قوم مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے ،ملک کو دہشت گردی سے بچانے اور قیام امن کیلئے مذاکرات ..
تازہ ترین : 1

قوم مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے ،ملک کو دہشت گردی سے بچانے اور قیام امن کیلئے مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے ‘ سید منور حسن ،مثبت حکومتی رویے سے بہتری کی امیدپیدا ہوئی ہے ،طالبان بھی خدشات اور تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھلے دل سے مذاکرات کریں،دونوں اطراف کی کمیٹیوں کو غیر معمولی صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا‘ امیر جماعت اسلامی کی منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6 فروری ۔2014ء) امیر جماعت اسلامی سید منورحسن نے کہا ہے کہ قوم مذاکرات کی کامیابی چاہتی ہے ،ملک کو دہشت گردی سے بچانے اور قیام امن کیلئے مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے ،اب تک کے مثبت حکومتی رویے سے بہتری کی امیدپیدا ہوئی ہے ،طالبان بھی خدشات اور تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھلے دل سے مذاکرات کریں ،دونوں اطراف کی کمیٹیوں کو غیر معمولی صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا، معمولی نوعیت کے اختلافات میں پڑنے کی بجائے مسئلے کے حل پر توجہ مذکور رکھنا ہوگی۔

اگر مذاکرات تعطل کا شکار یا ناکامی سے دوچارہوتے ہیں تو انتشار پسند قوتوں کے عزائم کی تکمیل ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سید منورحسن نے کہا کہ جب سے وزیر اعظم نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اعلان کیا ہے سیکولر و امریکی لابی ہکا بکا رہ گئی ہے ان کی زبانیں گنگ ہوگئی ہیں اور پریشانی میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا ،جو لوگ امریکی ایماء پر ملک میں افراتفری اور انتشار پیدا کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہے تھے ان کے چہروں پر اوس پڑگئی ہے اور انہیں اپنی سازشیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ،انہوں نے کہا کہ اب حکومت اور طالبان دونوں کا فرض ہے کہ وہ کھلے ذہن اور دل و دماغ کے ساتھ مذاکرات کی میزپر بیٹھیں اور ملک دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادیں ۔

انہوں نے کہا کہ جب تک خطے میں امریکہ موجود ہے پاکستان کے خلاف سازشوں کا بازار گرم رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی بھلائی اسی میں ہے کہ حکومت امریکی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مذاکرات کو ہرصورت نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کرے۔ سید منور حسن نے کہا کہ طالبان کی حامی قوتوں کو مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ۔

ملک میں امن و امان کا قیام اور قانون کی بالادستی ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔انارکی اور لاقانونیت کا ایک ہی علاج ہے کہ قانون کی عمل داری اور آئین کی بالادستی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ماری قوم کی نظریں مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں ،اب حکومت کو بڑے پن اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔سید منور حسن نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے اپیل کی ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے خبروں میں انتہائی احتیاط سے کام لیں اور غیر ضروری مفروضوں پر مبنی مباحث سے اجتناب برتیں ۔

وقت اشاعت : 06/02/2014 - 20:18:29

اپنی رائے کا اظہار کریں