مذاکراتی کمیٹی وزیر اعظم سے مل سکتی ہے تو اسے آرمی چیف سے بھی ملنا چاہیے ،فوج کے ..
تازہ ترین : 1

مذاکراتی کمیٹی وزیر اعظم سے مل سکتی ہے تو اسے آرمی چیف سے بھی ملنا چاہیے ،فوج کے سربراہ کو مذاکرات کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے ‘سراج الحق

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7فروری 2014ء) خیبرپختوانخواہ کے سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر مذاکراتی کمیٹی وزیر اعظم سے مل سکتی ہے تو اسے آرمی چیف سے بھی ملنا چاہیے اورفوج کے سربراہ کو بھی مذاکرات کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے ‘ پاکستان میں جمہوریت نہیں آئی یہاں مسلح دہشتگردی کے علاوہ سیاسی اور معاشی دہشتگردی بھی ہے جس نے جمہور اور اسمبلی کو یر غمال بنایا ہوا ہے ‘ ممکن ہے کہ امریکہ مذاکرات کوسبوتاژ کرنے کیلئے وار کرے لیکن حکومت اور طالبان کو اسے ناکام بنانا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک میں کراچی سے چترال تک بد امنی پھیلی ہوئی ہے ،مذاکرات میں صرف کسی ایک علاقے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں امن کی بات ہونی چاہیے ۔ مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں ایک ہزار سپیڈ بریکرز ہیں لیکن ابھی تک دونوں فریقین کی طرف سے جن مثبت خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے یہ انتہائی خوش آئند ہے ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں گزشتہ کئی سالوں سے نیٹو افواج کے خلاف بر سر پیکار افغان بھی مذاکرات کے حق میں ہے اور اسکی کامیابی چاہتے ہیں کیونکہ پر امن اور مستحکم پاکستان ہی نہ صرف اہل افغانستان بلکہ دنیا بھر میں جاری تحریکوں کے لئے سود مند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلتے ہوئے اپنی ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر گرانا چاہتا ہے اس لئے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں او رپاکستان کے آئین میں بھی اسے تسلیم کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایک طبقہ ایسا ہے جو چاہتا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوں ۔افغانستان میں موجود بھارتی لابی کے علاوہ مختلف بیرون ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اور اور پاکستان کے اندر موجود سیکولر طبقہ ہے پہلے روز سے ناکامی کی پیشگوئیاں کر رہا ہے ۔

ضروری نہیں کہ امن خون ریزی سے آئے ۔ دہشتگردی کی جنگ میں ہماری معیشت تباہ ہو گئی اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے آ ج بھی 17ہزار خاندان بے گھر ہیں ۔ انہوں نے شہداء کے ورثاء کی طرف سے طالبان سے جنگ کے مطالبے کے سوال پر کہا کہ اس جنگ میں سب سے خیبر پختوانخواہ اور قبائلی علاقوں میں شہادتیں ہوئی ہیں اور سب شہداء کے ورثاء چاہتے ہیں کہ ملک میں امن قائم ہو کوئی بھی ایسا نہیں جو جنگ چاہتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف حکمت عملی نہیں بنا سکے ۔ خیبر پختوانخواہ کی مخلوط حکومت نے اپنی استعداد کے مطابق احتجاجاًنیٹو سپلائی روکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا حال ہی میں بیان آیا ہے کہ خیبر پختوانخواہ اور قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور جب بھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے اسے القاعدہ یاد آ جاتی ہے ۔

جس طرح امریکہ نے پہلے امن عمل کو سبوتاژ کیا ممکن ہے کہ وہ اب بھی مذاکرات پر وار کرے لیکن حکومت اور طالبان کودانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے ناکام بناناہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے حالیہ ہونے والے دھماکوں سے لا علمی کا اظہار کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ کوئی تیسری قوت ہے جو پاکستان میں ہونیوالے دھماکوں میں ملوث ہے ۔ انہوں نے فوج کے حوالے سے کہا کہ فوج ایک ادارہ ہے اور فوج کہہ چکی ہے کہ پالیسی حکومت بناتی ہے اور وہ اسکے مطابق چلتی ہے لیکن اگر مذاکرتی کمیٹی وزیر اعظم نواز شریف سے مل سکتی ہے تو اسے آرچیف سے بھی ملنا چاہیے ۔

ہمارے حکمران چھوٹے چھوٹے معاملات پر بیرون ممالک کے دورے کرتے ہیں لیکن اس معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔ پالیسی بیشک حکومت بناتی ہے لیکن فوج کے سربراہ کو اس عمل کی کھل کر حمایت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے مذاکرات کی نگرانی کو قبول کرنا خوش آئند ہے تو قع ہے کہ ان معاملات کا مثبت نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں منحوس پیشگوئیوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور اچھے کی امید رکھنی چاہیے ۔ صحافی بھی منفی پہلو تلاش کرنے کی بجائے مثبت طرز عمل اپنائیں۔

وقت اشاعت : 07/02/2014 - 16:04:30

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں