جس ادارے کو طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، وہی اس کو ادا کریگا ..
تازہ ترین : 1

جس ادارے کو طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، وہی اس کو ادا کریگا ، سینیٹر پرویز رشید ،تحریک انصاف طالبان کا سیا سی ونگ ہے ،عمران خان کو چاہیے وہ دہشت گردوں کے حملوں کی مذمت کریں ،تاکہ قوم کو اطمینا ن حاصل ہو ،طالبا ن خلافت چاہتے ہیں لیکن حکومت ان کیساتھ آئین پاکستان کے تحت آگے بڑھنا چاہتی ہے‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27 جنوری ۔2014ء) وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے حوالے سے تمام ادارے اپنی ذمہ داریا ں پو ری کر رہے ہیں ،اب یہ طے ہوچکاہے کہ جس ادارے کو جو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، وہی اس کو ادا کر ے گا اور باہر کے کسی شخص یا مذہبی گروہ کو یہ اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی ،تحریک انصاف طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے ،یہ طالبان کا سیا سی ونگ ہے ،عمران خان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے حملوں کی مذمت کریں اور ایک واضح بیان دیں تاکہ پاکستانی قوم کو اطمینا ن حاصل ہو کہ تمام جماعتیں ایک ہی نقطہ پر متقق ہیں ۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو دہشتگردی کے افریط سے نجات دلوائے ،شرعی ، آئینی و اخلاقی طور پر دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے چاہییں ۔ریاست اپنے اس فرض کو پورا کررہی ہے ، طالبان آئین کو نہیں مانتے ، وہ خلافت چاہتے ہیں ، لیکن حکومت ان کے ساتھ آئین پاکستان کے تحت آگے بڑھنا چاہتی ہے ۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کے حوالے سے تمام ادارے کام کررہے ہیں اوراپنی ذمہ داریا ں پو ری کر رہے ہیں ،اب یہ طے ہوچکاہے کہ جس ادارے کو جو ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، وہی اس کو ادا کر ے گا اور باہر کے کسی شخص یا مذہبی گروہ کو یہ اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی کہ وہ یہ ذمہ داریاں اداکریں ۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت اس بات کومزید واضح کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے حملوں کی مذمت کریں اور ایک واضح بیان دیں تاکہ پاکستانی قوم کو اطمینا ن حاصل ہو کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی نقطہ پر متقق ہیں۔پاکستان تحریک انصاف طالبان کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے ، یہ کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہو نا چاہیے ،یہ طالبان کیلئے سڑکوں پر کھڑا ہو کر ان کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں ،یہ طالبان کا سیا سی ونگ ہیں اور اس لحاظ سے ان کی پوری نمائندگی کرتے ہیں ،یہ ان کی شکایتیں اور زیادتیاں اپنی زبان میں بیان کر تے ہیں۔

میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے تحریک انصاف سے کو ئی بات چھپائی نہیں جائے گی ،ان کی اس مسئلے کوپارلیمنٹ میں لانے کی خواہش پو ری کی جائے گی اور ان کے پارلیمانی لیڈران سے بھی گفتگو کی جائے گی ۔لیکن انہیں چاہیے کہ اپنا طر ز عمل درست کریں اورطالبان کے دہشتگردی کے حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کریں ۔

وقت اشاعت : 27/01/2014 - 22:07:02

اپنی رائے کا اظہار کریں