے دونوں ممالک اعتماد کی فضاء کو فروغ دے سکتے ہیں ، تجا رت کو سیا سی دباؤ سے آزا دہو نا چاہیے اوراضطراب کی کیفیت میں تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے اس کیلئے ایک ملک کو نہیں بلکہ دونوں ممالک کو نرمی دکھا نا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادانہ پالیسی اختیا ر کرنا ہو گی ،ویزا پالیسی کا سخت ہونا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس کے حل ہونے سے معاشی معاملات میں بہت سے نئے مواقع پید اہوسکتے ہیں۔

بزرگ شہریوں کو آزادانہ آنے جانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکے علاوہ دونوں ممالک میں ثقافتی طائفوں کا تبادلہ ہو نا چاہیے بلکہ صرف یہی نہیں ہر شعبے میں وفو دکا تبادلہ ہو نا چاہیے،ہمیں چاہیے کہ اعتما دکی فضا کو بحال کریں ، اب تو بات تجا رت سے آگے جانی چاہیے اور اب ہمیں سرمایہ کا ری کی طرف بڑھنا چاہیے ۔صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری وکرم جیت سنگھ ثانی نے کہا کہ پاکستان اور بھا رت دونوں ممالک میں لاکھوں کروڑوں لوگ بھو ک سے مر رہے ہیں ، ہمیں اپنے دفاع کیلئے اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے ان غریبوں کا خیال کرنا چاہیے اور دونوں ملکوں کی عوام کی فلا ح و بہود کیلئے سو چنا چاہیے،انڈیا شو سے دوطرفہ تعلقات کا ایک نیا سو رج طلو ع ہو اہے اس سے ایک نیا باب شروع ہو گا۔

دونوں ممالک میں تعلقات اس قد راچھے ہونے چاہئیں کہ واہگہ بارڈر ہفتے میں چوبیس گھنٹہ کھلا رہا اور یہ کبھی بند نہ ہو ،تجارت کیلئے مختص کر دہ چیزوں کی فہرست میں اضافہ ہونا چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ہاں اپنے بینکوں کی برانچز قائم کرنی چاہیے ۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سینئر نائب صدر جو سنا سوری نے کہا کہ لاہور ہمارے بابل کا گھر ہے ، بے مثال مہمان نو ازی پر شکر گزا رہیں،مہمان نوازی سے پاکستانیوں نے ہما رے دل جیت لیے ہیں،2012کاانڈیا شو پہلی کامیا بی تھی ،پاکستان اور بھا رت علاقائی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں،ہم سیا سی طور پر بھی امن چاہتے ہیں،ہمیں اب تجا رت کی باتوں سے اور بھی آگے جا نا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور بھا رت کی دو طرفہ تجا رت کو معمول پر لا نا چاہتے ہیں ،یہ یکطر فہ نہیں بلکہ دو طرفہ تعلقات ہونی چاہیے ۔بعد ازاں وفاقی نے مختلف سٹالز کا دورہ کرکے بھارتی نمائش میں دلچسپی کا اظہار کیا ۔دونوں ہمسایہ ممالک میں سیاحت اور فوڈ سمیت دوسرے شعبوں میں بہت مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کر کے دوطرفہ تجارت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے اور بھاری زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتاہے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کا تبادلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔تجارت میں رکاوٹیں آتی ہیں اور دورہوجاتی ہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔اس موقع پر میاں محمود نائب صدر ایف پی سی سی آئی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔بعدازاں وفاقی وزیر نے تین روزہ انڈیاشو کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

وقت اشاعت : 14/02/2014 - 19:49:32

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں