پاکستانی کنو بھارت میں دوگنے نرخوں پر بک سکتاہے مگر بھارت درآمد کی اجازت نہیں ..
تازہ ترین : 1

پاکستانی کنو بھارت میں دوگنے نرخوں پر بک سکتاہے مگر بھارت درآمد کی اجازت نہیں دے رہا‘ ابراہیم مغل

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12فروری 2014ء) پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ پاکستانی کنو بھارت میں دوگنے نرخوں پر بک سکتاہے مگر ہمارے حکمرانوں کا پسندیدہ بھارت پاکستانی کنو کی درآمد کی اجازت نہیں دے رہا، اس وقت بھارت میں پاکستانی معیار کا کنو پاکستانی روپوں میں 190روپے درجن بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایگری فورم نے پاکستانی کاروباری طبقہ اور حکومت سے کئی بار درخواست کی ہے کہ وہ پاکستانی کنو بھارت کو برآمد کرکے 20سے30کروڑ ڈالر کمائے مگر جو اب ملتا ہے کہ بھارتی حکومت نے پاکستانی کنو پر 25%ڈیوٹی لگا کر پاکستانی کنو کی بھارت میں درآمد نہ ممکن بنا دی ہے اس کے علاوہ اگر کوئی شخص بھارت کوئی چیز بھیج بھی دیتا ہے تو بھارتی محکمہ جات اور کسٹم کے آفیسران ٹیسٹوں کے نام پر ٹرک کو 6سے7دن کیلئے روک دیتے ہیں جس سے ٹرک میں موجود تمام مال ضائع اور گل سڑجاتا ہے جس سے پاکستان کو فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے ۔

ایگری فورم پاکستان نے وزیر تجارت پاکستان اور حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے مادرپدر آزاددرآمد پالیسی بنانے والے بھارت کو پاکستان سے مال خریدنے پر قائل کیوں نہیں کر پارہے بنیاء صرف وہی کام کررہا ہے جس سے بھارت کو فائدہ اور پاکستان کو نقصان ہوتا ہے اس تناظر میں پاکستانی تاجروں اور حکمرانوں کی بھارت کے متعلق آنکھیں کھل جانی چاہیں۔

وقت اشاعت : 12/02/2014 - 14:34:34

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں