پنجاب کابینہ کا اجلاس،ملتان ، فیصل آباد اور راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس منصوبوں ..
تازہ ترین : 1

پنجاب کابینہ کا اجلاس،ملتان ، فیصل آباد اور راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس منصوبوں کی منظوری دے دی گئی،راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد 28 فروری کو رکھا جائیگا ،ملتان اور فیصل آباد میں منصوبے رواں برس شروع ہونگے، میٹرو بس منصوبوں کو تیز رفتاری اور شفاف طریقے سے مقررہ مدت کے اندر مکمل کرینگے ، منصوبے شفافیت اور اعلیٰ معیار کا شاہکار ہونگے،24 اضلاع میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا کام جون تک اور باقی 12 اضلاع میں دسمبر 2014ء تک مکمل کیا جائیگا، منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی ، تھانوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے جامع پروگرام وضع کیا جائے، وزیراعلیٰ کی ہدایت، پنجاب حکومت ساہیوال میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے 660 میگاواٹ کے 2 پلانٹس لگائیگی، شہباز شریف کا کابینہ اجلاس سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔1 فروری ۔2014ء)پنجاب کابینہ نے ملتان ، فیصل آباد اور راولپنڈی،اسلام آباد میٹرو بس منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دیدی ہے، راولپنڈی،اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کا سنگ بنیاد 28 فروری کو رکھا جائے گا جبکہ ملتان اور فیصل آباد میں میٹرو بس پراجیکٹس پر رواں برس کے آخر میں کام کا آغاز کر دیا جائے گا، صوبے کے 36 اضلاع میں پنجاب لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت اراضی کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل دسمبر2014ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی زیرصدارت پنجاب کابینہ کا ہفتہ کے روز یہاں اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ لاہور میں میٹرو بس پراجیکٹ کے کامیاب منصوبے کے بعد پنجاب حکومت نے صوبے کے 3 بڑے شہروں ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں میٹرو بس سروس کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے۔

راولپنڈی۔اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ 11 ماہ میں جبکہ ملتان اور فیصل آباد کے منصوبے 10 ماہ میں مکمل کئے جائیں گے۔ راولپنڈی۔اسلام آباد میٹرو بس منصوبہ فلیش مین ہوٹل سے شروع ہوگا اور اسلام آباد سیکرٹریٹ تک جائے گا۔ راولپنڈی میں تعمیر ہونے والا میٹرو بس کا 8.6کلومیٹر طویل کا تمام منصوبہ ایلیویٹڈ (پل پر مشتمل) ہوگا جبکہ 14.6 کلومیٹر طویل روٹ اسلام آباد میں ایٹ گریڈ ہوگا۔

منصوبے پر مجموعی طو رپر 38 ارب روپے لاگت آئے گی۔ روزانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسافر آرام دہ، باکفایت اور تیز رفتار سفری سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔ 60 میٹرو بسیں راولپنڈی۔اسلام آباد میٹرو روٹ پر چلیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ راولپنڈی۔اسلام آباد کے منصوبے کو انتہائی تیز رفتاری اور شفاف طریقے سے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ میٹرو بس کے تمام منصوبے شفافیت اور اعلیٰ معیار کا شاہکار ہوں گے۔

انہو ں نے ہدایت کی کہ راولپنڈی۔اسلام آباد میٹرو بس پراجیکٹ پر کام کے دوران ٹریفک رواں دواں رکھنے کیلئے مربوط منصوبہ بندی کی جائے اور عوام کی سہولت کا خاص خیال رکھا جائے۔ زمین کے حصول کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے اور اس ضمن میں انہوں نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی اراضی کے حصول کے عمل کی نگرانی کرے اور ہر ماہ 2 بار راولپنڈی جا کر اراضی کے حصول اور معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کا خود جائزہ لے۔

انہو ں نے کہا کہ منصوبے کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کیلئے دن رات کام کیا جائے گا۔ ملتان اور فیصل آباد میں میٹرو بس پراجیکٹ کو دبئی کے میٹرو سسٹم کے طرز پر تعمیر کیا جائے گا اور یہ منصوبے رواں سال میں شروع کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایل آر ایم آئی ایس)انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور اس منصوبے کی تکمیل سے کرپٹ پٹوار کلچر سے عوام کو نجات ملے گی۔

فرد ملکیت کیلئے طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور 50 منٹ میں فرد ملکیت کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا کام صوبے کے 24 اضلاع میں جون 2014ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ باقی 12 اضلاع میں اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا کام دسمبر 2014ء تک مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کیلئے انڈی پینڈنٹ ایویلیوشن سسٹم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کو وضع کرکے ایل آر ایم آئی ایس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

انہو ں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے پر 14 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل سے اراضی کے تنازعات کونمٹانے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے ہدایت کی کہ جن تحصیلوں میں سروس سینٹرز مکمل ہوچکے ہیں وہاں متعلقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے وزراء اور اراکین اسمبلی پر مشتمل ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو کہ سروس سینٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کیلئے عملے کی بھرتی کا تمام عمل سوفیصد شفاف انداز میں مکمل کیا جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کو مقررکردہ مدت کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ کمشنر ز اور ڈی سی اوز اور ریونیو افسران لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو جلد مکمل کریں۔ منصوبے میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ہدف پورا نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اراضی کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے منصوبے کی طرز پر تھانوں کو بھی کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے جامع پروگرام وضع کیا جائے اور اس سلسلے میں تیز رفتاری سے پیش رفت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے تاہم حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ پنجاب حکومت نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگانے کیلئے ایک جامع پروگرام وضع کیا ہے جس کے تحت پنجاب حکومت نے چھ مقامات پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس لگانے کیلئے اراضی کا انتخاب کر لیا ہے۔

ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو کول پاور پلانٹس لگانے کیلئے خصوصی سہولتیں دیں گے۔ پنجاب حکومت ساہیوال میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے 660 میگاواٹ کے 2 پلانٹس لگائے گی۔ انہو ں نے کہا کہ بجلی ہوگی تو معیشت ترقی کرے گی، زراعت پھلے پھولے گی، صنعت کا پہیہ چلے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت اس شعبہ میں خود آگے آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہاولپور میں 10 ہزار ایکڑ پر قائداعظم سولر پارک بنایا جا رہا ہے۔ قائداعظم سولر پارک میں پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 100 میگاواٹ کا سولر پلانٹ لگائے گی جس کی فزیبلٹی مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ منصوبہ رواں سال مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی طرح نندی پور پاور پراجیکٹ پر دن رات کام جاری ہے اور انشاء اللہ اس منصوبے کی پہلی ٹربائن مئی میں کام شروع کردے گی جس سے 150میگاواٹ تک بجلی پیدا ہوگی۔

تونسہ ہائیڈل پراجیکٹ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ 120میگاواٹ کا یہ منصوبہ جلد مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کے خاتمے کیلئے ہماری مخلصانہ کاوشیں ضرور رنگ لائیں گی۔ ہم سب کو ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کرنا ہے۔ عوام کے مفاد کی خاطر ہر فیصلہ کریں گے۔ اجلاس میں پنجاب فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن بل 2013ء اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2012ء کی منظوری دی گئی۔ کمشنر راولپنڈی نے راولپنڈی۔اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نے لینڈریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری توانائی نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/02/2014 - 19:37:16

اپنی رائے کا اظہار کریں