ماں بچہ کی صحت کے حوالے سے ایم ڈی جی گولز کا حصول یقینی بنایا جائے ‘ مشیر وزیر ..
تازہ ترین : 1

ماں بچہ کی صحت کے حوالے سے ایم ڈی جی گولز کا حصول یقینی بنایا جائے ‘ مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب برائے صحت

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 29 جنوری 2014ء )مشیر وزیر اعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے محکمہ صحت خصوصا ایم این سی ایچ پروگرام کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ ماں بچہ کی صحت کے حوالے سے میلینم ڈویلپمنٹ گولز کے تحت مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں مدر ،نیونیٹل اینڈ چائلڈہیلتھ پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ پنجاب بابر حیات تارڑ،ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ ڈویلپمنٹ غلام فرید،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹر انور جنجوعہ،ڈپٹی سیکرٹری ڈویلپمنٹ عبدالحق بھٹی ،ڈائریکٹر ایم این سی ایچ پروگرام ڈاکٹر ظفر اکرام ،ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر تنویر احمد،ڈائریکٹر لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام ڈاکٹر جاوید عمر اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ایم این سی ایچ پروگرام کا مقصد صوبے میں ماں بچہ کی صحت کی سہولیات کو مزید توسیع دینا ،دوران زچگی اور 5سال تک کی عمر کے بچوں کی شرح اموات کو کم کرنا،کم غذائیت کا شکار بچوں کے مسائل حل کرنا اور صوبے کے دوردراز علاقوں تک ڈلیوری کیلئے مستند اور تربیت یافتہ خواتین کی تعیناتی کو یقینی بنانا ہے ۔واجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ دوران زچگی ماں بچہ اور 5سال تک کی عمر کے بچوں کی شرح اموات کوایم ڈی جیز کے اہداف کے مطابق کم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے جس کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر اکرام نے بتایا کہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دوران زچگی اموات کی شرح ایک لاکھ خواتین میں سے 227ہے جسے 2016ئتک کم کر کے ایک لاکھ میں سے 140تک لانے کا ہدف ہے۔اسی طرح ایک ہزار بچوں میں سے 104بچے ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن کی شرح کو 52تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے -سیکرٹری صحت بابر حیات تارڑ نے کہا کہ اسہال سے ہونے والی ہلاکتوں کو کم کرنے کیلئے او آر ایس کے استعمال کو بڑھانے ،حفظان صحت کے اصولوں اور ڈلیوری لیڈی ڈاکٹر یا سکلڈ برتھ اٹنڈنٹ کی نگرانی میں کرانے کا شعور بیدار کرنے کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے آگاہی پر خصوصی توجہ دی جائے اور دیہی علاقوں میں ہیلتھ میلوں کا انعقاد کیا جائے تا کہ دیہی خواتین میں صحت کے بارے شعور کو اجاگر کیا جائے۔

وقت اشاعت : 29/01/2014 - 13:30:52

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں