نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ، تحریک طالبان سنجیدہ ہے تو سیز فائر ..
تازہ ترین : 1
نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ، تحریک طالبان سنجیدہ ہے ..

نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ، تحریک طالبان سنجیدہ ہے تو سیز فائر کا اعلان کرے‘ رحمان ملک

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6فروری 2014ء)سابق وفاقی وزیر داخلہ وپیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف اور حکومتی ٹیم مذاکرات کیلئے مخلص ہے، تحریک طالبان پاکستان سنجیدہ ہے تو سیز فائر کا اعلان کرے، حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دے،پیپلزپارٹی دور میں حالات بہتر اور قتل و غارت ختم ہوجاتی تو براہمداغ بگٹی کو پاکستان آنے پر گورنر بلوچستان بھی بنایا جاسکتا تھا، امریکی شہری جان سلوکی کے اغوا ء میں براہمداغ بگٹی کے لوگ ملوث تھے، ان کا فون ٹریس کیا تو پتہ چلا کہ کال افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے آئی ہے اور اس بات سے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو بھی آگاہ کیا۔

ایک انٹر ویو میں رحمان ملک نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ قابل تعریف ہے ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں، دیکھنا ہوگا کہ دوسرا فریق بات چیت کیلئے کس حد تک تیار اور نیک نیت ہے، نواز شریف اور حکومتی ٹیم خلوص نیت کے ساتھ آگے جارہے ہیں، طالبان کو ظالمان اسی لئے کہتا ہوں کہ وہ بدنیت ہیں اور رہیں گے وہ مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں بھی دہشتگردی کا سامنا رہا، ہماری حکومت نے آپریشن کا فیصلہ کیا، امن مذاکرات اب مذاق میں تبدیل ہوچکے ہیں، میاں صاحب نے کہہ دیا کہ گیند اب طالبان کے کورٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے پاکستان کے ساتھ کھیل کھیلا ہے، حکومتی کمیٹی کے جواب میں ان لوگوں پر مشتمل مذاکراتی ٹیم بنائی جو (ن )لیگ کے سیاسی مخالفین ہیں، طالبان کے رہنما سامنے نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ تحریک طالبان کالعدم تنظیم ہے، اس کے رہنما پاکستان میں بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں، انسداد دہشتگردی قانون کے تحت ملزمان کو گرفتار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیخلاف نہیں، کیا طالبان کیلئے نیا این آر او لایا جائے گا؟۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں طالبان سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جس کے گواہ سینیٹ کے کچھ ممبران بھی ہیں، نام وقت آنے پر بتا ؤں گا۔

طالبان سے کہا تھا کہ پاکستان کے پرچم اور آئین کو تسلیم کرلیں تاہم ان کا اصرار شریعت کے نفاذ پر تھا۔انہوں نے کہا کہ روس کے خلاف افغان جنگ میں مذہبی لوگوں کو استعمال کیا گیا، جہاد کے نام پر پاکستان کو جنگ میں جھونکا گیا، بھارتی ایجنسی ’را‘ اور افغان ایجنسی ’خاد ‘پاکستان میں بم دھماکے کرتے تھے، افغانستان ہمارے ساتھ مخلص نہیں، ملا فضل اللہ کا وہاں ہونا ہمارے لئے باعث تشویش ہے، افغانستان کا ایک وزیر بیت اللہ محسود کو رقم سے بھرے تھیلے دیتا تھا۔

افغان صدر حامد کرزئی سے ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا، بی ایل اے کے لوگوں کو قندھار میں تربیت دینے کے ثبوت بھی فراہم کئے تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔رحمان ملک نے بتایا کہ براہمداغ بگٹی نے ملاقات کرنے سے تیسرے ملک کے کہنے پر انکار کردیا، حیربیار اور رزین مری سے ملاقاتیں ہوئیں، خان آف قلات اور رزین مری آزادی کا اعلان کرنا چاہتے تھے، میری درخواست مانتے ہوئے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ حیربیار مری اور ان کے بھائی کیخلاف جسٹس مری کے علاوہ تمام مقدمات ختم کرائے، انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی تاہم وہ خود نہیں آئے، آج بھی ملک میں واپسی کی دعوت دیتا ہوں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی شہری جان سلوکی کے اغوا ء میں براہمداغ بگٹی کے لوگ ملوث تھے، ان کا فون ٹریس کیا تو پتہ چلا کہ کال افغان صدر حامد کرزئی کے محل سے آئی ہے، اس بات سے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو بھی آگاہ کیا۔

جان سلوکی کا اغوا ء پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش تھی، بلوچ سرداروں کی مدد سے امریکی شہری کو بازیاب کرایا۔رحمان ملک کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی دور میں حالات بہتر اور قتل و غارت ختم ہوجاتی تو براہمداغ بگٹی کو پاکستان آنے پر گورنر بلوچستان بھی بنایا جاسکتا تھا، بلوچستان سمیت پاکستان میں دہشت گردی میں بیرونی عناصر ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان انٹیلی جنس کالعدم تحریک طالبان کے پیچھے ہے، طالبان مذاکرات میں سنجیدہ ہیں تو سیز فائر کا اعلان کردیں، میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ ٹی ٹی پی کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دے، حکومت کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔

رحمان ملک نے کہا کہ اگر طالبان دہشت گردی ختم کرنے کا اعلان کردیں تو حالات بہتر ہونا شروع ہوجائیں گے تاہم جو لوگ طالبان کو پیسہ دیتے ہیں وہ یہاں امن نہیں ہونے دیں گے، لشکر جھنگوی کے بھی بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا، ملزمان کو سزا دینا عدالتوں کا کام ہے، مجھے اب بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان نے پارلیمنٹ کو اینٹی اور پرو طالبان میں تقسیم کردیا، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے شمالی وزیرستان، جھنگ، جنوبی پنجاب اور کراچی کے کچھ علاقوں میں آپریشن کرنا ہوگا، اس کیلئے افغانستان کو بھی آن بورڈ لینا چاہئے۔

الطاف حسین سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ الطاف حسین سے دوستی کی بنیاد پر تعلقات ہیں، الطاف حسین کو ہمیشہ پاکستان کا خیر خواہ پایا ان کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں 2 افراد کو کراچی سے حراست میں لئے جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/02/2014 - 13:39:23

اپنی رائے کا اظہار کریں