بلدیاتی حلقہ بندیوں کیلئے حکومت نہیں الیکشن کمیشن مجاز ہے ،ہائیکورٹ کے لارجر ..
تازہ ترین : 1

بلدیاتی حلقہ بندیوں کیلئے حکومت نہیں الیکشن کمیشن مجاز ہے ،ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کا تفصیلی فیصلہ جاری ،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے 91صفات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،جسٹس فرخ عرفان خان نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے،الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں اور انتخابات کیلئے اقدامات کرے ،امیدواروں اور ووٹرز کے سمجھنے کیلئے فیصلے کو اردو ترجمے کیساتھ مشتہر کیا جائے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3 فروری ۔2014ء)لاہور ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات کیلئے کی گئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے 91صفات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جبکہ جسٹس فرخ عرفان خان نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے ، عدالت نے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے لئے حلقہ بندیوں کا مجاز ہے ،الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں اور انتخابات کیلئے اقدامات کرے جبکہ فیصلے کو اردو ترجمے کے ساتھ مشتہر کیا جائے تاکہ امیدوار وں اور ووٹرز کو سمجھنے میں آسانی رہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں لارجر بنچ نے 31دسمبر 2013ء کو پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کیلئے کی جانیوالی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے کا مختصر فیصلہ دیا تھا ۔ سوموار کے روز کیس کا 91صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کی شق آٹھ تا دس غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

حلقہ بندیاں کرنا حکومت کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے۔فیصلے میں حلقہ بندیوں کے رولز3تا 8کو بھی غیر آئینی قرار دیا گیا ہے ۔ فیصلے میں حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جلد حلقہ بندیوں اور انتخابات کیلئے اقدامات کرے ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے اور نہ ہی اسکے لئے کوئی مناسب فورم ہے ۔

فیصلے کیخلاف 184درخواستوں کو منظور کر لیا گیا ۔ علاوہ ازیں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ میں شامل جسٹس فرخ عرفان خان جو بعد ازاں لارجر بنچ میں بھی شامل تھے نے دو صفحات کا اضافی نوٹ بھی لکھا ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی ہے کہ 91صفحات پر مشتمل فیصلے کو اردو زبان میں مشتہر کیا جائے تاکہ امیدواران اور ووٹرز کو سمجھنے میں آسانی رہے۔

وقت اشاعت : 03/02/2014 - 21:10:17

اپنی رائے کا اظہار کریں